عام شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور یرغمالیوں کو رہا کیا جائے: پوپ فرانسس

ویٹیکن سٹی میں اپنی ہفتہ وار دعا میں پوپ فرانسس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جو زخمی افراد ہیں ان کی فوری مدد کی جائے اور اس خطے میں انسانی امداد کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور حماس یرغمال بنائے جانے والے افراد کو رہا کرے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اسرائیل بچوں اور خواتین کا قتل بند کرے، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں

    France

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں بچوں اور خواتین کو قتل کرنا بند کریں۔

    بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن ’بمباری کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور جنگ بندی کا فائدہ اسرائیل کو ہو گا۔‘

    میکخواں نے زور دے کر کہا کہ فرانس ’حماس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی واضح طور پر مذمت کرتا ہے۔‘

    جب فرانسیسی صدر میکخواں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی جنگ بندی کی اپیل کریں تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ یہ اپیل کریں گے۔‘

    غزہ کی جنگ کے بارے میں پیرس میں انسانی امداد کی کانفرنس کے اگلے دن خطاب کرتے ہوئے، فرانسیسی صدر میکخواں نے کہا کہ اس سربراہی اجلاس میں موجود تمام حکومتوں اور ایجنسیوں کا ’واضح موقف‘ یہ تھا کہ ’سب سے پہلے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے، جنگ بندی (ہمیں) تمام شہریوں کی حفاظت کرنے کی اجازت دے گی جن کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنماؤں کو اسرائیل کے بجائے حماس پر تنقید کرنی چاہیے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی فوج عام شہریوں کو جنگ سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حماس انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔

    اس جنگ کو 35 دن گزر چکے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 11 ہزار 78 افراد ہلاک اور 27 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے جبکہ 240 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    جمعہ کو اسرائیل نے ہلاکتوں کی تعداد 1400 سے کم کر کے 1200 کر دی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور حیات نے کہا کہ حملے کے فوری بعد بہت سے لوگوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ اب ہم محسوس کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی نہیں بلکہ دہشت گرد تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دنوں میں ایک لاکھ افراد جنوبی غزہ کی طرف جا چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری کا کہنا تھا کہ لوگوں کے لیے تنازع سے بچنے کے لیے محفوظ راستے کھول دیے گئے ہیں۔

  2. الشفا ہسپتال کے قریب دھماکوں کی آواز، اسرائیلی ٹینک ہسپتال کے قریب پہنچ گئے, خادر زینون، غزہ

    میں اس وقت اسرائیلی ٹینکوں سے چند سو میٹر دور غزہ شہر کی الشفا ہسپتال کے باہر موجود ہوں۔ یہ ٹینک شمال اور جنوب کی طرف سے اس ہسپتال کی طرف پیشقدمی کر رہے ہیں۔

    اس علاقے میں اسرائیلی افواج نے فضائی اور زمینی حملے کیے۔

    میں اس وقت دھماکوں اور شیلنگ کی آواز سن سکتا ہوں۔ میں نے یہاں دیکھا ہے کہ لوگ گاڑیوں اور گدھا گاڑیوں میں لاشیں لاتے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں۔

    اس ہسپتال کے اندر ہزاروں زخمی لوگ داخل ہیں۔ ان میں سے بہت سارے ابھی بھی شدید زخمی ہیں۔ اب یہ لوگ اپنے زخموں کی وجہ سے ہسپتال چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہیں۔

    اس ہسپتال میں اس مخدوش صورتحال میں بھی اپنے پیاروں کی دیکھ بھال کے لیے بھی لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

    اس وقت غزہ میں ایندھن اور دوائیوں کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس وقت اسرائیلی فوج کے ٹینک ہسپتال کے بہت قریب تر آتے جا رہے ہیں۔

    اس ہسپتال سے ہزاروں لوگ ان جگہوں پر چلے گئے ہیں جنھیں وہ قدرے محفوظ سمجھتے ہیں۔ تاہم یہاں غزہ میں اس وقت احساس تحفظ بالکل ناپید ہو چکا ہے۔

  3. غزہ کے سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 50 ہلاکتیں

    غزہ شہر کی الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے سے البراق سکول میں 50 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    محمد ابو سلامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے میزائل حملے کے بعد النصر کے قریب واقع تباہ شدہ سکول کے اندر سے 50 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

  4. غزہ میں مارے جانے والوں کی تعداد 11000 سے تجاوز کر گئی

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی فضائی بمباری اور زمینی حملوں میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 11 ہزار سے بڑھ کر 11078 ہو گئی ہے۔

    مرنے والوں میں 4506 بچے اور 3000 سے زائد خواتین شامل ہیں۔ ان اسرائیلی حملوں میں 27000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    غزہ کی وزرت صحت کا اعدوادوشمار اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً 5400 بنتی ہے۔

