حماس کا اسرائیلی شہروں پر راکٹ حملوں کا دعویٰ: ’ جنگ طویل ہو گی جس کی بھاری قیمت چکانی ہو گی،‘ اسرائیلی وزیر دفاع

غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2700 سے بڑھ گئی ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے حملوں میں اس کے 1400 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے جبکہ 199 یرغمال بنائے گئے ہیں۔ اسرائیل کے زمینی حملے کے پیش نظر اب تک تقریباً 10 لاکھ فلسطینی شمالی غزہ سے جنوب کی جانب نقل مکانی کر چُکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. مشرق وسطیٰ میں بڑھتی غیر یقینی کی صورتحال، امریکی وزیر خارجہ کی تل ابیب واپسی

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیرمی بوون کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن تل ابیب پہنچ گئے ہیں۔ وہ علاقائی سطح پر اس جنگ میں ہونے والے ممکنہ اضافے کے بارے میں بہت فکرمند ہیں اور خاص طور پر ایران کے بڑے اتحادی حزب اللہ کے اس کشیدگی میں شامل یا ملوث ہونے پر انھیں خاصی تشویش لاحق ہے۔

    لہٰذا، امریکہ بحیرہ روم میں غیر معمولی تعداد میں فوج منتقل کر رہا ہے جن میں دو بڑے بحری بیڑے بھی شامل ہیں۔

    جیرمی کے مطابق دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اگرچہ اسرائیل کو اپنے دفاع کے لیے ہمیشہ امریکی حمایت حاصل رہی ہے لیکن اس بار یہ حمایت غیر مشروط نہیں بلکہ مسروط ہو گی یعنی اس حمایت کے ساتھ کچھ شرائط بھی ہونگیں۔

    امریکیوں کی طرف سے بار بار یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ اسرائیل کو یہ ’صحیح طریقہ‘ اختیار کرنا ہوگا، جیسا کہ بلنکن کہتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن پہلی مرتبہ جمعرات کو تل ابیب پہنچے تھے جس کے بعد انھوں نے چھ عرب ریاستوں کا دورہ کیا۔

    یہ اُمید بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد آنے والے دنوں میں اسرائیل کا دورہ کریں گے۔

    جیرمی کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں تشویش ہے کہ فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں تیزی سے اضافے سے خطے میں درجہ حرارت کافی حد تک بڑھ جائے گا۔

    مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام کا یہ احساس اس وقت بہت بڑھ رہا ہے۔

  2. غزہ میں 199 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے: اسرائیلی فوج

    اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کے ترجمان ڈینیئل ہیگاری نے کہا ہے کہ حماس نے 199 اسرائیلیوں کو غزہ میں یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے۔ گذشتہ روز ترجمان نے ان یرغمالیوں کی تعداد 155 بتائی تھی۔

    ترجمان کے مطابق انھوں نے یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں کو اس متعلق بتا دیا ہے۔

  3. اسرائیل لبنان کی سرحد کے قریب سے شہریوں کا انخلا کیوں کرا رہا ہے؟

    Lebonan

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کا یہ منصوبہ ہے کہ لبنان کی حرد سے لوگوں کو ملک کے جنوب کی جانب منتقل کر دیا جائے۔

    حماس کے علاوہ اسرائیل کو یہاں حزب اللہ کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

    برطانیہ اور امریکہ سمیت متعدد ممالک نے حماس کی طرح حزب اللہ کو بھی دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہے۔

    اتوار کو حزب اللہ کے حملے میں ایک اسرائیلی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے رات کو لبنان پر بمباری کی۔ اختتام ہفتہ پر اسرائیل نے لبنان کی سرحد پر چار کلومیٹر تک کا علاقہ بند کرنے کا اعلان کیا۔

  4. لبنان کی سرحد کے قریب گاؤں کے گاؤں نقل مکانی کر گئے ہیں, اینا فوسٹر، نمائندہ بی بی سی

    ہم گذشتہ چند روز سے اسرائیل سے ملحقہ لبنان کی سرحد پر لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ یہاں سے بہت سے لوگ دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔

    ان لوگوں نے اسرائیل کی طرف سے کسی باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی یہاں سے نکلنے میں عافیت جانی۔

    ہم نے ان خاندانوں سے بھی بات کی ہے جنھوں نے اپنا سازوسامان باندھا، بچوں کو ساتھ لیا اور جنوبی علاقے کا طرف چلتے بنے۔

