لیوک سائمنز: ویلز کے شہر کارڈِف کا شہری جو پانچ برس بنا جرم کے یمن میں قید رہا

برطانیہ کے علاقے ویلز سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو یمن میں پانچ سال تک بغیر کسی الزام یا مقدمے کے حراست میں رکھنے کے بعد حال ہی میں رہا کر دیا گیا ہے۔
ویلز کے شہر کارڈف کے لیوک سائمنز کی عمر 25 سال تھی جب انھیں سنہ 2017 میں یمن میں حوثیوں نے پکڑا تھا۔ حوثی یمن کی خانہ جنگی میں حکومت کے خلاف لڑنے والا ایک عسکریت پسند باغی گروہ ہے۔
لیوک سائمنز کو ایک جاسوس کے شبہ پر پکڑا گیا تھا، ان کے اہلخانہ اس الزام کو 'مضحکہ خیز' قرار دیتے ہیں۔
برطانیہ کی وزیر خارجہ لز ٹرس نے لیوک کی رہائی میں مدد کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے عمانی اور سعودی دوست ممالک کا شکریہ جنھوں نے ان کی رہائی کو یقینی بنانے میں برطانیہ کی مدد کی۔'
برطانوی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ 'مجھے خوشی ہے کہ لیوک سائمنز، جنھیں یمن میں 2017 سے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا، رہا کر دیا گیا ہے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'ان کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی، قید تنہائی میں رکھا گیا، اور ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے سے انکار کیا گیا۔ اب انھیں عمان کے دارالحکومت مسقط لے جایا گیا ہے ، اور جلد ہی وہ برطانیہ میں اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔'
وہ ان 14 افراد میں سے ایک تھے جن کی رہائی ممکن بنانےمیں عمان نے مدد فراہم کی ہے۔ ان افراد کو یمن کے حوثی باغیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا میں رکھا گیا تھا۔
اب ان افراد کو عمان کے دارالحکومت منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے ان کو ان کے اپنے اپنے ممالک بھیجا جائے گا۔
افراتفری کے درمیان پاسپورٹ کھو گیا
لیوک سائمنز نے اپنی نوعمری کے اواخر میں مذہب اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کے بعد انھوں نے اپنا نام جمال رکھا تھا۔ 20 سال کی عمر میں، انھوں نے مصر اور پھر وہاں سے یمن جانے سے قبل مکہ میں حج ادا کیا تھا۔ وہ مصر اور یمن میں انگریزی کی تعلیم دیتے تھے۔ انھوں نے شادی بھی وہیں کی تھی۔
سنہ 2015 میں جب یمن میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو انھوں نے اپنے اہلیہ تغرید کے ہمراہ ملک چھوڑ دیا، لیکن وہ برطانیہ واپس نہیں آسکے کیونکہ افراتفری کے دوران ان کی اہلیہ کا پاسپورٹ کھو گیا تھا۔
وہ یمن واپس گئے اور وہاں ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا، لیکن وہ خونریز خانہ جنگی جس نے ہزاروں جانیں لی سے بچ نکلنے کے طریقے تلاش کرتے رہے۔
دو سال بعد، جب لیوک سائمنز نے حکام کو اپنا برطانوی پاسپورٹ پیش کیا تاکہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ یمن سے باہر جانے کے لیے رقم حاصل کر سکیں تو انھیں ایک مشتبہ جاسوس کے الزام پر گرفتار کر لیا گیا۔

خانہ جنگی کا آغاز کیسے ہوا؟
سنہ 2015 میں سعودی عرب یمن میں حوثی باغیوں کی ممکنہ کارروائی سے پریشان ہو گیا تھا اور اسے یہ خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ حوثی یمن پر قبضہ کر لیں گے اور یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اس کا حریف اسلامی ملک ایران یہاں اپنا ایک مستقل اڈہ بنا لے گا۔
سعودی عرب نے اپنے زیر قیادت اسلامی ممالک کے اتحاد نے سرکاری حکومت کی حمایت کرتے ہوئے حوثیوں کے خلاف لڑتے ہوئے سات سال گزارے ہیں۔
تاہم حوثیوں کی جانب سے بغاوت کا آغاز 2011 میں یمن کے دیرینہ آمرانہ صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار اپنے نائب عبد ربہ منصور ہادی کے حوالے کرنے پر مجبور کرنے سے ہوا تھا۔
نئے صدر ملک کے اقتصادی اور سیکورٹی کے مسائل سے مغلوب تھے، اور یمن کی زیادہ تر مسلح افواج نے معزول صدر کے لیے ہادی کی نسبت زیادہ وفاداری محسوس کی، اور حوثیوں نے ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔
جنگ کی وجہ سے یمن اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔
لیوک سائمنز اور ان کی اہلیہ کو جنوبی مغربی یمن میں حوثی باغیوں نے جاسوسی کے شبے میں حراست میں لیا تھا، جس کی ان کا خاندان سختی سے تردید کرتا ہے۔
ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت صنعا میں قید تنہائی کے دوران ان کی جسمانی اور ذہنی صحت خراب ہو گئی تھی۔
ان کی بیوی کو پہلے رہا کیا گیا تھا اور وہ جیل میں وقتاً فوقتاً اس سے ملنے جاتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

'جہنم میں زندگی بسر کر
اس سال کے شروع میں ان کی اہلیہ نے ان کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ لیوک سائمنز کے کے دادا رابرٹ کمنگز کے مطابق' انھوں نے فروری میں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ان کا پوتا 'جہنم میں زندگی بسر کر رہا ہے۔'
لیوک کی یمن میں قید کا معاملہ کارڈف ویسٹ کے ایم پی کیون برینن نے اٹھایا تھا، جنھوں نے کہا تھا کہ یہ 'خوفناک خبر' ہے۔
یہ رہائی دو اپریل کو یمن میں دو ماہ کی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ہوئی ہے۔
یہ 2014 میں شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کے ملک کی خانہ جنگی میں گزشتہ چھ برسوں میں پہلی ملک گیر جنگ بندی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایلیڈ میکفرسن کا کہنا ہے کہ 'یہ حیرت انگیز خبر اور ایک بہت بڑی راحت ہے کہ لیوک سائمنز کو پانچ سال تک اذیت ناک حالات میں قید رکھنے کے بعد بالآخر یمن کی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'سائمنز یمن میں تنازعہ کا ایک معصوم شکار تھے اور انھیں پہلے ہی حراست میں نہیں لیا جانا چاہیے تھا، انھیں جن ناقابل برداشت حالات کا سامنا کرنا پڑا جس میں قید تنہائی بھی شامل ہے ، نے لیوک کی صحت کو سنگین نقصان پہنچایا اور اس کی ذہنی اور جسمانی حالت کو متاثر کیا۔'."
انھوں نے کہا کہ ایمنسٹی کو بے صبری سے امید تھی کہ آخر کار وہ اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ مل جائیں گے اور کارڈف واپس سفر کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔‘




