    اس سے پہلے امریکہ اور اسرائیل یہ کہہ چکے ہیں کہ حماس کی وزارت کی طرف سے دیے جانے والے اعدادوشمار کو احتیاط سے پرکھیں مگر اب عالمی ادارہ صحت یہ کہہ چکا ہے کہ جو اعدادوشمار حماس کی طرف سے دیے جارے ہیں وہ درست ہیں۔

  5. بریکنگ, البراق سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 20 ہلاکتیں

    غزہ میں الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلامیہ نے کہا ہے کہ البراق سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 20 فلسطینی شہری مارے گئے ہیں۔

  6. غزہ کے اہم ہسپتالوں سے اسرائیلی فوج کتنی دور ہے؟

    اطلاعات کے مطابق غزہ کے شمال میں تین ہسپتالوں کے اندر یا قریب دھماکے ہوئے ہیں۔ ان میں الشفا ہسپتال، القدس اور انڈونیشین ہسپتال شامل ہیں۔ان تین ہسپتالوں کے بارے میں جو کچھ ابھی تک ہم جانتے ہیں:

    الشفا ہسپتال

    اس وقت اسرائیلی افواج نے الشفا ہسپتال کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ اس بارے میں مقامی آبادی نے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابولاؤف کو تفصیلات بتائی ہیں۔

    اس ہسپتال سے افواج صرف 250 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

    حماس کی وزارت صحت نے اس سے قبل یہ بتایا تھا کہ اسرائیل نے رات کو الشفا ہسپتال پر فضائی حملہ کیا ہے۔

    القدس ہسپتال

    غزہ شہر میں ایک اور ہسپتال القدس ہے، جسے اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے اپنے گھیرے میں لیے ہوا ہے۔

    بی بی سی کو اس ہسپتال سے ایک شخص نے بتایا کہ اس وقت ہسپتال کے اندر کوئی ٹینک موجود نہیں ہے۔ مگر اس ہسپتال کو تمام اطراف سے اسرائیلی افواج کے ٹینکوں نے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور مجھے جھڑپوں اور دھماکوں کی آوازیں مسلسل آر ہی ہیں۔

    انڈونیشن ہسپتال

    انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے مطابق ان کی ایک ہسپتال کے قریب دھماکے ہوئے، جس سے ہسپتال کا ایک حصہ بھی تباہ ہوا ہے۔

  7. الشفا ہسپتال: اسرائیلی فوج غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے, یولینڈ کنیل، بی بی سی نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ

    آج صبح اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ شہر کے وسط میں واقع الشفا ہسپتال کو گھیرے میں لیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    گذشتہ چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر چند ایسی ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں مردہ بچوں کو دکھایا گیا ہے جبکہ ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں میں موجود لوگ خوف و ہراس کا شکار نظر آ رہے ہیں۔

    سامنے آنے والی ویڈیوز میں میزائل یا مارٹر گولوں کی آوازوں کو سُنا جا سکتا ہے جو بعد میں ہسپتال کے احاطے پر آن گرتے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں اس حملے میں مارے گئے فلسطینی کو دکھایا گیا ہے جبکہ اسی ویڈیو میں ایک اور شخص سٹریچر پر موجود ایک مردہ شخص کو دکھاتا ہے جس کے قریب بڑی مقدار میں خون بکھرا ہوا ہے۔

    بی بی سی آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    ہپستال کے احاطے کو نشانہ بنانے والے میزائل یا گولے کہاں سے داغے گئے یہ بھی واضح نہیں ہے۔

    بی بی سی نے اسرائیلی فوج سے پوچھا کہ کیا انھوں نے رات گئے ہسپتال پر کوئی حملہ کیا؟ جس پر فوج کا جواب تھا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہری اور کچھ مقامی صحافی اس ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    قبل ازیں ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ پیدل فوج اور خصوصی دستوں نے فضائی مدد کے ساتھ الشفا ہسپتال کے قریب حماس کے فوجی ہیڈ کوارٹرز پر چھاپہ مارا ہے۔ اس مقام پر اسرائیلی فوج کی حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

  8. غزہ کی پٹی: اعلان کے باوجود جنگ میں وقفے ممکن نہیں ہو سکا

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی جانب سے اعلان کے باوجود شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جاری زمینی و فضائی کارروائیوں میں وقفے کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز وائٹ ہاؤس نے آگاہ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو بحفاظت جنگ زدہ علاقے سے نکلنے کی اجازت دینے کی غرض سے روزانہ چار گھنٹے آپریشن میں وقفہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا جنگ میں یہ وقفے حکمت عملی کے تحت اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ہوں گے تاہم ان وقفوں کو جنگ بندی نہیں کہا جا سکتا۔ دریں اثنا، اسرائیلی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ سے شہریوں کی نقل مکانی کے لیے انخلا کا ایک راستہ کھولا گیا ہے۔

    فلسطینیوں کو آج صبح غزہ شہر کی سڑکوں پر چلتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جن میں سے کچھ سفید جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔

  9. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید