اسرائیلی وزیر دفاع کا سرحد پر موجود دستوں کو ’تیار رہنے‘ کا حکم، امریکہ کی دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو سفری تنبیہ جاری

اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ میں کیے گئے تازہ حملوں میں حماس کے سینکڑوں ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب مصر نے غزہ میں امداد کے 20 ٹرکوں کو داخل کرنے کے لیے رفح کراسنگ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ امداد حکام امریکہ کی نگرانی میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں کے ساتھ تعاون سے فراہم کریں گے۔

لائیو کوریج

  1. ’ہم آپ کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہیں‘: برطانوی وزیر اعظم رشی سونک

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہUK government

    اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو نے اسرائیل آنے پر برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ’حمایت کا ایک مضبوط پیغام دیتا ہے، ہم اس کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتے ہیں۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو اور برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے آج (جمعرات) اسرائیل میں حماس کے حملے کے بعد سے پیدا ہونے والی جنگی صورتحال پر ملاقات کی جس کے بعد تل ابیب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    پریس کافرنس میں بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ صرف اسرائیل کی جنگ نہیں ہے بلکہ مہذب اور آزاد دنیا اور جدید عرب ممالک کی بھی جنگ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرا فریق برائی کا محور ہے جس میں حماس، حزب اللہ اور ایران شامل ہیں۔‘

    دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے خلاف لڑائی کا ذکر کرتے ہوئے نیتن یاہو نے سونک کو بتایا کہ ’80 سال پہلے دنیا آپ کے مُشکل اور تاریک ترین وقت میں آپ کے ساتھ کھڑی تھی۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب یہ ہمارے لیے تاریک ترین وقت ہے۔‘

    نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں آپ کی حمایت اور آپ کے اسرائیل آنے کی قدر کرتا ہوں، ہم سب کو مل کر جیتنا ہوگا۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک طویل جنگ ہے اور ہمیں آپ کی مسلسل حمایت کی ضرورت ہوگی، نشیب و فراز اور مشکلات آئیں گی ہمیں بس آپ سب کی مسلسل حمایت کی ضرورت ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم کے بعد برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے پریس کانفرس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل ہر دن تشدد اور دہشت گردی کے خوف میں گزر رہا ہے۔‘

    وزیر اعظم رشی نے مزید کہا کہ ’برطانیہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اسرائیل کے حقِ دفاع اور حماس کے خلاف اس کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘

    سونک نے مزید کہا کہ ’وہ جانتے ہیں کہ اسرائیل ’حماس کے شدت پسندوں کے برعکس شہریوں کو نقصان پہنچانے کی لیے کوشش کر رہا ہے۔‘

    برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم سب اس ہفتے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کے مناظر سے صدمے میں ہیں اور ہر جگہ معصوم شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی شہری بھی حماس کے مظالم کا شکار ہیں اور غزہ کی پٹی میں امداد جانے کی اجازت دینے کے اسرائیل کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

  2. ’ہم غزہ کے لوگوں تک امدادی سامان پہنچائے بغیر واپس نہیں جائیں گے‘: امدادی کارکن سرحد پر انتظار کر رہے ہیں

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے رفح کراسنگ پر مصر کی حدود میں غزہ میں داخلے کے انتظار میں ہیں، اس انتظار کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اب تک غزہ میں امدادی اداروں اور سامان کے داخلے کی باضابطہ اجازت نہیں دی گئی۔

    امدادی ادارے ’مصری فوڈ بینک‘ کے محسن سرحان نے بی بی سی کے ریڈیو فور ’ٹوڈے پروگرام‘ کو بتایا کہ غزہ کی سرحد پر 120 امدادی ٹرک موجود ہیں اور ’سات یا آٹھ کارگو طیارے سامان سے لدے ہوئے ہیں جو ترکی سے آ رہے ہیں۔‘

