ایران سے لائے جانے والے 1600 چکور محکمہ جنگلات کی تحویل میں

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام نے ایسے 1600 چکوروں کو تحویل میں لیا ہے جن کو ایران سے لایا جارہا تھا۔

ان چکوروں کو ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان سے تحویل میں لیا گیا۔اس سلسلے میں دو افراد کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔

چکور

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ڈویژنل کنزرویٹر نیاز کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ چکور ایران کے علاقے مشہد سے لائے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ تفتان بارڈر پر جب کسٹم حکام نے ان کو دیکھا تو انھوں نے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کو آگاہ کیا۔

چکور

انھوں نے کہا کہ جو لوگ ان چکوروں کو لارہے تھے ان کے پاس محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا کوئی لائسنس نہیں تھا جس کی بنیاد پر ان کو تحویل میں لیا گیا۔

نیاز کاکڑ نے بتایا کہ سب سے پہلے ان چکوروں کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان میں کوئی بیماری تو نہیں۔

چکور

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل فوڈ اینڈ سکیورٹی کی جانب سے ایک چٹھی آئی ہے کہ بعض ممالک میں پرندوں میں انفلوئنزا کی بیماری ہے۔ اس تناظر میں یہ دیکھا جائے گا ان کو کسی سازش کے تحت تو نہیں بھیجا گیا۔

نیاز کاکڑ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنھوں نے بتایا ہے کہ وہ ان کو پاکستان میں فروخت کے لیے مشہد سے لارہے تھے۔

چکور

انھوں نے کہا کہ لائسنس کے بغیر بلوچستان میں چکور یا کسی اور ایسے جنگلی حیات کے رکھنے پر مکمل پابندی ہے جن کی نسل کو خطرہ لاحق ہے۔

چکور

نیاز کاکڑ نے بتایا کہ تحویل میں لیے جانے والے چکوروں کے کیس کا چالان متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں اقدامات کیے جائیں گے۔

چکور

انھوں نے بتایا کہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ ان چکوروں کو واپس لے جا کر ایران کی حدود میں چھوڑا جائے گا۔

۔