    ہم سرحدی علاقے میں ایسے متعدد گاؤں بھی دیکھے ہیں جو تین چوتھائی (75 فیصد) خالی تھے یا اس سے بھی زیادہ آبادی وہاں سے نقل مکانی کر چکی تھی۔

    یہاں پر کچھ جگہوں پر تو سپورٹ کے لیے صرف فوجیوں اور مقامی سکیورٹی ٹیموں کے خاندان ہی رہ گئے ہیں اور باقی آبادی یہاں سے جا چکی ہے۔

    جب ہم گذشتہ روز اس سرحد پر تھے تو یہاں ایک گھنٹے تک دونوں اطراف کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ رہا۔ یہاں سے خاندان اتنے قریب آباد ہیں کہ ان کے گھروں سے سرحدی دیوار کو دیکھ سکتے ہیں۔

    دوسری طرف کچھ مقامات پر حزب اللہ کی چیک پوسٹس بھی دکھائی دیتی ہیں۔

    آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لوگ پریشان کیوں ہیں اور کیوں باقاعدہ احکامات ملنے سے پہلے ہی یہاں سے کوچ کر گئے ہیں۔

  5. رفح سرحد پر لوگ جمع، مصر نے ابھی تک سرحد نہیں کھولی

    crossing

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ان اطلاعات کے بعد کے مصر اپنی سرحد عارضی طور پر کھول دے گا غزہ سے بڑی تعداد میں شہری رفح کراسنگ پر جمع ہو گئے ہیں۔

    ان شہریوں میں متعدد غیرملکی بھی ہیں جو غزہ سے نکل کر اپنے ممالک کو واپس جانا چاہتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ سرحد بند ہے۔

    Rafah

    رفح مصر اور غزہ کی سرحد ہے۔ یہ اس خطے کی واحد کراسنگ ہے جو اسرائیل کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

  6. اسرائیل کی جنگ بندی کی اطلاعات کی تردید، امریکہ کا اپنے شہریوں کو رفح سرحد کے رہنے کا مشورہ

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں ان اطلاعات کی تردید کی گئی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ، مصر اور اسرائیل رفح سرحد کھولنے اور جنوبی غزہ میں جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے سرحد کھولنے اور غیرملکیوں کو باہر بھیجنے کے بدلے جنگ بندی پر کوئی اتفاق نہیں کیا ہے۔

    واضح رہے کہ خبر رساں ادارے روئٹرز نے مصر کے دو سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر دی تھی کہ امریکہ، اسرائیل اور مصرف رفح سرحد کے کھولنے اور جنوبی غزہ میں جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔

  7. جنگ بندی کے بارے میں علم نہیں ہے: حماس

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حماس میڈیا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انھیں جنوبی غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی سے متعلق کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

    سلمہ معروف نے روئٹرز کو بتایا کہ انھیں مصر کی طرف سے رفح کراسنگ کھولنے سے متعلق کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

  8. جنوبی غزہ میں سیز فائر چند گھنٹوں کے لیے ہو گا: رپورٹ

    رفح سرحد سے متعلق کچھ مزید معلومات بھی موصول ہوئی ہیں۔

    مصر کے سکیورٹی زرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ جنوبی غزہ میں سیز فائر چند گھنٹوں کے لیے ہے۔ تاہم یہ زرائع صحیح وقت سے متعلق ابھی واضح نہیں ہیں۔

    ان زرائع کا کہنا ہے کہ مصر اور امریکہ نے دو ابتدائی طور پر رفح سرحد ایک دن کے لیے کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔

    روئٹرز کا کہنا ہے کہ رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج اور امریکی سفاتخانے نے ابھی تک اس پیشرفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  9. امریکی شہریوں کو رفح سرحد کے قریب رہنے کی ایڈوائس

    pic

    امریکہ نے کہا ہے کہ رفح کراسنگ پر صورتحال غیر واضح ہی رہے گی۔

    امریکہ نے اپنے شہریوں کے نام ایڈوائس میں یہ بھی کہا ہے کہ ابھی یہ بھی نہیں معلوم کہ کتنے وقت تک کے لیے لوگوں کو اس سرحد کو عبور کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    امریکی دفتر خارجہ نے غزہ میں اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انھیں رسائی ہے تو پھر وہ مصر کے ساتھ رفح سرحد کے قریب آ جائیں کیونکہ یہ سرحد بہت محدود وقت کے لیے کھولے جانے کا امکان ہے۔