    سرحان نے مزید کہا کہ ’وہ اور ان کے ساتھی امدادی کارکن غزہ کے لوگوں کی مدد میں ناکامی کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’ہمارے کارکُنوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، کہ یم یہ جانتے ہوئے بھی کہ غمہ میں لوگوں کے پاس پینے کا پانی ختم ہو رہا ہے کُچھ نہیں کر پا رہے، حتیٰ کے وہاں انتظامیہ کے پاس ’باڈی بیگز‘ (وہ بیگز یا تھیلے جن میں ہلاک ہو جانے والے افراد کے جسم کو رکھا جاتا ہے) بھی ختم ہو چُکے ہیں۔‘

    سرحان نے کہا کہ ’وہ اور ان کی ٹیم اس وقت تک غزہ کی سرحد سے نہیں جائیں گے جب تک کہ وہ امدادی سامان غزہ میں تقسیم کرنے کے لیے داخل نہیں ہوجاتے، انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قتل و غارت بند ہو تاکہ ہم غزہ میں داخل ہو سکیں۔‘

  3. غزہ کی پٹی: ’دنیا کی سب سے بڑی کُھلی جیل‘ جس پر سکندر اعظم سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ تک نے حکومت کی

  4. حماس کے حملے میں اسرائیلی دفاعی افواج کے 300 سے زائد فوجی ہلاک ہو چُکے ہیں

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے حماس کے حملے کے بعد سے اب تک 306 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چُکے ہیں۔

    بدھ کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کے حملے میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی کی تعداد 1400 سے تجاوز کر چُکی ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری کا بھی کہنا ہے کہ ’وہ اس امکان سے انکار نہیں کر سکتے کہ حماس کے ابتدائی حملے کے بعد فلسطینی عسکریت پسند اب بھی اسرائیلی سرزمین پر موجود ہیں۔‘

  5. اسرائیل کو نائن الیون کی غلطیوں پر امریکہ کی بات سننی ہوگی, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہم نہیں جانتے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو کے درمیان نجی ملاقاتوں کا مقصد کیا تھا۔

    لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بائیڈن کی تقریر کے ایک مرکزی حصے میں نائن الیون کا حوالہ دیا گیا اور یاد دلایا گیا کہ انصاف کی تلاش میں امریکہ نے وہ کام کیے جن پر انھیں افسوس تھا۔

    لہذا یہ اسرائیلیوں کے لئے عوامی سطح پر ایک شائستہ اور دوستانہ انتباہ تھا۔ اور آج صبح یہاں کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہو رہی ہے کہ بائیڈن اس چیز کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے وہ یہاں ’کھیل کے اصول‘ کہتے ہیں۔

    اسرائیل کو یہ بات سننی پڑے گی کیونکہ اسے دو چیزوں کی ضرورت ہے، ایک امریکی کانگریس سے پیسہ، اور دوسری چیز لبنان میں حزب اللہ کو روکنے کے لیے مشرقی بحیرہ روم میں موجود دو امریکی بحری بیڑوں کی جنگی صلاحیت کی۔

  6. بریکنگ, حماس کے پولیٹیکل بیورو کی پہلی اور واحد خاتون ایک فضائی حملے میں ہلاک

    جمیلہ الشنطی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس کے پولیٹیکل بیورو کی پہلی اور واحد خاتون ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئی ہیں۔

    پولیٹیکل بیورو حماس کا فیصلہ سازی کا اہم ادارہ ہے۔

    حماس کے شریک بانی عبدالعزیز الرنتیسی کی بیوہ جمیلہ الشنطی نے حماس میں خواتین کی تحریک کی بنیاد رکھی اور 2021 میں پولیٹیکل بیورو کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

    رپورٹس میں حملے کے مقام کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

  7. ’ہسپتال کے 40 فیصد زخمی بچے ہیں‘

    عزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈاکٹر غسان ابو سیطہ غزہ کے الاہلی ہسپتال میں کام کر رہے تھے جب منگل کی رات ایک دھماکہ ہوا۔

