طلبا احتجاج میں شریک سماجی کارکنوں عمار جان اور کامل خان کی عبوری ضمانت منظور

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ammaralijan
لاہور کی عدالتوں نے جمعے کو طلبا یکجہتی مارچ میں شرکت کرنے والے دو سماجی کارکنوں کو عبوری ضمانت دینے کے علاوہ زیر حراست عالمگیر وزیر کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
لاہور کی سیشن کورٹ نے سٹوڈنٹس مارچ میں شرکت کرنے والے سماجی کارکنوں عمار جان اور کامل خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
ایک دوسری عدالت نے سٹوڈنٹس مارچ میں ریاست مخالف تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار طالب علم عالمگیر وزیر کا جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔
عمار جان اور کامل خان اپنی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر لاہور کی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست ضمانت دائر کی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کے روبرو عمار جان اور کامل خان کے وکلا نے بتایا کہ مقامی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور یہ مقدمہ حقائق کے برعکس ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج نے 16 دسمبر تک عمار جان اور کامل خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی اور پولیس مقدمہ کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔
دوسری جانب پولیس نے طالب علم عالمگیر وزیر کو مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور ان کا دس دن کے لیے جسمانی ریمانڈ مانگا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نسیم اختر ناز نے عالمگیر وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر مقدمے کا چالان پیش کیا جائے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جمعے کو لاہور سمیت پاکستان بھر میں سینکڑوں طلبا نے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ طلبا مارچ کے بعد پولیس نے کچھ سماجی کارکنوں سمیت 300 نامعلوم طلبا کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرے کی قیادت کرنے والے ایک طالبعلم عالمیگر وزیر خان کو مبینہ طور پر پنجاب یونیورسٹی سے اٹھا لیا گیا تھا۔ عالمگیر وزیر سابق فاٹا کے علاقے سے ایم این اے علی وزیر کے بھتیجے ہیں۔
طلبا کے احتجاج کے ایک روز بعد وزیر اعظم عمران خان نے عندیہ دیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت طلبا یونینز کی بحالی کی غرض سے بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق ترتیب دے گی۔
گذشتہ روز انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طلبا کے پرامن مظاہروں پر کیا جانے والا کریک ڈاؤن بند کریں، مبینہ طور پر زیر حراست طالبعلم عالمگیر خان کو رہا کریں اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں سٹوڈنٹ رہنماؤں اور سماجی کارکنان کے خلاف درج کیا گیا مقدمہ ختم کریں۔
























