جنگ بندی کا انحصار اسرائیل کا محفوظ محسوس کرنے پر ہے: امریکی اہلکار

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ جنگ بندی تب ہی ہو سکتی ہے جب اسرائیل محفوظ اور پراعتماد ہو گا کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کا فسلطینی ورکرز کو غزہ واپس بھیجنے کا اعلان

    اسرائیلی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل ملک کے اندر کام کرنے والے فلسطینی شہریوں کو واپس بھیج دے گا۔

    اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ’اسرائیل غزہ سے تمام رابطے منقطع کر دے گا۔ غزہ سے مزید فلسطینی کارکن نہیں لیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ غزہ کے وہ تمام شہری جو کام کے سلسلے میں جنگ شروع ہونے کے دن اسرائیل میں تھے، انھیں واپس کر دیا جائے گا۔‘

    تاہم اس بیان میں انھوں نے ان ورکرز کی تعداد نہیں بتائی جنھیں واپس بھیجا جائے گا۔ شہری امور کی ذمہ دار اسرائیلی ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے سے قبل اسرائیل نے تقریباً ساڑھے اٹھارہ ہزار فلسطینی باشندوں کے لیے ورک پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل پر حماس کی جانب سے کیے گئے حملوں اور جواب میں اسرائیل کی غزہ پر کارروائیوں کو تقریباً چار ہفتے گزر گئے ہیں۔

  2. غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا خفیہ اسرائیلی منصوبہ جس پر انتہائی رازداری برتی گئی

  3. اسرائیل غزہ جنگ : مختلف ممالک میں مظاہروں کی تصویری جھلکیاں

    جنگ بندی کے مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفرانس میں فلسطین کی حمایت میں بڑا مظاہرہ کیا گیا

    دنیا کے مختلف ممالک میں غزہ اور اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

    مظاہرے فلسطین میں جنگ بندی کے حوالے سے کیے گئے تو ساتھ ہی سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے خلاف بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

    ان میں سے بعض مظاہروں کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ کیجیئے۔

    جنگ بندی کے مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کوریا کے اراکین نے سیئول میں وزارت خارجہ کے باہر جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی ریلی میں شرکت کی۔

    مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنرومانیہ میں اسرائیل پرحماس کے حملوں کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا گیا
    جنگ بندی کے مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سوئٹزرلینڈ میں اسرائیل پر حماس کے حملے کے متاثرین کی یاد میں نکالی گئی۔ ریلی کے دوران لوگوں نے پیلی اور کالی چھترییں اٹھائیں۔

  4. بریکنگ, غزہ میں زمینی کارروائی میں حصہ لینے والے چار اسرائیلی فوجی ہلاک

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں زمینی کارروائی میں حصہ لینے والے مزید چار فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ’ہاریٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق ان ہلاکتوں کے بعد غزہ کی لڑائی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی کل تعداد 23 ہو گئی ہے۔

  5. اسرائیل کا اقوام متحدہ کے ماہرین پر حماس کے ’پراپیگنڈے‘ کو دہرانے کا الزام

    جبالیہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنجمعرات کو شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد فلسطینیوں کا رد عمل

    اسرائیل نے اقوام متحدہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ کی صورتحال پر حماس کا پراپیگنڈا دہرا رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بیان میں خیال ظاہر کیا ہے کہ غزہ میں شہریوں کو ’نسل کشی‘ کا شدید خطرہ لاحق ہے اور اسے روکنے کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کو ’تباہ‘ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور انھوں نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں سے فوری جنگ بندی پر اتفاق کرنے اور حماس اور دیگر عسکریت پسندوں سے تمام قیدی شہریوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق انھوں نے کہا ’غزہ کی صورتحال تباہ کن حد تک پہنچ چکی ہے۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ نسل کشی کا تعین صرف متعلقہ اقوام متحدہ کا عدالتی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔

  6. حماس کے جنگجو سرنگوں سے حملہ کر کے واپس بھاگ رہے ہیں: اسرائیلی فوج, جارج رائٹ، بی بی سی نیوز

    غزہ اسرائیل جنگ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں حماس کے مضبوط گڑھ کو گھیرے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

    اسرائیلی ڈیفینس فورس کے مطابق ’ حماس کے جنگجو سرنگوں سے حملہ کر رہے ہیں اور فوری واپس بھاگتے ہیں۔

    دوسری جانب حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ نو ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے گئے ہیں۔

    ادھر اقوام متحدہ نے پانی کی قلت مزید بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے اس کے چار سکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    ۔جمعرات کو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) نے کہا ہے کہ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے اس کے چار سکول 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں نقصان پہنچایا گیا ہے۔

    ادارے کے مطابق جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے ایک سکول میں مبینہ طور پر کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک بچہ سکول کو پناہ گاہ میں تبدیل کیے جانے والے ’بیچ پناہ گزین کیمپ‘ میں ہلاک ہوا۔

    بی بی سی کو اس حوالے سے دو تصدیق شدہ ویڈیوز موصول ہوئی ہیں۔ شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے ایک سکول میں فلمائی گئی ایک ویڈیو میں پہلے سکول کے مرکزی دروازے کے باہر اور پھر مرکزی صحن میں اس کے بعد کے پرتشدد حالات کو دکھایا گیا ہے۔

    اس وڈیو کلپ میں کم از کم 20 افراد، یا تو مردہ یا زخمی حالت میں زمین پر گرے دیکھے جا سکتے ہیں جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    غزہ پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دوسری ویڈیو ایک ایسے پرائمری اسکول کی ہے جسے ساحلی پناہ گزین کیمپ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ کلپ کو عمارت کے مرکزی صحن میں فلمایا گیا ہے جس میں مرکزی عمارت کے پیچھے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔

    اس ویڈیو میں بچوں سمیت کئی افراد صحن میں حفاظت کے لیے بھاگتے دکھا ئی دے رہے ہیں۔ ویڈیو کے پس منظر میں سلسلہ وار دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں اور پھر آخر میں پرزور دھماکے کی آواز صحن میں موجود ہجوم کو گھبراہٹ میں بھاگنے پر مجبور کرتی ہے۔

    غزہ میں حکام نے اسرائیلی فضائی حملوں پر اس کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ماہرین نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ میں گھرے فلسطینیوں کو اپنی نسل کشی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’غزہ کی صورتحال تباہ کن حد تک پہنچ چکی ہے۔ غزہ میں ایندھن کے داخلے پر پابندی اور پانی کی فراہمی میں خلل کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک بہت کم رسائی حاصل ہے۔‘

    ادارے کے مطابق ’پانی انسانی زندگی کے لیے ضروری ہے اور آج 20 لاکھ غزہ کے باشندے پینے کے پانی کی تلاش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

    جنیوا میں اقوام متحدہ میں اسرائیلی مشن نے ان تبصروں کو افسوسناک اور تشویشناک قرار دیا اور حماس کو شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

    اس سے پہلے جمعرات کو آئی ڈی ایف نے حماس کے تقریباً 130 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ فوج ’جنگ کے عروج پر‘ ہے۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا، ’ہمیں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور غزہ شہر کے مضافات سے ہو کر اب ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

    مصر کے ساتھ رفح کراسنگ دوسرے دن کھلنے کے بعد متعدد غیر ملکی شہری غزہ چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے تاہم طبی امدادی تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کا کہنا ہے کہ 20 ہزار سے زیادہ زخمی لوگ علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    ادھر لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اسرائیل میں بیک وقت 19 اہداف پر حملے کیے ہیں جو ان کے مطابق اسرائیل پر اب تک کا سب سے شدید حملہ ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اس کے جواب میں لبنان میں حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ جنگ شروع ہونے کے بعد آج حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا پہلا عوامی خطاب متوقع ہے۔

  7. حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا خطاب آج متوقع

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنحزب اللہ کے جنگجو اسرائیل کے ساتھ لبنان کی سرحد کے قریب لڑائی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ساتھی کا تابوت اٹھائے ہوئے ہیں

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار یہ توقع کی جا رہی ہے کہ جمعے کو لبنانی شیعہ عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ خطاب کریں گے۔

    یہ تقریر ممکنہ طور پر حزب اللہ کے اگلے اقدامات کی نشاندہی کر سکتی ہے کیونکہ لبنان اسرائیل کی سرحد پر حزب اللہ کے جنگجو اور اسرائیلی فوج ایک دوسرے پر حملے کر رہی ہیں۔

    اس وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ علاقہ ایک اور میدان جنگ بن سکتا ہے۔

    تاہم اب تک جھڑپیں کچھ علاقوں تک محدود ہیں۔

    سات اکتوبر کو حماس کے حملے اور غزہ پر اسرائیلی بمباری کے بعد سے حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے بڑھا دیے ہیں اور اسرائیل ان حملوں کا جواب دے رہا ہے۔

    لیکن دونوں فریقوں نے بظاہر کشیدگی میں خطرناک اضافے سے بچنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور زیادہ تر حملے سرحدی علاقے تک محدود رہے ہیں تاہم خدشہ ہے کہ یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔

  8. غزہ اسرائیل جنگ: اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    البریج کیمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنالبریج کیمپ میں امدادی کارکن ملبے کو ہٹا رہے ہیں

    حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقوں پر سات اکتوبر کو ہونے والے حملوں کے بعد سے اسرائیل کی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

    • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے غزہ شہر کا محاصرہ مکمل کر لیا ہے اور اب وہ حماس کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی بمباری سے پہلے یہ سب سے زیادہ گنجان آباد علاقہ تھا
    • اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں غزہ میں موجود ان کے چار سکولوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں پناہ گزین مقیم تھے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین کا کہنا ہے کہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں واقع ان کے ایک سکول پر تازہ حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں
    • بیچ پناہ گزین کیمپ اور البریج کیمپ کے سکولوں کو بھی نقصان پہنچا اور اس کے نتیجے میں تین ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں
    • کچھ لوگ مصر کی سرحد پر رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مصری حکام کے مطابق 21 زخمی فلسطینی، 344 غیر ملکی، جن میں سے 72 بچے بھی تھے، جمعرات کو غزہ سے مصر پہنچے ہیں
    • برطانیہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’مزید برطانوی شہری‘ غزہ سے مصر پہنچ گئے ہیں لیکن ان کی تعداد واضح نہیں کی جبکہ امریکہ کے مطابق ان کے دوہری شہریت رکھنے والے 74 شہری رفح کراسنگ سے مصر پہنچے ہیں
    • غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ سات اکتوبر کے بعد سے اب تک 9000 افراد غزہ کی پٹی میں ہلاک ہوئے ہیں
    • لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ نے لبنان اسرائیل سرحد پر متنازع شبعا فارمز پر موجود اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر دھماکہ خیز مواد سے لیس دو ڈرونز سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے
  9. امریکی صدر جو بائیڈن کا لڑائی میں ’وقفے‘ کا مطالبہ

    President

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور حماس کے درمیاں لڑائی میں وقفے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مغویوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔

    وہ امریکی ریاست مینیسوٹا میں ایک تقریب کے دوران خاتوں کو جواب دے رہے تھے جو اُن سے جنگ بندی کی اپیل کر رہی تھیں۔

    انھوں نے کہا ’میرے خیال سے ہمیں وقفے کی ضرورت ہے۔ وقفے کا مطلب ہے قیدیوں کو نکالنے کے لیے وقت دیا جائے۔‘

    بعد میں وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ صدر انسانی امداد اور 240 اسرائیلی مغویوں کی بات کر رہے تھے۔

    خاتون کو سکیورٹی عملے نے باہر نکالا جس کے دوران وہ ’فوری جنگ بندی‘ کی صدائیں لگا رہی تھیں۔ صدر بائیڈن نے آگے کہا کہ صورتحال اسرائیلیوں اور مسلم دنیا دونوں کے لیے ’بہت زیادہ پیچیدہ‘ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا ’میں دو ریاستی حل کے حق میں ہوں، میں شروع سے ہی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔‘

  10. بولیویا کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان، مگر ایسا پہلی بار نہیں ہوا

    Bolivia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ برسوں کے دوران بولیویا اور اسرائیل کے درمیاں سفارتی تعلقات انتہائی پیچیدہ رہے ہیں۔ اور ان تعلقات میں نیا موڑ دو روز قبل اس وقت سامنے آیا جب بولیویا کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    بولیویا کے وائس چانسلر فریڈی مامانی نے کہا کہ ’غزہ کی پٹی میں جارحانہ اور غیر متناسب اسرائیلی فوجی حملے کی تردید اور مذمت‘ میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

    بولیویا کی حکومت نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کا احترام نہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے روکے جائیں جن میں اب تک حماس کی زیر کنٹرول وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 8500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل پر سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد تین ہفتوں سے اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

    بولیویا وہ پہلا لاطینی ملک بن گیا ہے جس نے غزہ کی موجودہ صورتحال کے باعث اسرائیل سے تعلقات ختم کر لیے ہیں۔ مگر بولیویا نہ ایسا پہلی دفعہ نہیں کیا۔

  11. بی بی سی کے لائیو پیج پر خوش آمدید

    حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ سے متعلق گذشتہ روز کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