خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا واک آؤٹ

،تصویر کا ذریعہAFP
خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک نئی تاریخ اُس وقت رقم ہوئی جب اقلیتی رکن بلدیو کمار کو ایوان میں پیش کیے جانے پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین دونوں نے ہی ایوان سے واک آوٹ کر گئے۔
ایوان سے واک آؤٹ کے بعد اسمبلی کا اجلاس جمعے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
منگل کے روز جب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو بلدیو کمار کو ایوان میں پیش کیا گیا۔ بلدیو کمار پر الزام ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے اقلیتی رکن سردار سورن سنگھ کے قتل میں ملوث تھے۔
بلدیو کمار کو ہائی کورٹ کے حکم کر منگل کو جیل سے ایوان میں لایا گیا جس پر حزب اختلاف کے اراکین نے احتجاج کیا تو حکومتی ارکان نے کہا کہ وہ عدالت کا حکم ماننے کے پابند ہیں۔
مزید پرھیے
ٹانک سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی محمود خان نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ بلدیو کمار کو کیوں ایوان میں لایا گیا ہے جبکہ بلدیو کمار اس ایوان کے اہم اور معتبر رکن سردار سورن سنگھ کے قتل میں گرفتار ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے کہا کہ بلدیو کمار کو ہائی کورٹ کے حکم پر ایوان میں لایا گیا ہے تاکہ وہ حلف لے سکیں۔ حزب اختلاف کے اراکین نے کہا کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کیوں نہیں کی۔
دونوں جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایوان سے واک آؤٹ کیا جائے اور یوں اجلاس چند منٹ جاری رہنے کے بعد جمعے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ایسا شاید کم ہی ہوا ہو گا کہ کسی ایک مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ طور پر اجلاس سے واک آوٹ کیا ہو۔
تحریک انصاف کے اقلیتی رکن سردار سورن سنگھ کو اپریل 2016 میں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ان کے قتل کے بعد ایسا تاثر دیا گیا کہ یہ شدت پسندوں کی کارروائی ہو سکتی ہے لیکن پولیس تحقیقات کے بعد سردار سورن سنگھ کے سیاسی مخالف بلدیو کمار کو ان کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
ایسی اطلاعات تھیں کہ سورن سنگھ کے بعد پی ٹی آئی کے رکن بلدیو کمار نے اسمبلی کا رکن نامزد ہونا تھا۔























