کراچی میں سالِ نو کا جشن، ساحل بند نہیں ہو گا

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ کئی برسوں کے برعکس سالِ نو کے موقع پر سندھ حکومت نے کراچی کے ساحل کو عوام کے لیے بند نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کو کراچی شہر کا دورہ کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ نئے سال کی آمد کے موقع پر کراچی کی سڑکوں اور بالخصوص سی ویو ، کلفٹن، ڈیفینس اور سمندر جانے والے راستوں کو بند نہیں کیا جائے گا۔
پولیس کے عہدے داران سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ لوگوں کو نیا سال منانے کے لیے آزادی ہونی چاہیے۔
انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ کراچی کے لوگ ذمہ دار ہیں اور نوجوان اس موقعے پر دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب نہیں بنیں گے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ 'میرے جیسے لوگ تو نکلتے نہیں ہیں رات کو لیکن جو بچے نکلنا چاہتے ہیں، جنھیں رات باہر گزارنی ہے انھیں گزارنے دیں۔ صرف دو چیزوں کا خیال رکھیں کہ اسلحہ نہ ہو اور وہ کسی کو تنگ نہ کریں۔'
وزیر اعلی کے بیان سے قبل صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے بھی کراچی کے ساحل سی ویو کا دورہ کیا اور پولیس حکام کو کہا کہ ماضی کی طرح اس ساحل کی جانب جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند نہیں کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
واضح رہے کہ تقریباً دس سالوں سے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو وجہ بنا کر کلفٹن، ڈیفینس، سی ویو سمیت ساحلِ سمندر جانے والے تمام راستوں کو کینٹینر لگا کر صوبائی حکومت کے حکم کے مطابق بند کر دیا جاتا رہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کراچی میں مقیم سکیورٹی امور کے ماہر ناربرٹ المائیڈا نے کہا کہ 'سال 2008 کے بعد سے ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے بعد حکومت نے نیا سال منانے کے جشن پر پابندی اس خطرے کو دیکھتے ہوئے لگائی تھی کہ جشن منانے والے شہری کسی دہشت گردی کے منصوبے کا نشانہ نہ بن جائیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید بتایا کہ کم از کم ایک سال نئے سال کے موقعے پر موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی لگائی گئی تھی۔
ناربرٹ المائیڈا نے بتایا کہ گذشتہ چند سالوں میں کراچی کے علاقے کلفٹن اور ڈیفینس جانے والی سڑکوں کی بندش کے علاوہ رات آٹھ بجے کے بعد مختلف مقامات پر شاپنگ مالز اور کھانے پینے کی جگہیں بھی بند کر دینے کا حکام جاری کیا جاتا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'کچھ سال قبل عید کے موقع پر سی ویو کے ساحل پر 30 کے قریب افراد کے ڈوبنے کے بعد سے نئے سال پر بھی دفعہ 144 نافذ کی جاتی ہے۔'























