کاشف آفریدی قتل: تحفے میں دیے گئے موبائل فون، سم کے ذریعے طالب علم کے قاتل کی شناخت

،تصویر کا ذریعہMehrab Afridi
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جمرود
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں ایک ہفتہ قبل قتل کیے جانے والے طالب علم کاشف آفریدی کا قاتل کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا ہی ایک استاد نکلا۔
کاشف آفریدی جمرود کے ایک نجی سکول میں ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔ ان کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل جمردو کے علاقے نئی آبادی سے تھا۔
پولیس کے مطابق قاتل کی شناخت مقتول طالب علم کو تحفے میں دیے گئے ایک موبائل فون سیٹ کے ذریعے ممکن ہوئی۔
ضلع خیبر کے پولیس سربراہ محمد حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزم روائیداد کی شناخت تفتیش کے ایک مشکل مرحلے کے بعد موبائل فون سیٹ اور سِم کارڈ کے ذریعے ممکن ہوئی جو کچھ دن قبل قاتل نے اپنے طالب علم کو بطور تحفہ پیش کیا تھا۔
13 سالہ کاشف آفریدی سات اکتوبر کی شام گھر کے سامنے سے لاپتہ ہوگئے تھے اور اگلے دن صبح جمرود کے ٹیڈی بازار کے قریب سے ان کی لاش ملی تھی۔
پولیس کے مطابق مقتول کو کمر میں ایک گولی ماری گئی تھی جس سے ان کے جسم سے کافی خون بہہ گیا تھا اور ان کی ہلاکت بھی زیادہ خون بہنے کی وجہ سے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جب تمام شواہد پولیس کے ہاتھ لگے تو پھر ملزم کے پاس جرم قبول کرنے کے سوا کوئی جواز نہیں تھا لہٰذا اس نے خود پولیس کے سامنے اپنے طالب علم کے قتل کا اعتراف کر لیا۔
انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ سات اکتوبر کی شام پیش آیا اور ملزم ایک ہفتے بعد یعنی 13 اکتوبر کی شام پکڑا گیا۔ اسی دن اس نے قتل کا اعتراف بھی کر دیا۔
'ہم نے قتل کے دوسرے ہی روز ملزم روئیداد سے تفتیش کی تھی لیکن اس وقت ہمارے پاس شواہد کی کمی تھی۔ لیکن ہم نے ان پر کڑی نظر رکھی ہوئی تھی اور جب ہم نے وہ مقتول کو تحفے میں دیے جانے والا موبائل سیٹ سم سمیت برآمد کیا تو اس کے بعد سب کچھ صاف ہوگیا۔'
محمد حسین کے بقول 'ملزم روائیداد نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ کاشف کو اکثر اوقات اپنوں سے بڑوں اور بُرے لڑکوں کے ساتھ بیٹھنے سے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں مانا اسی وجہ سے انھیں گولی مار دی۔'
انھوں نے کہا کہ قاتل کو پکڑنے کے لیے تقریباً تین سو افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی گئی اور بالآخر انھیں کامیابی ہوئی جس میں مقامی لوگوں نے بھی بہت تعاون کیا۔
پولیس افسر کے مطابق تاحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جن سے یہ معلوم ہوسکے کہ بچے کے ساتھ قتل سے پہلے بدفعلی کی گئی تھی یا نہیں تاہم مقتول کے جسم کے نمونے فارنزک لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں جس سے یہ تمام معلومات سامنے لائی جا سکیں گی۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Afridi
مقتول کے چچا زاد بھائی خالد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کاشف آفریدی انتہائی باصلاحیت طالب علم تھے اور اکثر سکول کی تقریبات میں پہلے نمبر پر آیا کرتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ کاشف اور روئیداد کا آپس میں استاد اور شاگرد کا ایک مضبوط رشتہ تھا لہٰذا کسی کوئی شک نہیں گزرا اور نہ کبھی مقتول نے گھر میں اس طرح کی کوئی بات کی تھی۔
’جس دن کاشف کی تدفین ہو رہی تھی اس دن بھی ملزم روائیداد تعزیت کے لیے آیا ہوا تھا اور وہاں چیخ چیخ کررو رہا تھا بلکہ بعد میں وہاں پر اس نے بے ہوش ہونے کا ڈرامہ بھی کیا۔ لیکن اس وقت تک یہ ہمارے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ایک استاد اتنی بے دردی سے اپنے ایک شاگرد کا خون کرسکتا ہے۔‘
مقتول طالب علم کے بارے میں انھوں نے کہا کہ کاشف آفریدی نصابی سرگرمیوں کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ انھیں خوب صورت ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات ضلع کی سطح پر ہونے والی سرکاری تقریبات میں بھی مدعو کیا جاتا تھا جہاں وہ دورے پر آئے ہوئے ’وی آئی پیز‘ مہمانوں کو گلدستے پیش کیا کرتے تھے۔
ان کی کئی تصویریں اور ویڈیوز سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر شئیر کی گئی ہیں جس میں مقتول طالب علم سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کو گلدستے پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔


