    شمالی لندن سے تعلق رکھنے والے سرجن نے بتایا کہ آپریشن روم کی سیلنگ ہم پر اس وقت آن گری جب وہ آپریشن کر رہے تھے۔

    اس سے قبل ڈاکٹر ابو سیطہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ رات ایک بجے تک انتہائی خراب حالات میں روزانہ کام کر رہے تھے اور ان مریضوں میں سے 40 فیصد بچے تھے جن میں اکثریت اپنے والدین کھو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے ٹھیک ہونے میں بہت زیادہ وقت لگے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

  8. بریکنگ, غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی تعداد کم از کم 203 ہے

    کارمیلا اور نویا دان کی ہلاکت کا اعلان کے ساتھ اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں میں یرغمال بنائے گئے افراد کی تعداد کو اپ ڈیٹ کیا۔

    اسرائیلی دفاعی فورسز کے ترجمان ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ فوج نے غزہ میں قید 203 یرغمالیوں کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا ہے۔

    یہ پہلے سے اعلان کردہ یرغمالیوں کی تعداد 199 کے مقابلے میں اضافی تعداد ہے۔

  9. چینی صدر شی جن پنگ کا مصری رہنما سے ملاقات میں جنگ بندی پر زور

    شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کا دورہِ اسرائیل آج مشرق وسطیٰ میں جاری صورتحال سے متعلق ہونے والی واحد سفارتکاری نہیں ہے۔

    بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ نے مصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی سے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ جنگ میں جنگ بندی سب سے فوری اور اہم کام ہے۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی شروع ہونے سے پہلے چین مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کام کر رہا تھا۔

    رواں سال کے اوائل میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے تھے جو سات سال میں پہلی مرتبہ ہوئے تھے۔

    چین نے 7 اکتوبر کے حملوں پر حماس کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔

  10. غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد ملنے والی تصاویر

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEFE/REX/Shutterstock

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. فلسطین اسرائیل تنازع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرہ ہے: روسی وزیر خارجہ

    روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاوروف نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ ’فلسطین اسرائیل تنازعے کے علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا سنگین خطرہ ہے‘۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے حوالے سے ترکی کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    لاوروف نے کہا کہ روس ’ہر چیز کے لیے ایران کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوششوں کو نوٹ کرتا ہے‘ اور کہا کہ روس کے نظر میں ایرانی قیادت کی پوزیشن میں ’کسی حد تک ذمہ داری اور توازن‘موجود ہے۔

  12. اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی پر اختلاف کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے ڈائریکٹر مستعفی

    امریکہ کے اتحادیوں کو اسلحے کی منتقلی کی ذمہ دار ایجنسی میں کام کرنے والے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    جاش پال نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی میں تیزی لانے کے انتظامیہ کے فیصلوں سے اختلافات کیا تھا۔

    محکمہ خارجہ کے بیورو آف پولیٹیکل ملٹری افیئرز میں کانگریس اور پبلک افیئرز کے ڈائریکٹر پال نے لنکڈ ان پر کہا: ’میں کئی اہم پالیسی فیصلوں کی حمایت میں کام نہیں کر سکتا، جن میں تنازعے کے ایک فریق کو مزید ہتھیار فراہم کرنا بھی شامل ہے، جن کے بارے میں میرا خیال ہے کہ یہ تنگ نظری، تباہ کن، غیر منصفانہ اور ان اقدار سے متصادم ہیں جن کی ہم عوامی طور پر حمایت کرتے ہیں۔‘

    پال نے کہا کہ اگرچہ وہ اسرائیل پر حماس کے حملے کی ’شدت‘ کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسرائیل کے ردعمل سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے ’مزید اور گہرے مصائب پیدا ہوں گے۔‘

