ناروے کی خواتین سے مار پیٹ کرنے والی اہلکار برطرف

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے حکام نے اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشل ایئرپورٹ پر دو خواتین پر تشدد کرنے والی خاتون اہلکار کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔

چند روز قبل ناروے کی پاکستانی نژاد ماں بیٹی اسلام آباد سے ناروے جا رہی تھیں کہ بےنظیر بھٹو ایئرپورٹ کے راول لاؤنج میں دستاویزات کی کلیئرنس کے معاملے پر وہاں پر تعینات ایف آئی اے امیگریشن حکام کے ساتھ اُن کی تلخ کلامی ہو گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق ناروے کی شہری خواتین کی تلخ کلامی کاؤنٹر پر تعینات مرد امیگریشن اہلکاروں کے ساتھ ہوئی تاہم اس دوران خاتون اہلکار غزالہ شاہین وہاں آ گئیں اور اُنھوں نے دونوں خواتین کو، جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ماں بیٹی تھیں، نہ صرف بالوں سے گھسیٹا بلکہ اُنھیں مارا پیٹا۔

عینی شاہدین کے مطابق وہاں پر تعینات امیگریشن کے اہلکار کچھ دیر تو خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہے اور اس کے بعد اُنھوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔

اس واقعے سے متعلق جب ایک ویڈیو ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر چلی جس میں خواتین کو امیگریشن حکام کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے دکھایا گیا تو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ وزیر داخلہ کو بھجوا دی ہے جس میں ناروے کی شہری خواتین کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے لیکن اسی دوران غزالہ شاہین کی ان غیر ملکی خواتین پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئی تو وزیر داخلہ کی جانب سے سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا اور اُنھوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو اس واقعے سے متعلق تحقیقات کا حکم دیا۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق تفتیش کے دوران غزالہ شاہین کو ذمہ دار قرار دیا گیا جس کے بعد اُنھیں نوکری سے برطرف کر دیا تھا۔ غزالہ شاہین کانسٹیبل کے عہدے پر تعینات تھیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے شفٹ انچارج محمد ندیم کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے ایف آئی اے حکام کو سفارش کی ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی اس واقعے کا از خود نوٹس لیا ہے اور اُنھوں نے حکام سے اس ضمن میں رپورٹ بھی طلب کی ہے۔