اسرائیل
اور غزہ کی کشیدہ صورتحال میں پچھلے چند گھنٹوں میں کیا کچھ اہم ہوا
فلسطینی
حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایک ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں 500 افراد ہلاک ہوئے
ہیں۔ حماس نے اسرائیل پر اس حملے کا الزام عائد کیا جبکہ اسرائیل نے اس حملے کا
ذمہ دار فلسطینی عسکریت پسندوں کو قرار دیا ہے۔
حماس نے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا
ہے جبکہ اسرائیل نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نادانستہ طور پر ایک
اور عسکریت پسند گروپ فلسطینی اسلامی جہاد کی طرف سے فائر کیے گئے راکٹ کی وجہ سے
ہوا۔
غزہ
کی پٹی میں دوسرے سب سے بڑے عسکریت پسند گروپ فلسطینی اسلامی جہاد نے اس حملے کی ذمہ
داری سے انکار کیا ہے۔
بین
الاقوامی رہنماؤں نے ہسپتال میں جانی نقصان کی مذمت کرتے ہوئے بیانات جاری کیے۔
اردن،
مصر اور فلسطینی اتھارٹی کے رہنماؤں نے بدھ کو امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ طے
شدہ سربراہی اجلاس منسوخ کر دیا ہے۔
بائیڈن
اس وقت اسرائیل کے دورے پر ہیں جہاں وہ اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
جنوبی
لبنان پر قابض عسکریت پسند گروپ حماس اور حزب اللہ دونوں نے کہا ہے کہ ہسپتال میں
ہونے والے دھماکے کے لیے امریکہ اور اسرائیل ذمہ دار ہیں۔
بیروت
میں امریکی سفارتخانے کے باہر رات بھر ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے کمپاؤنڈ کی
دیواروں پر فلسطینی پرچم لٹکا دیے ہیں۔