بحریہ یونیورسٹی میں طالبہ حلیمہ امین کی ہلاکت: ’اسلام آباد پولیس تحقیقات نہیں کرے گی‘

حلیمہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Lazy_Nugget

،تصویر کا کیپشنبحریہ یونیورسٹی کی طالبہ حلیمہ کے والد محمد امین کہتے ہیں کہ اُنھوں نے اپنی بیٹی کی ہلاکت پر کوئی قانونی کارروائی نہ کرے کا بیان اپنی مرضی سے دیا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

اسلام آباد کی بحریہ یونیورسٹی میں سکینڈ ایئر کی طالبہ حلیمہ امین کی ہلاکت کے سلسلے میں کارروائی نہ ہونے پر یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاج جاری ہے تاہم مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی نہ تو تحقیقات ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق بحریہ یونیورسٹی کے طالب علموں نے پیر کو مارگلہ روڈ پر احتجاج کیا۔ مظاہرین حلیمہ کے مبینہ قتل کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین کا موقف تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات سے پہلے یونیوسٹی کے ریکٹر کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے اور حلیمہ امین کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔

ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس کے حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور اُنھیں اس معاملے کی مکمل طور پر تحقیقات کی یقین دہانی کروائی۔

مزید پڑھیے

تاہم اس یقین دہانی کے برعکس ایس ایچ او تھانہ مارگلہ کے مطابق پولیس نے اس معاملے کو قانون کے مطابق ختم کر دیا ہے۔

تھانہ مارگلہ کے ایس ایچ او محمد بشارت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نیول پولیس نے مارگلہ پولیس کو بتایا ہے کہ حلیمہ کے والد محمد امین نے ہسپتال میں بیان دیا ہے کہ ان کی بیٹی کی موت حادثاتی تھی اس لیے وہ اس پر کوئی کارروائی نہیں کروانا چاہتے۔

اُنھوں نے کہا کہ حلیمہ کے والد کی طرف سے اس بیان کے بعد پولیس نے اس معاملے کو قانون کے مطابق ختم کر دیا ہے اور اب اس سلسلے میں نہ تو تحقیقات کی جا رہی ہیں اور نہ ہی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تھانہ مارگلہ پولیس کا موقف ہے کہ اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ حلیمہ یونیورسٹی میں زیر تعمیر عمارت کی چوتھی منزل سے مبینہ طور پر سیلفی بناتے ہوئے گریں جس سے ان کی ہلاکت ہوئی ہے۔

تھانہ مارگلہ کے ایس ایچ او محمد بشارت سے جب اس ضمن میں پوچھا گیا کہ کیا پولیس نے جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے تو اُنھوں نے اس کا نفی میں جواب دیا اور کہا کہ پولیس نے ابھی تک اس جائے حادثہ کا دورہ تو نہیں کیا تاہم یونیورسٹی کی انتظامیہ اور نیوی پولیس کی طرف سے جو معلومات ملتی رہی ہیں اس کی بنیاد پر ہی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ حلیمہ امین کی موت ایک حادثہ ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

بحریہ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SHARIQRIAZ2

،تصویر کا کیپشنایس ایچ او مارگلہ کے مطابق حلمیہ کے والد کی طرف سے اس بیان کے بعد پولیس نے اس معاملے کو قانون کے مطابق ختم کردیا ہے

مظاہرین پولیس کے اس موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ حلیمہ کی ہلاکت یونیورسٹی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ہوئی ہے۔

مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ 'حلیمہ جس کلاس سے باہر آ رہی تھیں وہاں دروازے اور زمین کے بیچ موجود خلا کے درمیان بہت ہی تنگ راستہ تھا جسے انتظامیہ نے بوریاں بچھا کر ڈھانپ دیا تھا۔ حلیمہ کا پیر اس پر لگا اور وہ اپنا توازن کھو کر نیچے گِر گئیں اور ہلاک ہو گئیں۔

ایس ایچ او مارگلہ سے جب یہ استفسار کیا گیا کہ کیا پولیس نے حلیمہ کے زیر استعمال موبائل فون کو فورینزک کے لیے بھجوایا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سیلفی کھینچنے کے دعوے میں کتنی سچائی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ موبائل پولیس کو نہیں دیا گیا۔

ان کے مطابق سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ حلیمہ کے والد محمد امین نے پولیس کو دو روز قبل بیان دیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی ہلاکت سے متعلق کوئی قانونی کارروائی نہیں کروانا چاہتے۔

اس سلسلے میں جب بی بی سی نے حلیمہ کے والد محمد امین سے استفسار کیا تو اُنھوں نے بتایا کہ بیٹی کی ہلاکت پر قانونی کارروائی نہ کرے کا بیان انھوں نے اپنی مرضی سے دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ قانونی کارروائی نہ کرنے سے متعلق ان پر نہ تو یونیورسٹی کی انتظامیہ اور نہ ہی کسی ادارے کی طرف سے کوئی دباؤ تھا۔