حکومتی پناہ گاہیں: سخت سردی میں لاہور کے بےگھر افراد کہاں جائیں؟

پناہ گاہ
    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

لاہور سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں آج کل کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے اور اسی سرد موسم کے پیشِ نظر وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی فرد سردی میں کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور نہ ہو۔

لیکن لاہور میں ایسے افراد میں شاید خواتین کو شمار نہیں کیا جا رہا کیونکہ حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی پناہ گاہوں میں شہر میں موجود بےگھر خواتین داخلے سے محروم ہیں۔

بےگھر افراد کے لیے پناگاہوں کی تعمیر کا اعلان 2018 میں عمران خان کی جانب سے ہی کیا گیا تھا اور خود انھوں نے نومبر 2018 میں لاہور ریلوے سٹیشن کے سامنے پہلی پناہ گاہ کا سنگ بنیاد بھی رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

فی الوقت لاہور کے پانچ مختلف مقامات ٹھوکر نیاز بیگ، داتا دربار، شاہدرہ، لاری اڈہ اور ریلوے سٹیشن پر پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں جن میں کُل 750 افراد کی گنجائش موجود ہے۔

ان پانچوں پناہ گاہوں میں 115 خواتین کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی تھی اور جہاں ٹھوکر نیاز بیگ، شاہدرہ، لاری اڈہ اور ریلوے سٹیشن پر قائم پناہ گاہوں میں 20، 20 خواتین قیام کر سکتی تھیں جبکہ داتا دربار کی پناہ گاہ میں 35 خواتین کے رہنے کا بندوبست کیا گیا تھا۔

لیکن انتظام کے باوجود اس سرد موسم میں خواتین کو ان پناہ گاہوں میں پناہ نہیں مل رہی ہے۔

داتا دربار پر قیام پذیر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی نورین نامی بےگھر خاتون نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچوں نے ان پر تشدد کر کے انھیں گھر سے نکال دیا ہے اور اب ان کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اس لیے وہ دربار کے احاطے میں ہی رہتی ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ان کا کہنا تھا ’میں کئی مرتبہ پناہ گاہ گئی ہوں لیکن انتظامیہ ہر مرتبہ یہ کہہ کر مجھے رکھنے سے انکار کر دیتی ہے کہ ہمارے پاس جگہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس سخت سردی میں باہر رہنا بہت مشکل ہے ایسی پناہ گاہ سے بہتر فٹ پاتھ ہے جہاں لوگ آتے جاتے کھانا بھی دے جاتے ہیں اور سردی سے بچنے کے لیے کمبل بھی۔‘

نورین کے دعوے کی تصدیق کے لیے لاہور ریلوے سٹیشن پر واقع پناہ گاہ کے انچارج عارف صدیقی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ’اس بات میں صداقت ہے کہ ہم خواتین کو نہیں رکھ رہے۔ جس کی وجہ پناہ گاہ کے عملے میں کسی ایک بھی خاتون کا نہ ہونا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’خاتون سکیورٹی گارڈ اور وارڈن کے بغیر کسی بھی خاتون کو رکھنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ان کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس کے علاوہ کئی ایسے مسائل ہوتے ہیں جو خواتین مرد سٹاف سے شئیر نہیں کر سکتی ہیں۔‘

سیکرٹری سوشل ویلفئیر زاہد سلیم گوندل نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا ’ابھی تک خاتون سٹاف کی بھرتیاں چند وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہیں جس کی وجہ سے یہ مسائل ہیں تاہم ہم نے اپنے آفس سے ایک ایک خاتون پناہ گاہوں میں عارضی طور پر تعینات کی ہیں۔‘

خواتین کو پناہ نہ ملنے کا مسئلہ تو ہے ہی لیکن لاہور سے تعلق رکھنے والے مرد بےگھر افراد کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان پناہ گاہوں میں انھیں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔

پناہ گاہ

پناہ گاہ یا مسافر خانہ؟

رواں سال کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں قائم پانچ پناہ گاہوں میں تقریبا ایک لاکھ سے زائد افراد نے قیام کیا۔ لیکن جب ہم نے ان میں ایک کا دورہ کیا تو وہاں درجنوں افراد پناہ گاہ کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھے نظر آئے۔

جب ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ پناہ گاہ کے اندر کیوں نہیں گئے تو انھوں نے بتایا کہ چونکہ وہ لاہور اور اس کے مضافات کے رہائشی ہیں، اسی لیے انھیں پناہ گاہ میں رکنے کی اجازت نہیں ہے۔

داتا دربار پناہ گاہ کے باہر موجود لاہور کے ایک نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور نے بتایا کہ وہ نوکری کے غرض سے شہر آتے ہیں لیکن انھیں گھر جاتے جاتے رات ہو جاتی ہے۔

’سردی کے موسم میں دھند کے باعث اکثر مجھے شہر میں ہی رکنا پڑ جاتا ہے کیونکہ ہمارا علاقہ رات کے وقت محفوظ نہیں ہے۔ پناہ گاہ کی انتظامیہ ہمیں یہاں نہیں رہنے دیتی کیونکہ میرے شناختی کارڈ پر لاہور لکھا ہے۔ تاہم ایک دو ماہ قبل میں یہاں رکا تھا اور مجھے اندر آنے کی اجازت بھی مل گئی تھی۔‘