    حکام غزہ سے امریکی شہریوں کی بحفاظت روانگی سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

  10. امریکہ، اسرائیل اور مصر رفح سرحد کھولنے اور جنوبی غزہ میں جنگ بندی پر متفق: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے مصر کے دو سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور مصر نے رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ہی جنوبی غزہ میں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سیز فائر پر متفق ہو گئے ہیں۔

  11. رفح کراسنگ پر لوگ مصر کی طرف سے سرحد کھولنے کے انتظار میں

    Rafah

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  12. اسرائیل کو غزہ پر قبضہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے: سفیر

    اسرائیل کے اقوام متحدہ کے لیے سفیر نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ پر قبضہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

    سی این این جیلاڈ اردان نے کہا ہے کہ جیسا کہ ہم اپنے بچاؤ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔۔۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ حماس کا خاتمہ کیا جائے اور اس مقصد کے لیے ہم جو بھی کر سکے کریں گے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اسرائیل نے حماس کو ہٹا دیا تو پھر غزہ کی بھاگ ڈور کون سنبھالے گا تو اس پر سفیر نے کہا کہ اسرائیل اس پر ابھی نہیں سوچ رہا کہ جنگ کے دوسرے دن کیا ہو گا۔

  13. خان یونس میں بھو ک و افلاس کا راج، سہولیات اور وسائل کا فقدان, رشدی ابو علوف عہدہ,نمائندہ بی بی سی نیوز، خان پونس، غزہ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مصر کی سرحد کے قریب فلسطینی شہر خان یونس میں بھو ک و افلاس کے شکار انسانوں کی ایک بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے غزہ سے نکل جانے کی دھمکی کے بعد فلسطین ریاست کے شمالی علاقے سے لوگ جو کچھ اپنے ساتھ لے کر نکل سکتے تھے نکل پڑے ہیں اور اب وہ یہاں پہنچ رہے ہیں۔ جن کی گاڑیوں میں پٹرول تھا وہ گاڑیوں سے آئے، جن کو گھوڑا گاڑی میسر آئی وہ اس سے بھاگے اور جن کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا وہ پیدل ہی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    اور یہاں آ کر جو کچھ انھوں نے دیکھا وہ یہ تھا کہ خان یونس کا شہر تو خود ہی اپنے گھٹنوں کے بل تھا جس کی آبادی راتوں رات دگنی ہو گئی تھی اور وہ بڑی تعداد میں انسانوں کے ہجوم کو سنبھالنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔

    ہر کمرہ، ہر گلی، ہر محلہ مردوں، عورتوں اور نوجوانوں سے بھرا پڑا ہے۔ اور ان کے جانے کو کوئی اور جگہ تو ہے بھی نہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ 11 لاکھ افراد میں سے چار لاکھ لوگ جو شمالی غزہ کو اپنا گھر کہتے ہیں وہ اسرائیل کی طرف سے نکل جانے کے حکم کے بعد گذشتہ 48 گھنٹوں میں صلاح الدین روڈ سے جنوب کی طرف جاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اس وقت شمالی غزہ سے پانچ لاکھ شہری نکل چکے ہیں۔

    زمین کی اس تنگ پٹی میں جہاں ہر طرف سے ناکہ بندی ہے اور جو باقی دنیا سے کٹی ہوئی ہے وہاں رہنے کے لیے تقریباً کچھ نہیں بچا ہے اور نہ ہی کوئی محفوظ جگہ یا ٹھکانہ ہے۔

    غزہ کے لوگوں کا بڑا عوامی سیلاب خان یونس پہنچ رہا ہے، یہاں پہنچنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کے گھر تو پہلے ہی بمباری میں تباہ ہو چکے ہیں اور وہ اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، ان کا سب کچھ ختم ہو گیا ہے، سب کے سب خوفزدہ ہیں، کوئی نہیں جانتا کہ آگے کیا ہوگا لیکن پھر بھی وہ یہاں جمع ہو رہے ہیں۔

    یہ شہر جو کہ عام طور پر چار لاکھ لوگوں کا گھر رہا ہے راتوں رات دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کا ٹھکانہ بن گیا ہے۔ شمال کے ساتھ ساتھ وہاں مشرق سے بھی آئے ہوئے لوگ ہیں جنھوں نے 2014 کی جنگ میں خوفناک نقصان اٹھایا تھا۔

    وہاں آنے والوں میں سے ہر ایک کو پناہ اور خوراک کی ضرورت ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کب تک وہ اس طرح کے حالات کا سامنا کرتے رہیں گے۔

    خان یونس کے قلیل وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جو پہلے ہی اپنے کم وسائل کے باعث مشکلات سے دو چار ہے۔ اور لوگوں کی حالیہ نقل مکانی بہت زیادہ ہے۔ اتنی زیادہ ہے کہ شہر کا نظام کمزور پڑنے لگا ہے اور چیزیں بکھرنے لگی ہیں۔

    یہاں کا مرکزی ہسپتال پہلے سے ہی ضروری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ یہاں نہ صرف شمال سے آنے والے بیمار و زخمی افراد داخل ہیں بلکہ اب تو یہ ایک پناہ گاہ بن گیا ہے۔

    پناہ گزین راہداریوں پر قطار میں کھڑے ہیں جبکہ ڈاکٹر اسرائیلی بمباری کا شکار نئے آنے والے زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں۔ ایسے میں نئے لائے جانے والے زخمیوں کی مدد کے لیے پکار فضا میں گونج جاتی ہے۔

  14. ُغزہ میں زندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے، محاصرہ فوری ختم کیا جائے: اقوام متحدہ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کے انسانی امداد سے متعلق ادارے یو این ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے سربراہ فلپ لیزرینی نے کہا ہے کہ غزہ میں زندگی کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    یو این آر ڈبلیو اے کے کمشنر جنرل نے کہا کہ غزہ سے عالمی ادارے کا عملہ مصر کی سرحد کے قریب رفح منتقل ہو چکا ہے۔ اب یہ عملہ بھی اس عمارت میں اپنے امور سرانجام دے رہا ہے جہاں ہزاروں بے گھر افراد امداد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    مشرقی یروشلم میں انھوں نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ غزہ کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے اور اس وقت بظاہر ایسا لگتاہے کہ دنیا سے انسانیت مر چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر ہم پانی کی بات کریں تو ہم سب جانتے ہیں کہ پانی زندگی ہے۔ اس وقت غزہ سے پانی ختم ہو رہا ہے اور غزہ سے زندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔

    کمشنر جنرل کے مطابق انھیں ایسا لگ رہا ہے کہ جلد غزہ سے خوراک اور ادویات بھی ختم ہو جائیں گی۔ انھوں نے غزہ کے محاصرے کو اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔

    ان کے مطابق ’اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، محاصرہ ہر صورت میں ختم کیا جائے اور امدادی اداروں کو ایندھن، پانی، خوراک اور دوائی جیسی امداد پہنچانے کے قابل بنایا جائے۔ اور ہمیں اب اس کی ضرورت ہے۔‘

  15. غزہ کا شہر خان یونس: جہاں بھوک و افلاس کے باعث ایک نئے انسانی بحران کا خطرہ موجود ہے

  16. امریکہ کے سابق سفیر مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر

    David

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے سابق سفیر ڈیوڈ سیٹرفیلڈ کو مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ برائے انسانی امور مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اہم امور انجام دینے کے علاوہ ڈیوڈ سیٹرفیلڈ اس سے قبل امریکی دفتر خارجہ میں ڈائریکٹر عرب اور عرب۔اسرائیلی افئیرز بھی رہ چکے ہیں۔

    امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی نمائندے فوری طور غزہ میں اس وقت پیدا ہونے والے انسانی بحران کے حل پر کام کریں گے۔

    بیان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ضرورت مند افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  17. غزہ کے ہسپتالوں کے پاس صرف ایک دن کا ایندھن بچا ہے: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں صرف ایک دن کا ایندھن بچ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والے ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ ہسپتالوں کے بیک اپ جنریٹرز کے بند ہو جانے سے ہزاروں مریضوں کی جان خطرے میں چلی جائے گی۔

    اقوام متحدہ کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب انسانی مدد فراہم کرنے والے اداروں نے غزہ تک ایندھن اور پانی کی رسائی ممکن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایک دن قبل ایک برطانوی نژاد فلسطینی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ہسپتالوں کے عملے کے پاس مریضوں کے علاج کے لیے مناسب سہولیات اور آلات دستیاب نہیں ہیں۔

