پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 12 مہاجرین نشستوں کا تنازع: کیا سیاسی جماعتوں کے مفادات نے معاملے کو ڈیڈ لاک تک پہنچایا اور اب آگے کیا ہو گا؟

    • مصنف, تابندہ کوکب
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مہاجرین نشستوں کا معاملہ مظاہرین اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد شدت اختیار کر چکا ہے اور بظاہر اس مسئلے کے حل سے متعلق بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافِ رائے نظر آ رہا ہے۔

ستمبر 2025 میں مظاہرین کی نمائندہ جماعت ’جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘، جسے اب کالعدم قرار دے دیا گیا ہے، کے ساتھ معاہدے کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے پاس یہ معاملہ حل کرنے کے لیے تقریباً آٹھ مہینے کا وقت تھا۔

پہلے دو مہینے تو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت خود اپنے پیر جمانے میں لگی رہی کیونکہ پانچ سالہ دورِ حکومت میں چوتھی بار وزیر اعظم تبدیل ہوئے تھے اور اب کی بار جماعت بھی مختلف تھی۔ پہلے تینوں وزرائے اعظم پاکستان تحریکِ انصاف کے تھے۔

مہاجر مقیم پاکستان کی ان متنازع بن جانے والی نشستوں کے امیدواروں کا الزام ہے کہ 12 نشستیں ختم کرنے کا ایجنڈا عوامی ایکشن کمیٹی کا نہیں تھا بلکہ اسے ’ایک ’سوچی سمجھی سازش کے تحت‘ تیسرے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کروایا گیا۔‘

اس کے لیے وہ اس وقت کشمیر میں برسر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ ریاست میں موجود لگ بھگ تمام جماعتوں کے سیاستدان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نشستیں ختم یا محدود ہونی چاہییں لیکن اُس وقت مسلم لیگ ن کی ’سیاسی ترجیحات‘ کی وجہ سے یہ معاملہ تنازعے کا سبب بن گیا۔

ادھر کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے بار بار ہڑتال کی کال موخر کی مگر اس مسئلے کے حل کے لیے بروقت ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

کیا بڑی سیاسی جماعتیں 12 نشستوں پر سیاست کر رہی ہیں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے دعویٰ کیا کہ انھیں پہلے سے ہی علم تھا کہ معاملات تصادم کی طرف ہی جائیں گے۔

یاد رہے کہ فیصل راٹھور وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی کشمیر حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ تھے۔

وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے دعویٰ کیا کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی ’سیٹوں سے مسلم لیگ کا مفاد وابستہ تھا۔ اجلاس ہوتے تو کوئی نہ کوئی حل نکلتا۔ لیکن انھوں نے تاخیر کی۔‘

لیکن انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’اگرچہ تاخیر کی ذمہ دار حکومت یا مسلم لیگ ہو سکتی ہے لیکن پھر بھی یہ معاملات حل ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ان نشستوں کے حوالے سے پیش کی گئیں متعدد تجاویز کے لیے اپنی حمایت ظاہر کر چکی ہے جن میں اِن نشستوں کی تعداد اور اختیارات میں کمی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’آج پیپلز پارٹی کے پاس اتنی اکثریت ہو کہ وہ ان سیٹوں کو ختم کر کے متناسب نمائندگی کے ذریعے اسمبلی میں لائے تو پیپلز پارٹی سب سے پہلے ان سیٹوں کو ریزرو سیٹوں پر متناسب نمائندگی کے ساتھ بغیر انتخاب اسمبلی میں نمائندگی دے گی۔‘

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ریاستی حکومت کے علاوہ پاکستان کی وفاقی حکومت کے نمائندے بھی مذاکرات کر رہے تھے۔

وفاق کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکراتی عمل کا حصہ رہنے والے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری سے بی بی سی نے پوچھا ہے کہ یہ تنازع ہلاکتوں اور تشدد تک کیوں پہنچا؟

اس پر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’احتجاج ہر ایک کا آئینی حق ہے لیکن اگر اس میں تشدد اور قیمتی جانوں کا نقصان شامل ہو جائے تو چاہے کسی بھی طرف سے ہو، ایسا احتجاج پُرامن نہیں رہتا۔ یہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔‘

مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ لاکھوں کشمیریوں کے ووٹ کا حق سلب کیا جائے۔‘

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ’ہم نے ان سے کہا یہ بات اس طرح ممکن نہیں۔ اس کو منوانے کے لیے جو راستہ اختیار کیا وہ مناسب نہیں۔‘

