طلبا احتجاج میں شریک سماجی کارکنوں عمار جان اور کامل خان کی عبوری ضمانت منظور

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 2 منٹ

لاہور کی عدالتوں نے جمعے کو طلبا یکجہتی مارچ میں شرکت کرنے والے دو سماجی کارکنوں کو عبوری ضمانت دینے کے علاوہ زیر حراست عالمگیر وزیر کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

لاہور کی سیشن کورٹ نے سٹوڈنٹس مارچ میں شرکت کرنے والے سماجی کارکنوں عمار جان اور کامل خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

ایک دوسری عدالت نے سٹوڈنٹس مارچ میں ریاست مخالف تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار طالب علم عالمگیر وزیر کا جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔

عمار جان اور کامل خان اپنی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر لاہور کی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست ضمانت دائر کی۔

یہ بھی پڑھیے

عدالت کے روبرو عمار جان اور کامل خان کے وکلا نے بتایا کہ مقامی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور یہ مقدمہ حقائق کے برعکس ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے 16 دسمبر تک عمار جان اور کامل خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی اور پولیس مقدمہ کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔

دوسری جانب پولیس نے طالب علم عالمگیر وزیر کو مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور ان کا دس دن کے لیے جسمانی ریمانڈ مانگا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نسیم اختر ناز نے عالمگیر وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر مقدمے کا چالان پیش کیا جائے۔

جمعے کو لاہور سمیت پاکستان بھر میں سینکڑوں طلبا نے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ طلبا مارچ کے بعد پولیس نے کچھ سماجی کارکنوں سمیت 300 نامعلوم طلبا کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرے کی قیادت کرنے والے ایک طالبعلم عالمیگر وزیر خان کو مبینہ طور پر پنجاب یونیورسٹی سے اٹھا لیا گیا تھا۔ عالمگیر وزیر سابق فاٹا کے علاقے سے ایم این اے علی وزیر کے بھتیجے ہیں۔

طلبا کے احتجاج کے ایک روز بعد وزیر اعظم عمران خان نے عندیہ دیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت طلبا یونینز کی بحالی کی غرض سے بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق ترتیب دے گی۔

گذشتہ روز انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طلبا کے پرامن مظاہروں پر کیا جانے والا کریک ڈاؤن بند کریں، مبینہ طور پر زیر حراست طالبعلم عالمگیر خان کو رہا کریں اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں سٹوڈنٹ رہنماؤں اور سماجی کارکنان کے خلاف درج کیا گیا مقدمہ ختم کریں۔