کچھ لوگ کھیل میں ’چیٹنگ‘ کرنے پر مجبور کیوں ہوتے ہیں؟

چیٹنگ گیمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, وِلیم پارک
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر
  • وقت اشاعت

جب کسی کھیل میں غیر منصفانہ حربوں کی بات آتی ہے تو ہم میں سے کچھ کھیل کے اصولوں کو توڑنے میں جلدی کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم یہ سمجھ جائیں کہ ایک کھیل کی ساخت اور اُس کے اصولوں کو کس طرح تشکیل دیا گیا ہے تو پھر ہمارے لیے کھیل میں ’چیٹنگ‘ (دھوکہ دینے) کی خواہش کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

تھوڑا سا بے ایمان ہونے اور فعال طور پر ’چیٹنگ‘ (دھوکہ دہی) کے درمیان ایک ایسا فرق ہے جو غیر واضح ہے۔ کون ہے جو 'مونوپلی' کھیلتے ہوئے اپنے حریف کی پراپرٹی کی طرف چوری چھپے نظر رکھنے کی کوشش نہیں کرتا ہے یا 'کلیڈو' میں مخالفین کے پتّوں پر ایک نظر نہیں ڈالتا ہے؟

یہاں تک کہ اگر ہم نے کبھی دھوکہ دینے کا ارادہ نہ بھی کیا ہو، کرایہ ادا نہ کرنے یا دوسروں پر برتری حاصل کرنے سے جس میں ایڈرینالائن کا معمول سے زیادہ اخراج ہوتا ہے، اُس کا ایک اپنا ہی لطف ہے جو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے۔

اگرچہ ایسی ’چیٹنگ‘ چھٹیوں کے دوران خاندانی تنازعات کا باعث بن سکتی ہے، اسی لیے شاید بورڈ گیمز، پیشہ ورانہ کھیلوں میں ’چیٹنگ‘ ایک بڑا مسئلہ ہے۔

'کاؤنٹر اسٹرائیک ای سپورٹس' ٹیموں کے کوچز پر کھیلوں کے اصولوں کی پامالی اور میچ فکسنگ کے الزمات کی وجہ سے پابندی عائد کردی گئی ہے۔ 'ای سپورٹس' کے سینیئر کھلاڑی لاکھوں ڈالر کما سکتے ہیں اس لیے چیٹنگ کی کسی بھی شکایت کی سختی سے انکوائری کی جاتی ہے۔ پیشہ ورانہ پوکر اور برِج کی دنیا بھی حالیہ چیٹنگ کے اسکینڈلوں کی وجہ لرز کر رہ گئی ہے۔

تاہم پیشہ ورانہ اور شوقیہ کھیلوں، دونوں میں چیٹنگ روکنے کی کوششوں کے باوجود یہ ہمارے خیال سے کہیں زیادہ عام ہے۔ مگر مزے کی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ چیٹنگ ایک اچھی چیز بھی ہو سکتی ہے۔

'وائی وائیل' جو سنہ 1999 میں آٹھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے ایک تعلیمی کھیل کے طور پر بنائی گئ تھی، چیٹنگ کی تحقیقات کے لیے ایک غیر متوقع موضوع لگتا تھا۔

میا کونسالوو، جو کہ 'چیٹنگ: گیننگ ایڈوانٹیج ان ویڈیوگیمز' کی مصنف ہیں اور مونٹریال، کینیڈا میں کنکورڈیا یونیورسٹی میں گیم سٹڈیز اور ڈیزائن، اور کمیونیکیشن سٹڈیز کی پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ 'اس بات کے کئی شواہد ہیں کہ چیٹنگ ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے۔‘

'وائی وائیل' کے کھیل میں کئی کھلاڑی 'مال' (کلیمز) ملنے کے بدلے سائنس اور ریاضی کے معمے حل کرتے ہیں، اس میں ورچیول کرنسی استعمال کی جاتی ہے۔ اس کھیل میں اوتار اپ گریڈ کے لیے 'کلیم' کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے جیسے چہرے کی نئی خصوصیات، بال کٹوانے یا مال، جبکہ کھلاڑی اپنی پوسٹ پر اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی قیمت پر فروخت کرنے کے لیے اپنے ڈیزائن اپ گریڈ کرسکتے تھے۔

گیم نے ورچوئل کرنسیوں کے تخلیقی استعمال اور سائنس اور ریاضی میں کم عمر، زیادہ تر خواتین سامعین کو شامل کرنے کے لیے تعریفیں حاصل کیں (ایک موقع پر ایک وائرس - Whypox - اوتاروں کے چہروں پر پھیل گیا، اور کھلاڑیوں کو اس پر قابو پانے کے لیے بہت تگ و دو کرنا پڑی تھی۔‘