انھوں نے کہا ’میں نہیں سمجھتا کہ یہ غصہ اور نفرت مقامی ہے۔ میں نہیں جانتا یہ کہاں سے آئی۔ یہ افسوسناک ہے لیکن یہ مطالبہ کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ہے۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے دعوے کے برعکس انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہمارے ساتھ ہے کہ یہ نشستیں ختم نہ ہوں۔‘

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’چاہے ان (نشستوں) کی ہیئت بدلنے یا کم کرنے کا مطالبہ ہو، یہ تشدد کے طریقے سے نہیں منوایا جا سکتا۔‘

انھوں نے کہا ان نشستوں کے نمائندوں کی جانب سے حکومتی ’فنڈز کے پاکستان کے علاقوں میں لگائے جانے پر اعتراض کیا تو فنڈ روک دیے، کابینہ کا حجم بھی کم کر دیا گیا۔ ہم نے کشمیر کے امن کے لیے ان کی باتیں مانیں۔‘

تو اگر کشمیر کے لوگ چاہتے ہیں کہ مہاجرین کی 12 سیٹیں ختم کر دی جائیں تو مسلم لیگ ن کو اس پر کیوں اعتراض ہے؟

اس سوال پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ’اگلی حکومت سازی پر ان 12 نشستوں کا اثر ہمارے لیے بے معنی ہے۔ حکومت بنانا ایشو نہیں۔ ان 12 نشستوں کے ہوتے ہوئے ہر جماعت کی ماضی میں کشمیر کی حکومت بنی۔ یہ کہنا ہے کہ یہ 12 نشستیں کسی کی جاگیر ہیں، یہ تاثر غلط ہے۔‘

وزیر اعظم فیصل راٹھور کے نشستوں کو کم کرنے کے موقف پر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’وہ نشستیں ختم کرنے کے حق میں نہیں۔ البتہ وہ ان کا سٹیٹس بدلنے کے حق میں ہیں۔‘

’اس سے کیا اثر پڑے گا، اس پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ لیکن جو حالات جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پیدا کر دیے ہیں اس کے بعد بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔‘

’یہ سیاست کا نہیں ریاست کا معاملہ تھا‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکراتی عمل کا حصہ رہنے والے قمر زمان کائرہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس معاملے کو ’مِس ہینڈل‘ کیا گیا ہے، چاہے بات 12 نشستوں کی ہو یا مظاہرین کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تاثر بالکل درست ہے کہ پاکستان میں حکمران جماعتیں مہاجرین کی نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پھر یہ نشستیں کشمیر کی حکومت سازی کے عمل میں اثر انداز ہوتی ہیں۔‘

تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ ’مہاجرین وہ لوگ ہیں جو مختلف علاقوں سے لُٹ پُٹ کر یہاں آئے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے ان کی نمائندگی طے کی۔ لیکن مطالبات میں اسے یہ رنگ دے دیا کہ انھیں بالکل الگ تھلگ کر دینے کا تاثر ملا۔ یہ کشمیر کے ساتھ تعلق کی نفی کرتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مظاہرین نے مذاکرات کے دوران کشمیر حکومت اور وفاق کی تجاویز مسترد کر دی تھیں، جیسے سیٹیں کم کر دینا یا کشمیر اسمبلی میں جماعتوں کی نشستوں کے تناسب سے یہ سیٹیں دینا۔

ان کے بقول ایکشن کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ ’چار نشستیں کشمیر کونسل میں رکھی جائیں۔ ہم نے کہا اس پر غور ہو سکتا ہے، تمام سٹیک ہولڈرز سے بات کرنا ہوگی۔ آج آپ کے کہنے پر فیصلہ کریں تو کل وہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں تو کیا ہوگا۔‘

’ہمیں اپنی پارٹی قیادتوں اور فارن آفس سے مشورہ کرنا تھا۔ ان سے وقت مانگا لیکن انھوں نے نہیں دیا۔ ہم نے کہا رستہ نکالتے ہیں، ان سیٹوں کا ایک کمرے میں بیٹھ کر فیصلہ کرنا ممکن نہیں تھا۔‘

قمر زمان کائرہ کے مطابق ’ہمیں یہ مذاکرات مہینے دو مہینے پہلے کرنے چاہیے تھے۔ آخری دنوں میں ظاہر ہے کہ ڈیڈ لاک آ جاتا ہے۔ مہاجرین مقیم پاکستان کی اکثریت نشستیں پنجاب میں ہیں وہاں ان (مسلم لیگ ن) کی حکومت ہے اور اکثریت انھیں مل جاتی ہے۔‘

