فوجی عدالتوں کا مستقبل، قانون کی تشریح کی ضرورت

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وزیرِ قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع نہ ہونے کی وجہ سے ان عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں منتقل کرنا ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور اس کے لیے قانون کی تشریح کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں ملٹری کورٹس کے ’خاتمے‘ کے بعد ان عدالتوں میں زیرِ سماعت 171 مقدمات کو وفاقی حکومت کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ان مقدمات میں گرفتار ملزمان کے مستقبل کے بارے میں بھی وزارتِ داخلہ کو آگاہ کیا جائے گا۔
ملک بھر میں شدت پسندی سے متعلق جتنے بھی مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جاتے تھے وہ وزارتِ داخلہ کے توسط سے ہی جاتے تھے۔
بی بی سی سے گفتگو میں وزیرِ قانون نے کہا کہ پاکستان پروٹیکشن ایکٹ جب ختم کیا گیا تھا تو ان عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں بھیجا گیا تھا۔
وزیرِ قانون کے مطابق پاکستان پروٹیکشن ایکٹ ایک مختلف قانون تھا جس کا موازنہ فوجی عدالتوں سے نہیں کیا جا سکتا۔
اُنھوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنے کے بعد فوجی عدالتوں کو شدت پسندوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں جتنی جلدی مقدمات کو نمٹایا جاتا ہے اتنی تیزی سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں ایسے مقدمات اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتے۔
وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ فوجی عدالتیں ختم ہونے کے بعد وزارتِ داخلہ کے حکام ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے ملزمان کے کوائف کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں رکھتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ فوجی عدالتوں میں رہ جانے والے 171 مقدمات کے سلسلے میں 400 کے قریب افراد زیرِ حراست ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی تصدیق اس وقت ہی ہو گی جب وفاقی حکومت کو ان مقدمات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تفصیلات وزارت داخلہ کے ذریعے دی جائیں گی۔
اہلکار کے مطابق فوجی عدالتوں میں زیر سماعت رہنے والے 171 مقدمات اور ان میں گرفتار ہونے والے افراد کو ابھی تک کسی بھی مقامی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ فوجی عدالتوں کے قیام میں ممکنہ توسیع کو ذہن میں رکھ کر ان ملزمان کو فوجی عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قانون کے مطابق کسی بھی گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں میں عدالت کے روبرو پیش کرنا ضروری ہے اور اس کے بعد ہر 14 روز کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ایک قانونی تقاضا ہے۔
پاکستان میں فوجی عدالتیں گذشتہ ماہ سے غیر مؤثر ہو چکی ہیں اور پارلیمان نے ابھی تک فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع نہیں کی۔
پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کھل کر فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی مخالفت کی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے اس ضمن میں ابھی تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں بھی فوجی عدالتوں کا قیام ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ابھی تک وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع سے متعلق حزبِ مخالف کی جماعتوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور حزبِ مخالف کی جماعتوں کے قائدین کے درمیان اختلافات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے بھی کتراتے ہیں تو ایسے حالات میں فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع بظاہر مشکل امر دکھائی دیتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پروٹیکشن ایکٹ جسے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ بھی کہا جاتا ہے، کے مطابق کسی بھی دہشت گردی کے مقدمے کا فیصلہ ایک سے دو ماہ میں کرنا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں ایک بھی ایسا مقدمہ نہیں ہے جس کا فیصلہ مقررہ مدت میں کیا گیا ہو۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوجی عدالتوں میں سویلین افراد کے مقدمات کی سماعت پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن نے متعدد بار مطالبہ کیا تھا کہ اُنھیں فوجی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی کارروائی دیکھنے کی اجازت دی جائے لیکن اُنھیں یہ اجازت نہیں دی گئی۔
مقدمات جن کا فیصلہ فوجی عدالتوں میں نہیں ہوسکا
پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سنہ 2015 سے فوجی عدالتوں نے کام کرنا شروع کیا اور اس عرصے کے دوران 717 مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے جن میں سے 546 مقدمات کے فیصلے ہوئے اور ان مقدمات میں جرم ثابت ہونے پر 310 افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔
سزائے موت پانے والوں میں سے 56 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا جبکہ اس سزا کے خلاف باقی 254 مجرموں کی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
فوجی عدالتوں میں 234 مجرموں کو پانچ سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق جن 171 مقدمات کا فیصلہ فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکا ان میں سے زیادہ تر مقدمات کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔
اہلکار کے مطابق جب بھی یہ مقدمات واپس آئیں گے تو انھیں متعلقہ صوبوں کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں بھیجا جائے گا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق فوجی عدالتوں میں جن مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوسکا ان میں سے زیادہ تر مقدمات سنہ 2018 میں بھیجے گئے تھے۔
لاپتہ افراد کی گرفتاری کا خدشہ
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں منگل کو جبری طور پر لاپتہ ہونے والے شخص کی بازیابی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران وزارتِ دفاع کے نمائندے بریگیڈئیر فلک ناز کی طرف سے ایک خط بھی پیش کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ نامی شخص جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، وہ مبینہ طور پر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے۔
اس خط کے مطابق اس کا مقدمہ وفاقی حکومت کو بھجوایا جا رہا ہے کیونکہ توسیع نہ ملنے کی وجہ سے فوجی عدالتیں کام نہیں کر رہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوج کی لیگل برانچ جیگ کے سابق اہلکار اور وکیل، کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں ان افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل ہیں یا ان کی جبری گمشدگی کے بارے میں درخواستیں اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے فیصلے میں نو سال سے زیادہ کا عرصہ لگا تھا۔






















