حیات آباد آپریشن: ’پانچ شدت پسند ہلاک، مکان دھماکے سے منہدم‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک مکان میں چھپے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف پیر کی شب شروع ہونے والا آپریشن 15 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر جانے کے بعد مکمل کر لیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج نے ایک بیان میں آپریشن کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکان میں مورچہ بند پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ اس کارروائی میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔
تاحال ہلاک کیے گئے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے ایک شدت پسند کا تعلق ضلع خیبر کے علاقے تختہ بیگ سے ہے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق حکام کے مطابق اس مکان میں دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک موٹرسائیکل بھی موجود تھی اور یہ مواد ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران دھماکے سے مکان بھی منہدم ہو گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اب تک ہونے والے ابتدائی تفتیش کے مطابق شدت پسندوں نے یہ مکان گذشتہ ماہ کرائے پر لیا تھا۔
پولیس نے کارروائی کے دوران اس مکان کے اردگرد موجود مکانات کے رہائشی افراد کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ نامہ نگار کے مطابق منگل کی صبح مکان میں ہونے والے دو دھماکوں کے بعد قریب واقع مکانات میں شیشے لگنے سے دو خواتین معمولی زخمی بھی ہوئیں جنھیں موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہUmar Farooq
پولیس اہلکاروں نے پشاور کے گنجان آباد رہائشی علاقے حیات آباد کے ایک مکان کو پیر کی شب گھیرے میں لیا تھا اور فائرنگ کا تبادلہ شروع ہونے کے بعد سکیورٹی اہلکار بھی پولیس کی مدد کے لیے موقع پر پہنچے تھے اور پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کے علاوہ فرنٹیئر کور اور فوج کی بھاری نفری نے بھی اس آپریشن میں حصہ لیا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے جیسے ہی اس مکان کے قریب پہنچے تو ان پر شدت پسندوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
محاصرے کے دوران مبینہ شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جس سے اس مکان کی دیواریں گولیوں سے چھلنی جبکہ کھڑکیاں اور دروازے اپنی جگہ سے اکھڑ گئے تھے۔

ان شدت پسندوں کے نشاندہی اور ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے ڈرون کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔
موقع پر موجود ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ جس گھر میں مبینہ شدت پسند موجود تھے وہ حیات آباد کے فیز سات میں واقع ہے اور پولیس نے اس گھر کے اطراف تین گلیوں کو محاصرے میں لیا تھا۔
ان کے مطابق میڈیا کے نمائندوں کو اس گھر سے تقریباً 400 گز کی دوری پر کھڑا ہونے کو کہا گیا تھا۔
ان کے مطابق منگل کی صبح اس مکان سے چار سے پانچ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو کچھ ہی دیر بعد تھم گیا تھا۔


