انھوں نے اس الزام سے انکار کیا کہ یہ مطالبہ مظاہرین کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کروانے میں پیپلز پارٹی کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا ’پیپلز پارٹی نے کبھی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ سیاست کا نہیں ریاست کا معاملہ تھا۔ ہم نے اس میں سیاسی مفاد سامنے نہیں لایا۔‘

قمر زمان کائرہ نے کہا ماضی میں ’ان (مسلم لیگ ن) کے اپنے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی جانب سے ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔‘

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ’ہم مسلم لیگ کے ساتھ نہیں ہم ریاست کے مفاد کے ساتھ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں مہاجرین اور مقدمہِ کشمیر دونوں کو نقصان نہ پہنچے، اس بات پر ہم اکھٹے ہیں۔ باقی نشستوں کے رہنے نہ رہنے پر پارٹیوں کا اپنا اپنا موقف ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’اگر نشستوں سے حکومتی معاملات متاثر ہوتے ہیں تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔‘

کیا بڑی سیاسی جماعتوں نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا؟

اس حوالے سے صحافی اور محقق دانش ارشاد کی رائے ہے کہ ’پی ٹی آئی کے محدود حلقوں کے علاوہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے نہ صرف اس مسئلے کو نظر انداز کیا بلکہ انھوں نے عوامی تحریک کے ابتدائی ابھار کو بھی کھلے عام مسترد کیا تھا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق اور مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر جیسے رہنماؤں کے سخت بیانات نے بظاہر جلتی پر تیلی کا کام کیا۔‘

ان کی رائے میں ’دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے کشمیر میں اپنے سیاسی آؤٹ لٹس تو قائم کر رکھے ہیں لیکن خطے کے حقیقی اور زمینی مسائل کی تفہیم اور عوامی انگیجمنٹ کے لیے کوئی مستقل میکنزم نہیں بنایا۔ کیونکہ یہاں بھی فیصلے رائیونڈ، گڑھی خدا بخش اور بنی گالہ سے کنٹرول ہوتے ہیں۔‘

ان کی رائے ہے کہ ’یہی وجہ ہے کہ جب یہ عوامی تحریک اٹھی، تو مقامی سیاست دانوں نے معاملہ فہمی اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھا اور بوکھلاہٹ و غصے میں ردعمل دیا جس نے بحران کو مزید سنگین کر دیا۔‘

دانش ارشاد کا کہنا ہے کہ ’ریاست کے داخلی ڈھانچے میں دیگر دور افتادہ یا حساس علاقوں کی طرح اس خطے کے متعلق بھی ایک روایتی ’سکیورٹی سینٹرک‘ شک پایا جاتا ہے اور یہی مائنڈ سیٹ ہمیں اسلام آباد اور اس کے اداروں کے فیصلوں میں جھلکتا نظر آتا ہے۔‘

دانش ارشاد کا کہنا تھا کہ ’سیاسی تاریخ کے تناظر میں پیپلز پارٹی سے کسی حد تک ایک مختلف اور سیاسی لچکدار کردار کی توقع کی جا سکتی تھی۔‘

ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے حالیہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ان کی برسراقتدار جماعت سے حالیہ سخت فیصلوں کے بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔

دانش ارشاد کا الزام ہے کہ ’دوسری جانب مسلم لیگ (ن) وفاق میں برسرِاقتدار ہونے کے ناطے اس بحران کو ٹالنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی تھی لیکن کشمیر میں اس پارٹی کی اپنی مقامی قیادت شدید اندرونی دھڑے بندی اور گروپنگ کا شکار ہے۔‘

سیاسی نظریات کے اختلافات سے علاقائی تقسیم مستقبل پر کیسے اثر انداز ہو سکتی ہے؟

دانش ارشاد کی رائے ہے کہ موجودہ واقعات مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’حالیہ تین برسوں میں خطے کے سیاسی منظرنامے میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، اس کے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سیاست اور سکیورٹی پر اثرات مرتب ہوں گے۔‘

ان کی رائے ہے کہ جب تک خطے میں نئے اور متبادل سیاسی رجحانات کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جاتا اس عوامی تحریک کے بطن سے جنم لینے والی غیر روایتی قیادت کو پارلیمانی سیاست تک پرامن رسائی نہیں ملتی تب تک پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں استحکام خواب رہے گا۔