  18. یرغمال بنائے گئے امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں: امریکی صدر

    Biden

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ اسرائیل سے یرغمال بنائے جانے والے 13 امریکیوں کی جلد رہائی کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی اس متعلق تفصیلات تو نہیں بتائی جا سکتیں مگر خیال یہی ہے کہ ان شہریوں کو حماس نے یرغمال بنایا ہے۔

    جو بائیڈن کے مطابق وہ اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے امریکی شہریوں کی رہائی کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔ ان کے مطابق یرغمال بنائے جانے والے یہ امریکی شہری ابھی زندہ ہیں۔

    اس سے قبل اتوار کو امریکی دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ 13 امریکی شہری اسرائیل سے لاپتہ ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ سب سے اہم بات ہے کہ حماس کی بربریت کا خاتمہ کیا جائے اور ذمہ داران کا کڑا احتساب کیا جائے۔

    خیال رہے کہ امریکی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل میں حماس کے حملوں کے بعد 13 امریکی شہری لاپتہ اور 30 ہلاک ہو چکے ہیں۔

    جو بائیڈن نے کہا کہ حماس کا مکمل خاتمہ ہر صورت ضروری ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنا ضروری ہے۔ امریکی صدر نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ ایران کی حزب اللہ اس تنازع میں نہ کودے اور اسے مزید ہوا نہ دے۔

  19. پانچ لاکھ لوگ شمالی غزہ سے نکل چکے ہیں، آپریشن کی نوعیت ایسی ہے کہ تحفظ ممکن نہیں رہتا: اسرائیلی فوج, ادریان چیکولِیتا

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کے بین الاقوامی امور کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کانریکس نے کہا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق اس وقت تک پانچ لاکھ لوگ شمالی غزہ کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ انھوں نے حماس پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ حماس شہریوں کو شمال سے جنوب کی طرف منتقل ہونے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

    ان کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان شہریوں کے انخلا کے لیے دو محفوظ رستے دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا آپریشن اب مزید وسیع ہونے جا رہا ہے اس وجہ سے عام شہریوں کا غزہ میں رہنا غیرمحفوظ ہوگا۔

    جمعے کے دن کی جانے والی بمباری میں ایک محفوظ قرار دی جانے والی سڑک پر 70 لوگوں کی ہلاکت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج جان بوجھ کر عام شہریوں کو ہدف نہیں بناتی۔

    اپنی بریفنگ کے دوران انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس وقت فوجی آپریشن کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر وقت عام شہریوں کا تحفظ ممکن نہیں رہتا۔

    انھوں نے کہا کہ ہم حماس کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہم ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہیں اور ہم پوری مستعدی کے ساتھ ان کے کمانڈروں کی تلاش میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب آپ ایک ایسے ہدف کے تعاقب میں ہوں جو ادھر سے ادھر جا رہا ہو تو پھر ایسے میں عام شہریوں کا تحفظ ممکن نہیں رہتا اور ہم پیشگی انھیں اپنی کارروائی سے متعلق خبردار بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اس طرح کرنے سے مطلوب شخص بھاگ سکتا ہے۔

  20. غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی: سیو دی چلڈرن

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سیو دی چلڈرن کی ہیومنٹیرین ڈائریکٹر جبرئیلہ واجیمن نے کہا ہے کہ ان کے عملے کے لیے غزہ میں حالات بہت خراب نہج پر ہیں۔

    انھوں نے کہا ان کی تنظیم کے بہت سے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ غزہ میں اب ان کی مدد کرنے سے متعلق وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم کے ایک رکن نے انھیں بتایا کہ اب ان کی امید دم توڑ رہی ہے اور وہ اس حالت میں جاگے ہیں کہ ان کے بچے ان کے بازوؤں میں لپٹے ہوئے تھے۔

    جبرئیلہ واجیمن نے کہا کہ اب غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں بچی ہے اور ان کی تنظیم کو یہ تشویش ہے کہ اگر یہ تنازع بڑھتا ہے تو پھر غزہ کے شہریوں کے لیے اس کے بھیانک نتائج ہوں گے۔

    اس وقت مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد سے امدادی سامان بھی آگے نہیں بھیجا جا رہا ہے۔