  13. الاہلی ہسپتال پر حملے کو اہمیت دی جانی چاہیے: رشی سنک

    رشی سنک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک آج اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔ دورے سے قبل انھوں نے کہا ہے کہ ’ہر شہری کی موت ایک المیہ ہے۔‘

    ’حماس کی دہشت گردی کی ہولناک کارروائی کے بعد بہت سی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ الاہلی ہسپتال پر حملہ خطے اور دنیا بھر کے رہنماؤں کے لیے ایک اہم لمحہ ہونا چاہیے تاکہ تنازعات میں مزید خطرناک اضافے سے بچا جا سکے۔

    ’میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ برطانیہ اس کوشش میں سب سے آگے رہے۔‘

    یاد رہے کہ مقامی حکام نے غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کا ذمہ دار اسرائیلی فضائی حملے کو قرار دیا ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملہ عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے گئے راکٹ کی وجہ سے ہوا۔

  14. کیبوتز: یہودی برادری کا انوکھا طرز زندگی جس نے اسرائیلی ریاست کو استحکام بخشا

  15. بریکنگ, حماس کے سینکڑوں بنیادی ڈھانچے تباہ کر دیے گئے، آئی ڈی ایف

    اسرائیلی دفاعی افواج نے جمعرات کی صبح اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ اس نے گذشتہ روز حماس کے سینکڑوں ٹھکانوں کو تباہ کیا ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ وہ ’غزہ کی پٹی میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس نے ’ٹینک شکن میزائل لانچ سائٹس، سرنگوں کے شافٹ، انٹیلی جنس انفراسٹرکچر، آپریشنل ہیڈکوارٹرز اور دیگر ہیڈکوارٹرز‘ کو تباہ کر دیا ہے۔

    اس پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’دس سے زیادہ دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘

  16. اسرائیل اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگر آپ ابھی ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں تو، اسرائیل اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے۔

    امریکہ نے غزہ میں انتہائی ضروری امداد کی فراہمی کے لیے مصر کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس سے ان شہریوں کے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے جن کی رسد منقطع ہو چکی ہے۔

    • مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے غزہ کے ساتھ اپنی سرحد پر رفح کراسنگ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ غزہ میں 20 ٹرک امدادی سامان داخل کیا جا سکے۔ یہ امریکی صدر جو بائیڈن کے اسرائیل کے اعلیٰ سطحی دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔
    • بائیڈن نے کہا ہے کہ جمعے سے امداد کی فراہمی شروع ہو سکتی ہے۔ عوام کو رفح کے راستے غزہ چھوڑنے کی اجازت دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ صحافیوں کی جانب سے اس امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر بائیڈن نے کہا کہ ’ہم لوگوں کو باہر نکالیں گے لیکن میں ابھی آپ کے ساتھ کسی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔‘
    • غزہ اور مصر کی سرحدوں پر امدادی سامان لے جانے والے لوگوں اور ٹرکوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں جو اس کے دوبارہ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
    • برطانوی وزیر اعظم رشی سنک جمعرات کی صبح اسرائیل پہنچیں گے جہاں وہ اپنے ہم منصب بینامن نتن یاہو اور اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے ملاقات کریں گے۔
    • فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے منگل کو غزہ کے الاہلی ہسپتال میں ہونے والی تباہی کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ مہلک دھماکہ فلسطینی راکٹ کی وجہ سے ہوا۔ بائیڈن نے اسرائیل کے دعووں کی حمایت کی۔
  17. غزہ کے لیے امداد کی فراہمی جمعے تک ممکن ہو سکتی ہے: بائیڈن

    جوبائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے رفح کراسنگ کھولنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ غزہ میں امداد کے 20 ٹرک داخل ہوسکیں۔

    امریکی صدر بائیڈن نے سڑکوں کی مرمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کھیپ ممکنہ طور پر جمعے تک سرحد عبور نہیں کر سکے گی۔