دانش کہتے ہیں کہ ریاست کی طاقت پر مبنی پالیسی نے ایک نسل میں غصے کو جنم دِیا ہے جو مستقبل میں مختلف سیاسی یا سماجی تحریکوں کی شکل میں نکلتا رہے گا۔

ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کی بحالی کے امکانات کیا ہیں؟

کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ریاستی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کے جواب میں مشروط رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔

پابندی کا شکار چار رہنماؤں میں سے ایک عمر نذیر کشمیری نے راولاکوٹ میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر حکومت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے پابندی ہٹائے، تمام فورسز کو ریاستی حدود سے واپس بلایا جائے، مبینہ طور پر مرنے والوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کی جائیں اور مظاہرین کو زخمی کرنے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور ریاست بھر میں انٹرنیٹ بحال کیا جائے۔

اگرچہ کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر ’دہشتگردی‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا ہے مگر وزیر اعظم فیصل راٹھور کے مطابق وہ اب بھی اس گروپ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔

بی بی سی اُردو کو چند روز قبل دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران جب وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ اپنی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بات کرنے کو تیار ہیں؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ 'جب طالبان سے بات چیت ہو سکتی ہے، تو اُن سے کیوں نہیں؟'

فیصل ممتاز کہتے ہیں مذاکرات ہوں گے لیکن وفاقی جماعت کا موقف مختلف ہے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے مذاکراتی عمل کا حصہ رہنے والے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہماری مشاورت میں یہ بات ہے کہ ایکشن کمیٹی کے کور ممبران سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اگر فیصل ممتاز ان تک یہ بات پہنچا سکیں۔‘

طارق فضل چوہدری کہتے ہیں ’ہم نے کسی کو غدار نہیں کہا، یا کسی ملک کا ایجنٹ نہیں کہا۔ لیکن جو نظریات لوگوں کے ذہنوں میں ڈال رہے ہیں وہ دشمن ملک کے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریاست کو 325 ارب روپے دیتا ہے۔ اس کے باوجود ایکشن کمیٹی کی جانب سے پاکستان کا تاثر عوام میں غلط بنایا جا رہا ہے۔ بجلی کی اضافی لاگت بھی پاکستان برداشت کر رہا ہے۔ آٹا بھی وہاں آدھی قیمت میں مل رہا ہے۔

تو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس تنازع کا حل کیسے نکلے گا؟

اس کے جواب میں طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہم نے نہ مانے جانے والے مطالبات بھی مانے ہیں۔ تیسری دفعہ انھوں نے تشدد کا راستہ اپنایا ہے ۔ یہ تنازع صرف اس صورت میں ختم ہو گا جب وہ تشدد کا راستہ ترک کریں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ معاملات میں آئینی ترمیم درکار ہے۔ کیا 12 سیٹیں بارہ لوگ ایک کمرے میں بیٹھ کر ختم کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو متنبہ کیا کہ ’آپ تشدد کا راستہ فی الفور ختم کریں۔ اس کے بعد کوئی بات سنی جا سکتی ہے۔ ابھی کسی مطالبے پر غور نہیں ہو سکتا۔ ماورائے آئین کوئی بات تسلیم نہیں کی جائے گی۔‘

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کہتے ہیں مذاکرات سے ہی مسائل کے حل نکلتے ہیں اور وہ اس حق میں ہیں کہ بات چیت کی جائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت تو ان میں بھی ہوتی ہے جن سے جنگیں ہو رہی ہوں، دشمنوں میں بھی مذاکرات ہوتے ہیں۔‘

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ’انھوں (ایکشن کمیٹی) نے اپنے اور اپنے دوستوں اور ریاست اور فورسز سب کے لیے تکلیف دہ صورتحال بنائی۔ خون اِن کا بہے یا اُن کا۔ نقصان ریاست کا ہے۔‘

انھوں نے مذاکرات کی بحالی کے امکانات کے حوالے سے کہا کہ ’ریاست اور ادارے دیکھیں گے یا وفاقی حکومت دیکھے گی کہ معاملے کو اب کیسے حل کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی قوموں کو شناخت اور اختیار دیتی ہے اور سیاسی عمل کی حمایت کرتی ہے۔ کمیٹی کے ارکان کو تحمل کا مظاہرہ کر کے مذاکرات کرنا اور مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔‘