وادی نیلم میں انڈیا کی ’بلااشتعال فائرنگ‘ سے ایک پاکستانی فوجی، تین شہری ہلاک: آئی ایس پی آر

،تصویر کا ذریعہUsman Iqbal
پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب وادی نیلم میں فائرنگ کے سبب کم از کم تین شہری اور ایک پاکستانی فوجی ہلاک جبکہ دو فوجیوں سمیت سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق انڈین فورسز نے شاہ کوٹ، جڑا اور نوسیری سیکٹر میں دانستہ طور پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔
انڈین حکومت کے پانچ اگست کے اقدامات کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔
اگست سے اب تک ایل او سی پر دونوں اطراف کی مجموعی ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی میں نو انڈین فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے، جبکہ دو انڈین بنکرز بھی تباہ کر دیے گئے۔
ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین حکام کا کہنا ہے کہ دو فوجیوں اور ایک عام شہری ایل او سی پر فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ انڈین آرمی کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے تنگدھار سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی جس پر ان کی افواج نے جوابی کارروائی کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہUsman Iqbal
انڈیا کی جانب سے رواں سال پانچ اگست کو اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ختم کر دی گئی تھی اور وہاں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے تقریباً 70 دنوں کے بعد موبائل ٹیلیفون سروسز جزوی طور بحال کر دی گئی ہیں لیکن ابھی بھی انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان اس سال کے اوائل میں تناؤ اس وقت عروج پر پہنچ گیا تھا جب انڈیا کی جانب سے 26 فروری کو پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں ’دہشتگردوں کے تربیتی کیمپ‘ کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
اس کے اگلے دن 27 فروری کو پاکستان نے اپنی حدود میں آنے والے انڈین ایئرفورس کے ایک مگ 21 طیارے کو مار گرایا تھا اور اس کے پائلٹ ابھینندن کو حراست میں لے لیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
