میا کونسالوو کہتے ہیں کہ 'جب میں نے سنا کہ یہ گیم دو لڑکیوں کے لیے ہے تو میں نے ڈویلپرز سے پوچھا کہ اوہ، تو شاید آپ کو چیٹنگ کرنے میں کوئی عار نہیں ہے'۔ اس کے پاس اس کھیل میں اس چیٹنگ کے ہونے کی معقول وجوہات تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت چیٹنگ پر زیادہ تر تحقیق مردوں پر مرکوز تھیں۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ مردوں نے عورتوں سے زیادہ دھوکہ دیا ہے۔

چیٹنگ گیمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکسی کھیل میں زیادہ مہارت رکھنا اپنی جگہ فائدے مند ہے، جو ہمیں دوسرے سے چیٹنگ کرنے میں فائدہ دیتا ہے۔

لیکن 'وائی وائیل' کھیل کے ڈویلپرز نے اس سلے میں کچھ غیر معمولی باتیں دیکھیں۔ یہاں ایک گیم تھی جس میں 68 فیصد سامعین 8-13 سال کی عمر کی لڑکیاں تھیں، لیکن اس میں دھوکہ دہی اپنے عروج پر تھی۔ بہت سی گیمز کی طرح وہاں بھی چیٹنگ کے کوڈز اور واک تھرو گائیڈز موجود تھے۔ یاسمین کافائی جو امریکہ کی یونیورسٹی آف پینسِلوانیا، میں لرننگ کی پروفیسر اور ڈیبورا فیلڈز جو یوٹا اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، دونوں نے اپنی مشترکہ تحقیق میں یہ دریافت کیا کہ کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے اکاؤنٹس کو بھی ہیک کیا یا سیکینڈری اکاؤنٹس بنائے تاکہ وہ مزید 'کلیم' حاصل کر سکیں۔

میا کونسالوو کہتی ہیں کہ وہ گیمز میں ایک اور قسم کی دھوکہ دہی سے بھی متاثر ہوئی تھیں ۔ جو اس نے شاید ہی کہیں اور دیکھی۔ چیٹ فنکشن کا استعمال کرتے ہوئے کچھ لڑکیاں اپنے سامان کی قیمت بڑھانے کی سازش کر کے کلیم مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہی تھیں۔ لڑکیوں کے گروپ بظاہر سرِعام کُھل کر یہ پیغام دیں گی کہ کسی مخصوص اپ گریڈ کی کتنی ڈیمانڈ ہے اور اس کی کتنی قیمت مل سکتی ہے اور وہ کتنی رقم ادا کرنے کو تیار ہوں گی، تاکہ دوسرے کھلاڑیوں کو ان کے سامان کے لیے زیادہ ادائیگی کرنے کے لیے پھنسایا جا سکے۔کونسالوو اسے ایک قسم کا 'سوشل آربِٹراژ' قرار دیتی ہیں، جو کہ مارکیٹ میں ہیرا پھیری کی ایک شکل ہے۔

لڑکیوں کی ذہانت کے بارے میں کونسالوو کا کہنا ہے کہ 'یہ بہت شاندار ہے، ٹھیک ہے۔ آپ کبھی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کھیل میں کون کیا کرنے جا رہا ہے، اس کے ساتھ ہمیشہ کچھ نیا اور دلچسپ ہوتا رہے گا۔'

وہ کیوں دھوکہ دے رہی تھیں؟ کونسالوو اپنی کتاب میں ایک 'گیمنگ کیپٹل' نامی خیال کو بیان کرتی ہیں۔ کھیل میں اچھا ہونا ایک سماجی کامیابی سمجھی جاتی ہے، جو آپ کو معاشرے میں بہتر مقام دیتی ہے۔ اچھے کھلاڑی اپنی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ انھیں ماہر سمجھتے ہوئے ان سے مشاورت کیا کریں۔

میا کونسالوو کہتی ہیں کہ 'یہ علم ہے جو آپ کو کسی خاص کھیل کے گہرے کھیل سے حاصل ہوتا ہے، اور یہ وہ چیز ہے جسے آپ دوسرے لوگوں کو دے بھی سکتے ہیں۔ خیال یہ ہے کہ آپ کے پاس یہ ایک قسم کا کلچرل کیپیٹل ہے۔'

لیکن اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات کھلاڑیوں کو چیٹنگ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک بہترین کھلاڑی اپنے سے کم درجے کے کھلاڑی کے ساتھ چیٹنگ کرے۔ گیم میں ہار جانے کا خوف شاید کسی مفاد کے ملنے کی لالچ زیادہ طاقتور ہوتا ہے ۔

اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کسی کھلاڑی کو کھیل میں جو نقصان محسوس ہوتا ہے وہ حقیقی ہے۔ یہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ آپ سے آپ کا گیمنگ کیپیٹل چھین لیا جائے، چاہے آپ جو کھو رہے ہیں وہ مونوپلی کے ڈالرز ہوں یا 'وائی وائیل' کے کلیمز ہوں۔

چیٹنگ گیمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکامیاب کھلاڑیوں میں چیٹنگ کی زیادہ خواہش ہو سکتی ہے۔

اپنی سماجی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے دھوکہ دہی کے خیال کی تائید دوسری جگہو ں سے ملنے والے شواہد سے ہو سکتی ہے۔ کیری رچی، جو اونٹاریو، کینیڈا میں یونیورسٹی آف گیلف میں ٹیجنگ کو بہتر بنانے کے طریقہ پر تحقیق کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ تعلیمی چیٹنگ کی اکثریت اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کے ذریعے کی جاتی ہے، (60 فیصد 'مجرموں' نے 80 فیصد یا اس سے بہتر گریڈز حاصل کیے ہوئے تھے)۔ اگرچہ تعلیم میں چیٹنگ کھیل کے دوران کی جانے والی چیٹنگ جیسی نھیں ہے، تاہم اگر مماثلتیں ہیں تو یہ ہیں کہ بہترین گریڈز لینے والے طلبا اپنی برتر حیثیت برقرار رکھنے کے لیے دباؤ محسوس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

لیکن چیٹنگ کی خواہش کے دیگر عوامل بھی ہیں جو اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ آیا ہم چیٹنگ کرتے ہیں یا نہیں۔ مثال کے طور پر ایک کھلاڑی کے جتنے زیادہ چیٹنگ کرنے والے دوست ہوتے ہیں مستقبل میں ان کے چیٹنگ کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دو وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے: سماجی اثر و رسوخ - جہاں ہمارے دوستوں کے اعمال ہمارے رویے کو تبدیل کرنے کا سبب بنتے ہیں - یا ہمارا اپنے ہم پلّہ لوگوں سے میل جول رکھنا، جہاں ہم اپنے جیسے دوستوں کی تلاش کرتے ہیں۔ کونسالوو کہتی ہیں کہ 'لوگ کہیں گے، ٹھیک ہے، دوسرے لوگ بھی دھوکہ دے رہے ہیں، اس لیے مجھے ہر اس فائدے کی ضرورت ہے جو میں حاصل کر سکتا ہوں۔'

تو کیا وائی وائیل کھیل کھیلنے والے ایماندار کھلاڑیوں کو ان کے چیٹنگ کرنے والے دوست ان کو چیٹنگ کرنے کے لیے اکساتے ہیں؟ یا جو لوگ چیٹنگ کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں کیا ایک دوسرے کو دوست بنانے کی کوشش کرتے ہیں؟ ایسی تحقیق ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مؤخر الذکر بات درست ہوسکتی ہے کیونکہ ہم ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں جو اعتماد کا اسی سطح کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسا کہ ہم کرتے ہیں۔ لیکن کافائی اور فیلڈز نوٹ کرتی ہیں کہ'وائی وائیل' میں مارکیٹ کی ہیرا پھیری کے لیے بہت زیادہ سماجی تعامل کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے دوست ایک دوسرے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ایک گروپ کے طور پر چیٹنگ کچھ کھلاڑیوں کو اپنے رویے کا جواز پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔ ایسے کھلاڑیوں کے چیٹنگ کرنے کے زیادہ امکانات ہوتے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ چیٹنگ کرنے سے دوسروں کو اور انھیں بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

'وائی وائیل' گیم میں چیٹنگ کی تحقیق کرنے والی کافائی اور فیلڈز اپنی پہلی تحقیق کے دس برس بعد ایک فالو اپ تحقیق میں یہ دریافت کرتی ہیں کہ (جبکہ کھلاڑیوں کی اوسط عمر میں کچھ اضافہ ہوچکا تھا) چیٹنگ اب بھی عام ہے اور گیم کھیلنے والے لوگوں میں اس پر اب کھل کر بحث کی جاتی ہے۔ کافائی اور فیلڈز کا کہنا ہے کہ یہ ایک مثبت بات ہو سکتی ہے - یہ نوجوان کھلاڑیوں کو اخلاقی فیصلوں کے ساتھ گیم لڑنے کی ترغیب دیتی ہے، اور چونکہ چیٹنگ عام طور پر ایک کمیونٹی سرگرمی ہے، اس کے لیے افراد میں آپس میں مذاکرات کی ضرورت ہوتی ہے۔

چیٹنگ گیمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکئی کھلاڑیوں کے درمیان کھیلی جانے والی گیم میں چیٹنگ مخالف کو پریشان کر سکتی ہے، صرف ایک کھلاڑی کے تنہا گیم کھیلنے سے ماحول بہتر ہوسکتا ہے۔

تاہم ان محققین نے چیٹنگ کے منفی اثرات کا بھی مشاہدہ کیا۔ جب کہ کچھ چیٹنگ کی شکلیں کافی حد تک بے ضرر تھیں، 'کلیمز' کے ذریعے چیٹنگ سے کھلاڑیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ کافائی اور فیلڈز ایک 12 سالہ لڑکی 'زو' کی ایک مثال دیتی ہیں، جو چیٹنگ کی وجہ سے اپنی کمائی ہار جانے کے بعد وہ خود بھی اگلے روز چیٹنگ کرنے لگ گئی۔ پھر دو ہفتے بعد اُس نے مکمل طور پر کھیلنا بند کر دیا۔ اس کھیل میں اس کی دلچسپی برباد ہو گئی۔

کافائی اور فیلڈز وضاحت کرتی ہیں کہ چیٹنگ ایک ایسی سرگرمی ہے جس کا ہدف دوسرے کھلاڑی ہوتے ہیں، نہ کہ گیم کا ڈیزائن، اور یہ بھی قیاس کیا جاتا ہے کہ اسے 'سائبر بُلینگ' سے جوڑا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گیم میں چیٹنگ کی بلند شرح بچوں کو ان کے اعمال کے اثرات سے آگاہ کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔

کئی کھلاڑیوں (ملٹی پلیئر) میں کھیلی جانے والی گیمز کے علاوہ چیٹنگ سنگل پلیئر گیمز کو بہتر بنا سکتی ہے، اور یہ کسی دوسرے کھلاڑی کے مزے کی قیمت پر نہیں کھیلی جاتی ہے۔ یہ اکیلے کھیلتے وقت چیٹنگ موڈ کو ٹھیک کر سکتی ہے، تناؤ سے نجات فراہم کر سکتی ہے اور نفسیاتی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔

تاہم میا کونسالوو اِس بات کو کئی وجوہات کی بنا پر اپنی درجہ بندی میں کافی نیچے رکھتی ہے۔ سب سے پہلی وجہ تو یہ کہ بعض اوقات گیمز کسی سُقم سے پاک نہیں ہوتی ہیں۔ ایک چھوٹی سی خامی یا نگرانی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی کھلاڑی پھنس جائے - اور یہ کسی کے لیے کوئی مزہ نہیں ہے۔ کونسالوو کہتی ہیں کہ یہ لوگوں کے چیٹنگ کرنے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ وہ اس کا موازنہ کتاب پڑھنے سے کرتی ہیں۔ اگر کتاب پڑھنے والے کو اگلے باب پر جانے سے پہلے اُسے پوری طرح سمجھنا ہو تو لوگ دلچسپی کھو سکتے ہیں اور کتاب کو نیچے رکھ سکتے ہیں۔ بہت سی گیمز اگرچہ اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ ایک کھلاڑی کو آگے بڑھنے سے پہلے ایک لیول مکمل کرنا پڑے۔ کتاب کے برعکس، گیمز میں مشکل مرحلوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا ہے۔

میا کونسالوو کا کہنا ہے کہ کچھ گیمز بورنگ بھی ہوتی ہیں، اور 'پلے گاڈ' کھیلنا اور اس گیم کے ساتھ تجربہ کرنا زیادہ مزہ دار ہو سکتا ہے۔ کھلاڑی گیم کھیلنے کے نِت نئے طریقے تلاش کر کے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں - چیٹنگ کر کے نئی حدود عبور کرسکتے ہیں۔

اگر سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے تو یہ خیالی کرنسی ہے یا کسی کھیل کو منصفانہ طریقے سے مکمل کرنے پر ہماری اپنی انا ہے، تو شاید چیٹنگ کرنا اتنا برا نہیں ہے۔ 'وائی وائیل' کھیل میں دھوکے دینے والے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کرنے والے یقیناً اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے تھے - تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ انہوں نے اس دوران یہ بھی جان لیا ہو گا کہ صحیح اور غلط کے درمیان حد کہاں ہے۔

ولیم پارک بی بی سی فیوچر کے سیننیئر صحافی ہیں۔