    انھوں نے بتایا کہ ’وہ سڑک کی مرمت کر رہے ہیں، انھیں ان ٹرکوں کو گزارنے کے لیے گڑھوں کو بھرنا پڑے گا اور ایسا کیا جا رہا ہے۔ انھیں توقع ہے کہ جمعرات کو اس میں تقریبا آٹھ گھنٹے لگیں گے۔ لہٰذا اس وقت تک کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔‘

    انھوں نے بدھ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ شاید یہ جمعے تک ممکن ہو۔

    انھوں نے مزید کہا کہ 20 ٹرک پہلے مرحلے میں جائیں گے لیکن انھوں نے واضح کیا کہ ’مجموعی طور پر 150 یا اس سے زیادہ‘ ٹرکوں نے جانا ہے۔ انھیں پار جانے کی اجازت اس پر پر منحصر ہے کہ یہ مرحلہ کیسا جاتا ہے۔

  18. رفح کراسنگ کہاں ہے؟

    رفح کراسنگ

    رفح کراسنگ ایک سرحدی کراسنگ ہے جو غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ غزہ کی پٹی کو مصر کے صحرائے سینا سے ملاتا ہے۔

    اس کے علاوہ غزہ کی پٹی میں دو اور سرحدی گزرگاہیں ہیں، ایریز اور کریم شالوم۔ ان میں سے ایریز کراسنگ شمالی غزہ کو اسرائیل سے ملاتی ہے۔کریم شالوم بھی اسرائیل اور غزہ کے درمیان ایک کراسنگ ہے لیکن اسے صرف تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    یہ دونوں سرحدی گزرگاہیں حماس کے خلاف اسرائیل کی جوابی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے بند ہیں۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کے چند ہی دن بعد، اسرائیل نے اعلان کیا کہ ایریز اور کیرم شالوم کراسنگ اگلے نوٹس تک بند رہے گی۔

    ایسے میں عام فلسطینیوں کے لیے غزہ کی پٹی سے نکلنے کا واحد راستہ رفح کراسنگ بن گیا ہے۔

    رفح کراسنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. امریکہ ایران کو اسرائیل حماس تنازع سے دور رہنے کی بلاواسطہ تنبیہ کر رہا ہے : نیٹو کے سابق سفیر

    نیٹو میں امریکہ کے ایک سابق سفیر نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ ممکنہ طور پر اسرائیل اور حماس کے تنازع پر بلاوسطہ طریقے سے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

    2009 سے 2013 تک نیٹو میں امریکی سفیر رہنے والے ایوو ڈیلڈر کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ نجی طور پر ان چینلز کے ذریعے بات چیت کر رہا ہے جو اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران جانتا ہے کہ امریکہ کیا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    بی بی سی کے نیوز ڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسی بات نہیں جو صدر عوامی طور پر کہنے کے لیے تیار ہوں اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔‘

    رواں ہفتے کے اوائل میں وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے تاکہ اسے تنازع میں مداخلت کے خلاف متنبہ کیا جا سکے۔

    اس بات کا خدشہ ہے کہ ایران کی شمولیت سے یہ تنازع مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کا جشن منایا جبکہ لبنان میں ایران کی مالی اعانت سے چلنے والے عسکریت پسند گروپ حزب اللہ نے حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے۔

  20. بریکنگ, مصر کا غزہ کے لیے امدادی راہداری کا اعلان

    رفح کراسنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مصر نے غزہ میں امداد کے 20 ٹرکوں کو داخل کرنے کے لیے رفح کراسنگ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اس سے قبل یہ اعلان کیا تھا اور اب مصر نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی تک انسانی امداد اس کراسنگ سے گزرے گی۔

    مصر کے صدارتی ترجمان احمد فہمی نے ایک بیان میں کہا کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے رفح ٹرمینل کے ذریعے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی پائیدار فراہمی پر اتفاق کیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد دونوں ممالک کے متعلقہ حکام امریکہ کی نگرانی میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں کے ساتھ تعاون سے فراہم کریں گے۔