آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’اسرائیل مصر کے راستے امداد کی غزہ آمد میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا‘: ہسپتال میں دھماکے کا ذمہ دار اسرائیل نہیں،‘ امریکہ

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات میں کہا ہے کہ جو کچھ انھوں نے دیکھا ہے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ غزہ کے الاہلی ہسپتال پر حملہ اسرائیل کا نہیں بلکہ دوسرے فریق کا کام ہے تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنھیں اس بات کا یقین نہیں۔

لائیو کوریج

  1. مصر بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو پناہ دینے کے لیے ’تیار‘ نہیں, يولاند كنيل، بی بی سی نیوز، یروشلم

    مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے یہ خیال موجود ہے کہ غزہ کے شہری باشندوں کو پناہ لینے اور مصر کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا جائے، تاہم اس کو ہر گز قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو مصری عوام ’لاکھوں کی تعداد میں باہر نکل کر احتجاج کر سکتے ہیں۔‘ قاہرہ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ ااگر اسے عرب دنیا میں عوامی غم و غصے کو بھڑکانے والے ایسے کسی معاہدے میں ملوث کیا گیا تو یہ بات مصری حکومت کے لیے بھی بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    مصر کے صدر کے مطابق لوگوں کی کسی بھی قسم کی آمد نہ صرف مصر کے موجودہ اقتصادی بحران کو مزید گہرا کرے گی بلکہ ان کے لیے سکیورٹی کے خدشات کو مزید بڑھا دے گی۔

    واضح رہے کہ فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کے تناظرمیں برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ کا جلد ہی مصر کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔

    اسی تناظر میں یہ بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ اسرائیل غزہ کے 23 لاکھ باشندوں کو مصر کے صحرائے سینا میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔

  2. جمائما گولڈ سمتھ: ’ہزاروں معصوم بچوں کو مارنے اور معذور کرنے سے امن قائم نہیں ہو گا‘

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے اپنے ماضی کے چند تجربات شیئر کرتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے حوالے سے بات کی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ ٹوئٹر (ایکس) پر بحث میں الجھنا فائدہ مند نہیں۔ یہودی اور مسلمان دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد میرے خاندان کا حصہ ہیں اور میرے دوستوں میں شامل ہیں اور انھیں میں بہت پیار کرتی ہوں۔ میں دس سال سے ایک مسلم ملک (پاکستان) میں رہی ہوں۔ میں غزہ اور مغربی کنارے بھی جا چکی ہوں اور میرا اسرائیل سے تاریخی خاندانی تعلق بھی ہے۔‘

    ’مجھے ذاتی طور پر اپنے یہودی ہونے کی وجہ سے بے شمار جان سے مارنے کی دھمکیاں مل چکی ہیں اور کئی دہائیوں تک مجھے یہود مخالف نظریات کا سامنا رہا۔ میرے بچوں کے والد (سابق وزیراعظم عمران خان) کو گولی مار دی گئی اور اُن پر حملہ کرنے والے کے مطابق، اُس نے ایسا اُن (عمران) کی ’یہودیوں سے قربت‘ کی وجہ سے (یعنی مجھ سے قربت) کی وجہ سے کیا۔ میرے بچوں کو برطانیہ میں اسلامو فوبیا (اور پاکستان میں یہود مخالف نظریات) کا سامنا کرنا پڑا۔‘

    ’شاید انہی تجربات کی وجہ سے، میں سمجھتی ہوں کہ سیاست کی بنیاد پر گروہ بندی امن کی دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ان اسرائیلیوں کی بہادری اور دیانتداری سے متاثر ہوں جنھوں نے گذشتہ چند دنوں میں اپنے رشتہ داروں کو کھونے کے باوجود غزہ پر جاری بمباری کے خلاف بیانات دیے ہیں۔‘

    ’میری دعا ہے کہ اُن کی آواز سنی جائے۔ مزید ہزاروں معصوم بچوں کو مارنے اور معذور کرنے سے یرغمالیوں کو نہیں بچایا جا سکے گا اور نہ ہی اس سے امن قائم ہو گا اور نائن الیون کے بعد عراق اور افغانستان کی جنگوں کی طرح، ممکنہ طور پر ہم سب کے لیے مزید دہشت گردی اور کم محفوظ دنیا ہی پیدا ہو گی۔‘

