مشرق وسطیٰ میں بڑھتی غیر یقینی کی صورتحال، امریکی وزیر خارجہ کی تل ابیب واپسی

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیرمی بوون کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن تل ابیب پہنچ گئے ہیں۔ وہ علاقائی سطح پر اس جنگ میں ہونے والے ممکنہ اضافے کے بارے میں بہت فکرمند ہیں اور خاص طور پر ایران کے بڑے اتحادی حزب اللہ کے اس کشیدگی میں شامل یا ملوث ہونے پر انھیں خاصی تشویش لاحق ہے۔
لہٰذا، امریکہ بحیرہ روم میں غیر معمولی تعداد میں فوج منتقل کر رہا ہے جن میں دو بڑے بحری بیڑے بھی شامل ہیں۔
جیرمی کے مطابق دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اگرچہ اسرائیل کو اپنے دفاع کے لیے ہمیشہ امریکی حمایت حاصل رہی ہے لیکن اس بار یہ حمایت غیر مشروط نہیں بلکہ مسروط ہو گی یعنی اس حمایت کے ساتھ کچھ شرائط بھی ہونگیں۔
امریکیوں کی طرف سے بار بار یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ اسرائیل کو یہ ’صحیح طریقہ‘ اختیار کرنا ہوگا، جیسا کہ بلنکن کہتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن پہلی مرتبہ جمعرات کو تل ابیب پہنچے تھے جس کے بعد انھوں نے چھ عرب ریاستوں کا دورہ کیا۔
یہ اُمید بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد آنے والے دنوں میں اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
جیرمی کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں تشویش ہے کہ فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں تیزی سے اضافے سے خطے میں درجہ حرارت کافی حد تک بڑھ جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام کا یہ احساس اس وقت بہت بڑھ رہا ہے۔











