مصر بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو پناہ دینے کے لیے ’تیار‘ نہیں, يولاند كنيل، بی بی سی نیوز، یروشلم
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے یہ خیال موجود ہے کہ غزہ کے شہری باشندوں کو پناہ لینے اور مصر کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا جائے، تاہم اس کو ہر گز قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو مصری عوام ’لاکھوں کی تعداد میں باہر نکل کر احتجاج کر سکتے ہیں۔‘ قاہرہ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ ااگر اسے عرب دنیا میں عوامی غم و غصے کو بھڑکانے والے ایسے کسی معاہدے میں ملوث کیا گیا تو یہ بات مصری حکومت کے لیے بھی بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
مصر کے صدر کے مطابق لوگوں کی کسی بھی قسم کی آمد نہ صرف مصر کے موجودہ اقتصادی بحران کو مزید گہرا کرے گی بلکہ ان کے لیے سکیورٹی کے خدشات کو مزید بڑھا دے گی۔
واضح رہے کہ فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کے تناظرمیں برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ کا جلد ہی مصر کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔
اسی تناظر میں یہ بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ اسرائیل غزہ کے 23 لاکھ باشندوں کو مصر کے صحرائے سینا میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