  3. غزہ اسرائیل جنگ: بدھ کے روز کی اب تک کی اہم پیش رفت کا خلاصہ

    اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگی صورتحال کے حوالے سے بدھ کے روز کی اب تک کی اہم پیش رفت کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورس کی نیوز کانفرنس:

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل کے روز غزہ شہر کے الاہلی ہسپتال پر حملے کی وجہ غزہ سے ہی داغے گئے راکٹ ہیں جو عسکریت پسند گروہ فلسطین اسلامی جہاد (پی آئی جے) نے فائر کئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ حماس کے مطابق اگر اسرائیلی میزائل نے دھماکہ کیا ہوتا تو اس سے بڑے ’گڑھے‘ بنتے اور سٹرکچر کو کہیں ذیادہ نقصان پہنچتا۔

    انھوں نے زور دیا کہ اس دھماکے کے زمہ دار پی آئی جے تھا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل میں:

    امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کا قصوروار ’دوسرے فریق‘کو قرار دیا۔

    صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے تل ابیب میں صحافیوں سے بات کی جس میں صدر بائیڈن نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہسپتال پر حملہ اسرائیل کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔

    دھماکے پر سوالات باقی ہیں:

    آئی ڈی ایف کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کی جانب سے اسرائیل کی وضاحت پیش کرنے کے باوجود اسلامی جہاد نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

    عرب حکومتوں نے بھی اسرائیل کی مذمت کی ہے اور اردن میں بائیڈن کے ساتھ طے شدہ سربراہی اجلاس منسوخ کر دیا ہے۔

    فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ:

    فلسطینی وزیر صحت کے مطابق حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,478 ہو گئی ہے۔

  4. غزہ کے ہسپتال میں حملے کا ذمہ دار اسرائیل ہی ہے: ڈاکٹر اشرف القدرہ، ترجمان وزارت صحت

    غزہ کی وزارت صحت نے منگل کی رات ہسپتال کے مقام پر ہونے والے حملے کا زمہ دار ایک بار پھر اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب سے اسرائیل نے غزہ پر اپنے فضائی حملے شروع کیے ہیں تب سے اب تک کم از کم 3,478 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کا ذمہ دار ہے۔

    اسرائیل کے مطابق زمین سے ملنے والے شواہد کے مطابق دھماکوں کی اصل وجہ کی وجہ عسکریت پسند تنظیم فلسطینی اسلامی جہاد کی طرف سے اسرائیل پر غزہ کے اندر سے داغے گئے اپنے راکٹ ہیں۔

  5. بریکنگ, غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے میں 471 افراد ہلاک اور 314 زخمی ہوئے: وزارت صحت

    غزہ کی مقامی وزارت صحت نے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے میں 471 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    فلسطینی وزارت صحت کے بیان کے مطابق غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے میں 314 زخمی ہوئے ہیں۔

  6. غزہ سے راکٹ داغنے کی ’ناکام کوششوں‘ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے: اسرائیلی فضائیہ کا دعویٰ

    اسرائیلی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی جانب سے راکٹ داغنے کے ’ناکام‘ حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ حالیہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک غزہ سے اسرائیل پر 450 راکٹ فائر کیے گئے ہیں تاہم وہ تمام غزہ کی حدود میں ہی گرے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس(ٹوئٹر) پر پوسٹس کی ایک سیریز میں اسرائیلی فضائیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کو مسلسل انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔

  7. ہسپتال پر حملہ تنازع کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت واضح کرتا ہے، پوتن

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ غزہ کے ہسپتال میں دھماکے کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کو جلد سے جلد ختم کیا جائے گا۔

    بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد پوتن نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہسپتال پر حملہ ایک سانحہ ہے۔ سینکڑوں ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ یہ ایک سگنل ہو گا کہ اس تنازع کو جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے اور معاملات کو اس مقام پر لے جانے کی ضرورت ہے جہاں بات چیت ممکن ہو سکے۔‘

  8. فلسطین اسلامی جہاد کیا ہے اور یہ حماس سے کیسے مختلف ہے؟, یولاندے کنیل، مشرق وسطی نامہ نگار، یروشلم

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کے ایک ہسپتال میں گزشتہ رات ہونے والے دھماکہ فلسطین اسلامی جہاد نامی تنظیم کی جانب سے داغے گئے ایک راکٹ کی وجہ سے ہوا۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ اسرائیل کے فضائی حملے کی وجہ سے ہوا۔

    فلسطین اسلامی جہاد غزہ کی پٹی میں حماس کے بعد دوسری سب سے بڑی شدت پسند تنظیم ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔

    اس تنظیم کے مقاصد حماس سے ملتے جلتے ہیں اور یہ بھی ریاست اسرائیل کی تباہی پر یقین رکھتی ہے۔ عام طور پر اس تنظیم کو حماس سے بھی زیادہ شدت پسندانہ سمجھا جاتا ہے۔

    ماضی میں اکثر ایسا محسوس ہوا کہ حماس کی کارروائیاں اس حقیقت کی وجہ سے کبھی کبھار متاثر ہوتی ہیں کہ غزہ پر حکومت کی وجہ سے اس کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں۔

    فلسطین اسلامی جہاد حماس سے الگ رہ کر کام کرتی ہے تاہم حماس ایک بڑا گروہ ہونے کی وجہ سے ضرورت پڑنے پر اسلامی جہاد پر اثر انداز ہوتا ہے۔

    فلسطین اسلامی جہاد کا القدس کے نام سے الگ عسکری ونگ ہے جو راکٹوں سے بھی لیس ہے۔ اسلامی جہاد کی جانب سے پہلے ہی اعلان کر دیا گیا تھا کہ وہ بھی حماس کے آپریشن میں شریک ہے۔

  9. غزہ میں ہسپتال پر حملے کے بارے میں اسرائیل کا کیا موقف ہے؟

    غزہ میں گزشتہ رات ایک ہسپتال پر ہونے والے حملے پر متضاد دعوے اور آرا موجود ہیں اور بی بی سی ویریفائی کی ایک ٹیم تصاویر، آڈیو اور زمین پر موجود رپورٹرز کی مدد سے اس واقعے کی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم اب سے کچھ دیر قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے چند دعوے کیے گئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ گزشہ رات کو فلسطین اسلامی جہاد نے تقریبا اسی وقت 10 راکٹ داغے جب ہسپتال میں دھماکہ سنائی دیا گیا۔

    ڈینیئل ہاگاری نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی فضائی فوٹیج کے مطابق یہ دھماکہ فلسطین اسلامی جہاد کے ایک راکٹ سے ہوا جو ہسپتال کے قریب ایک قبرستان سے چلایا گیا تھا۔

    ان کے مطابق اس دھماکے میں ہسپتال کے باہر کار پارکنگ کو نقصان پہنچا جبکہ ’اسرائیلی حملہ ہوتا تو اس سے بہت زیادہ نقصان پہنچتا اور گڑھے بھی نظر آتے۔‘ ان کے مطابق فلسطین اسلامی جہاد کا یہ راکٹ ’مس فائر ہوا تھا۔‘

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کوئی اسرائیل کا موقف کیوں تسلیم کرے گا تو انھوں نے اعتراف کیا کہ اسرائیل ماضی میں اکثر نتائج تک پہنچنے میں جلدی کرتا ہے لیکن انھوں نے اس بار حقائق جانچنے میں گھنٹوں کا وقت صرف کیا۔

    ان کے مطابق کسی اسرائیلی زمینی، سمندری یا فضائی حملے میں غلطی سے ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

  10. سات اکتوبر کے بعد ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 3300 ہو گئی، وزیر صحت

    فلسطینی وزیر صحت نے کہا ہے کہ غزہ میں 11 دن قبل اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3300 پر پہنچ چکی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ 13 ہزار افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ حماس کے حملوں میں 1300 اسرائیلیوں کی ہلاکت ہوئی اور 199 افراد یرغمال بنائے گئے۔

  11. غزہ کے الاہلی ہسپتال پر حملے کے بعد ہر طرف آگ ہی آگ

    غزہ میں ہسپتال پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حماس نے اسرائیل پر اس حملے کا الزام عائد کیا جبکہ اسرائیل نے اس حملے کا ذمہ دار فلسطینی عسکریت پسندوں کو قرار دیا ہے۔

  12. ہسپتال پر حملہ بظاہر دوسرے فریق نے کیا، امریکی صدر جو بائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ’غزہ میں ہسپتال پر حملہ بظاہر دوسرے فریق نے کیا۔‘ وہ غزہ میں الاہلی ہسپتال پر ہونے والے حملے کی بات کر رہے تھے۔

    جو بائیڈن اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریش کانفرنس کر رہے تھے جہاں انھوں نے کہا کہ ’ہسپتال کے واقعے پر انھیں بہت دکھ ہوا۔‘ تاہم جو بائیڈن نے کہا کہ ’میں نے جو دیکھا اس سے ایسا لگتا ہے کہ یہ کام دوسرے فریق نے کیا، آپ نے نہیں۔‘

    بائیڈن نے کہا کہ ’بہت سے لوگوں کو یقین نہیں ہے تو ہمیں ابھی بہت سی چیزوں پر کام کرنا ہے۔‘

    واضح رہے کہ فلسطینی حکام کے مطابق الاہلی ہسپتال پر ہونے والے حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ اسرائیل کے فضائی حملے کی وجہ سے ہوا جبکہ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دھماکہ حماس کی جانب سے غزہ کے اندر سے داغے جانے والے ایک راکٹ سے ہوا۔

  13. غزہ کے الاہلی ہسپتال پر حملے کے بعد ہر طرف آگ ہی آگ

  14. بی بی سی غزہ میں ہسپتال دھماکے کی تحقیق کیسے کر رہا ہے؟

    بی بی سی ویریفائی کی ٹیم غزہ کے الاہلی ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کی تحقیق کر رہا ہے جس میں حکام کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ اسرائیل کے فضائی حملے کی وجہ سے ہوا جبکہ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دھماکہ حماس کی جانب سے غزہ کے اندر سے داغے جانے والے ایک راکٹ سے ہوا۔

    ہم گذشتہ رات کی چند ویڈیوز اور دھماکے کے بعد صبح کھینچی جانے والی تصاویر اسلحہ ماہرین کو دکھا کر یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حقیقت میں کیا ہوا ہے۔

    اب تک ان ماہرین کا ایک بات پر اتفاق نہیں ہے۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ کیوں کہ ہسپتال کی عمارت منہدم نہیں ہوئی، چند گاڑیوں کو نقصان تک نہیں پہنچا اور اس مقام پر کوئی گہرا گڑھا موجود نہیں، تو یہ نشانیاں اسرائیلی فضائی حملے کا ثبوت نہیں۔ ہم نے دھماکے کی آواز والی ایک ویڈیو بھی ماہرین کو دکھائی ہے جس کے بعد ایک کا کہنا تھا کہ وہ یہ دیکھ کر نہیں کہہ سکتے کہ آیا یہ اسرائیل کا فضائی حملہ تھا یا غزہ کے اندر سے داغا جانے والا راکٹ۔

    بی بی سی کی ٹیم اس معاملے پر اب تک تحقیق کر رہی ہے اور مذید معلومات حاصل ہوتے ہی قارئین کے سامنے پیش کرے گی۔

  15. بریکنگ, امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل پہنچ گئے ہیں اور وہ اپنے دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے

    امریکی صدر بائیڈن خطے کی صورتحال، اسرائیلی کی حکمت عملی اور غزہ میں انسانی جانوں کے کم سے کم ضیاع پر بات کریں گے۔

    جبکہ ان کی عرب رہنماؤں سے طے شدہ ملاقات پہلے ہی منسوخ ہو چکی ہے۔

  16. بریکنگ, ’ہسپتال میں دھماکہ قبرستان سے داغے گئے فلسطینی راکٹوں سے ہوا‘: اسرائیل

    اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ کے الاہلی عرب ہسپتال پر فضائی حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال میں دھماکہ فلسطینی راکٹ گرنے کے باعث ہوا جنھیں ایک قبرستان سے داغا گیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینئل ہیگری نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس حملے کا فلسطینی گروہ اسلامی جہاد ذمہ دار ہے۔

    انھوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ ہسپتال پر دھماکے کے فوراً بعد ہم نے اسرائیلی فوج کے تمام متعلقہ محکموں سے رابطہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گذشتہ شب ہسپتال پر حملے سے کچھ دیر قبل تقریباً 6:15 پر حماس نے اسرائیل پر متعدد راکٹ داغے تھے۔ جس کے بعد تقریباً سات بجے کے قریب فلسطینی اسلامی جہاد نے ایک قریبی قبرستان سے دس راکٹ اسرائیل پر داغے تھے۔ اور اس کے چند لمحوں بعد ہی ہسپتال میں دھماکے کی خبریں سامنے آئیں تھیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حماس جانتی ہے کہ ہسپتال کر دھماکہ اسلامی جہاد کی جانب سے داغے گئے راکٹوں سے ہوا ہے لیکن انھوں نے اسرائیل پر الزام لگانے کے لیے عالمی میڈیا کمیپئن چلائی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فضائی مناظر کی فوٹیج سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ ہسپتال کی عمارت کو سیدھا نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ بلکہ ہسپتال کے باہر پارکنگ کی جگہ کو نقصان پہنچا ہے۔

    انھوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’اگر اسرائیلی فوج اس حملے کی ذمہ دار ہوتی تو حملے کی جگہ پر گڑھا پڑتا تا عمارتوں کے ڈھانچے کو نقصان پہنچتا۔‘

    انھوں نے ہپستال کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا جبکہ ایسا نہیں ہے اور اس کی دیواریں سلامت ہیں۔

    تاہم بی بی سی اسرائیلی فوج کے ترجمان کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    یاد رہے فلسطینی حکام اور حماس نے اسرائیل پر اس حملے کا الزام عائد کیا ہے۔

  17. غزہ ہسپتال پر حملے کے بعد تباہی کے مناظر

    غزہ کے الاہلی عرب ہسپتال پر حملے اور دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 500 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ فلسطینی حکام نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے جبکہ اسرائیل نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکہ فلسطینی اسلامی جہاد کی جانب سے داغے گئے راکٹ کے باعث ہوا ہے۔

    گذشتہ شب ہسپتال میں دھماکے کے بعد تباہی کے مناظر

  18. بائیڈن کا اسرائیل کا دورہ اب مزید مشکل ہو گیا, جیرمی بؤون انٹرنیشنل اینڈیٹر، یروشلم

    اسرائیل فلسطین حالیہ تنازعے میں جو بائیڈن کی ذاتی مداخلت ہمیشہ سے ایک جوا تھا لیکن اب گذشتہ رات غزہ کے الاہلی عرب ہسپتال پر ہونے والے تباہ کن حملے نے اسے مزید مشکل بنا دیا ہے۔

    وہ بیک وقت اسرائیل کی حفاظت اور حمایت کرنا چاہتے ہیں، اور غزہ میں انسانی زندگیوں کے ضیاع کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

    اسرائیل کا اصرار ہے کہ ہسپتال کو فلسطینی اسلامی جہاد نے تباہ کیا تھا، جو ایران کا حمایت یافتہ گروہ ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسلامی جہاد کی جانب سے داغے گئے راکٹ میں خرابی پیدا ہوئی اور وہ اسرائیل میں اپنے ہدف سے ہٹ گیا۔

    مشرق وسطیٰ کے لاکھوں فلسطینی اور دیگر اس پر یقین نہیں کرتے ہیں۔ اسرائیل کی مذمت کرنے والے ممالک میں اردن، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا اس حملے سے پیدا ہونے والا غصہ ایک وسیع جنگ کے امکانات کو جنم دیتا ہے؟

  19. بریکنگ, اسرائیل کے شمالی غزہ پر فضائی حملے جاری

    جیسا کہ ہم رپورٹ کر رہے ہیں کہ اسرائیل گذشتہ رات غزہ کے ایک ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری سے انکار کر رہا ہے جس میں سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

    لیکن آج صبح اس کی فضائیہ نے غزہ کی پٹی میں درجنوں دیگر ’اہداف‘ پر فضائی حملہ کیا ہے اور اس حملے میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے مزید دو ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فضائیہ نے ایک ٹویٹ میں دو افراد کا نام ظاہر کیا ہے جن میں ایک محمد الوادیہ جنھیں حماس کے غزہ سٹی بریگیڈ کے ٹینک شکن نظام کا کمانڈر بتایا گیا ہے اور دوسرے اکرم حجاز ہیں جو ہتھیاروں اور ’دہشت گردی کے فنڈز‘ کا ڈیلر ہے۔

    اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے جن مقامات کو نشانہ بنایا ہے ان میں سے کچھ کے بارے میں بتاتے ہوئے اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اس نے حماس کے ’آپریشنل ہیڈکوارٹر‘، ’راکٹ اور اینٹی ٹینک لانچنگ پوزیشنز‘ اور نام نہاد ’دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے‘ پر حملہ کیا ہے۔

  20. خان یونس: ’یہ ایک تباہ کن اور قیامت خیز صورتحال ہے‘