ہوٹل آتشزدگی: مالکان سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج

ریجنٹ پلازہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپانچ دسمبر کو ریجنٹ ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی میں ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آتشزدگی کو پولیس نے تحقیقات میں مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے، جس کے تحت ہوٹل مالکان سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ایس ایس پی جنوبی ثاقب اسماعیل میمن کے مطابق ہوٹل ریجنٹ پلازہ میں آتشزدگی پر انتظامیہ، بشمول چیف ایگزیکٹیو مظفر باریجا، مئینجنگ ڈائریکٹر زبیر باریجا، چیف سیکیورٹی آفیسر میجر ریٹائرڈ سعد ، چیف انجینیئر ارشد مغل اور سپروائزنگ انجینئر سلیم پرویز کے خلاف باقاعدہ انکوائری رپورٹ کے تحت مجرمانہ غفلت اور سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد نہ کرانے پر تھانہ صدر پر دفعہ 337اے، 322،427/34، تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی جنوبی ثاقب اسماعیل میمن نے انکوائری رپورٹ میں کہا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ میں شامل مذکورہ افراد نے آگ لگنے کے واقعے کے بعد سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد کیا اور نہ ہی فائربریگیڈ کو بھی بروقت اطلاع دی اسی طرح متعلقہ پولیس کو بھی تاخیر سے آگاہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 12 انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

ریجنٹ ہوٹل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ آگ کچن سے لگی جو ایئر کنڈیشن کے نظام سے اندر داخل ہوگئی

تحقیقاتی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انکوائری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ افراد کی مجرمانہ غفلت اور بروقت آگ پر قابو پانے کے اقدامات نہ اٹھانے کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔

یاد رہے کہ پانچ دسمبر کو کراچی کی شاہراہ فیصل پر واقع ریجنٹ ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے، یہ ڈاکٹر سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں سے تربیت میں شرکت کے لئے آئے تھے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ آگ کچن سے لگی جو ایئر کنڈیشن کے نظام سے اندر داخل ہوگئی۔