دوسری جانب مزمل نامی ایک بے گھر شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کافی عرصے سے لاہور کی سخت سردی میں بھی داتا دربار کے باہر فٹ پاتھ پر رہ رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں ہے۔

لاہور کی پناہ گاہوں میں قیام کرنے کے حوالے سے بنائے گئے قواعد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی ایسا شخص پناہ گاہ میں نہیں ٹھہر سکتا جس کے قومی شناختی کارڈ پر لاہور کے کسی بھی علاقے کا پتہ لکھا ہو اور صرف شہر سے باہر سے آنے والے افراد کو ہی پناہ گاہ میں رہنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

تاہم پناہ گاہ کے منتظم عارف صدیقی کے مطابق وہ ایسے معاملات میں خصوصی انتظامات کر کے لاہور کے رہائشیوں کو بھی پناہ گاہ میں رکھ لیتے ہیں۔

پناہ گاہ

’شام چھ بجے لوگوں کی انٹری کی جاتی ہے اور انھیں دو وقت کا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم کسی بھی شخص کو پناہ گاہ میں تین دن سے زیادہ گزارنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

عارف صدیقی کے مطابق اکثر لوگ ایسے بھی آتے ہیں جو بیرون ملک پرواز کے لیے لاہور آتے ہیں لیکن انھیں پناہ گاہ میں جگہ دینی پڑتی ہے ’کیونکہ قوانین کے مطابق وہ مسافر ہیں اور ہم انھیں رکھنے کے پابند ہیں۔‘

سیکرٹری سوشل ویلفیئر زاہد سلیم گوندل کا کہنا ہے کہ ’ہمیں وزیراعظم عمران خان نے سردی کی شدت کے باعث خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ اس سردی میں کوئی بھی شخص باہر ٹھنڈ میں نہ سوئے۔ اس کے بعد ہم نے تقریباً 1000 افراد کی نشاندہی کی اور انھیں پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ خود اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔‘

سردی کے باعث پناہ گاہوں کی پالیسی میں عارضی تبدیلی

زاہد سلیم گوندل کا کہنا تھا ’پناہ گاہ میں رہنے کے لیے قومی شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے اور پناہ گاہ کا مقصد یہ تھا کہ مستحق افراد جو لاہور شہر میں کسی کام سے آتے ہیں اور ان کے پاس اگر رہنے کی جگہ نہیں ہے تو ان کو یہ جگہ فراہم کی جائے۔‘

تاہم ان کے مطابق ’اب اس پالیسی میں یہ تبدیلی لائی گئی ہے کہ سردی میں موجود ہر شخص کو یہاں رہنے کی اجازت دی جائے گی چاہے اس کا تعلق لاہور شہر ہی سے کیوں نہ ہو۔‘

انچارج پناہ گاہ ریلوے سٹیشن کا کہنا یھا ’ہم نے زیادہ سے زیادہ لوگ پناہ گاہ میں رکھنے کے لیے زمین پر گدے بھی ڈالے ہیں اس کے علاوہ ہمارے پاس ڈبل ڈیکر بیڈ بھی موجود ہیں جس کے بعد یہاں تقریبا 216 افراد کی گنجائش بنا دی گئی ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دو دن سے شیلٹر ہوم کی گاڑی شہر میں روزانہ جاتی ہے تاکہ ہم بے گھر افراد کو یہاں لے کر آ سکیں۔

،ویڈیو کیپشنبے گھر افراد کے لیے ’شیلٹر ہومز‘ تعمیر کرنے کا منصوبہ

’تاہم کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے زور لگانے کے باوجود بھی باہر ہی رہ رہے ہیں ان میں ایک بڑی تعداد نشے کے عادی افراد اور بھکاریوں کی ہے۔‘

لاہور میں ریکارڈ سردی

پچھلے کئی دن سے لاہور شہر شدید سردی کی لپیٹ میں ہے اور کم سے کم درجہ حرارت دو ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے چیف میٹرلوجسٹ مہر صاحبزاد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئی بتایا کہ اس سال شدید سردی کے باعث کئی سالوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا ’اگر ہم ریکارڈ دیکھیں تو جنوری کے مہینے میں دسمبر سے زیادہ سردی پڑتی ہے۔ اس لیے میرے خیال میں لاہور میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور آئندہ ہفتے بارش کے بھی امکانات ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پارہ منفی میں چلا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’شہریوں کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کریں اور سردی کی شدت سے بچنے کے لیے گرم کپڑوں کا استعمال کریں۔‘

لاہور میں سردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پناہ گاہ انچارج کا کہنا تھا ’سردی سے بچنے کے لیے ہم ہر آنے والے شخص کو ایک کمبل اور ایک رضائی دیتے ہیں لیکن پناہ گاہ میں ہیٹر نہ ہونے کے باعث لوگ سردی محسوس کرتے ہیں جبکہ یہاں گرم پانی کے انتظام کے لیے گیزر بھی نہیں لگائے گئے ہیں۔‘