آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیلی فوج کی غزہ میں زمینی آپریشن کی تیاری: ’ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں کے پاس کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں‘

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں زمینی، فضائی و سمندری آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں جس دوران رفع کے واحد ہسپتال کو خالی کرانے کے لیے محض چند گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی۔ تاہم ہسپتال کی انتظامیہ نے مریضوں کو کہیں اور منتقل سے انکار کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل فلسطین کشیدگی: اب تک کی صورتحال

    اسرائیل اور غزہ میں ابھی دوپہر ہی گزری ہے مگر حالات دونوں جانب کشیدہ ہیں۔

    آج اب تک کی تازہ ترین سرخیوں کا خلاصہ یہ ہے:

    • اسرائیلی فوجی متوقع زمینی حملے سے قبل غزہ کے قریب جمع ہو رہے ہیں
    • غزہ کے شمال سے جنوب کی طرف شہریوں کے محفوظ راستے کے لئے انخلا کا راستہ مزید 40 منٹ تک کھلا رہے گا جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق 13:00 بجے اسے بند کر دیا جائے گا۔
    • دریں اثناء برطانوی دفتر خارجہ نے غزہ میں موجود برطانوی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مصر میں داخل ہونے والی رفح سرحد کھولنے کی صورت میں تیاری کریں۔ تاہم ایک امدادی قافلہ غزہ میں داخل ہونے کے لیے اب بھی انتظار میں ہے۔
    • دوسری خبر یہ ہے کہ شمالی اسرائیل میں لبنان کی جانب سے داغے گئے میزائل حملے میں ایک اسرائیلی شہری ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔
    • اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی بڑھنے کے بعد حماس کا کہنا ہے کہ اس کے تین جنگجو سرحد کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہوئے جس کے بعد وہ مارے گئے۔
    • گذشتہ ہفتے سے اب تک اسرائیل میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں یرغمال اسرائیلیوں کی تعداد 126 ہے۔
    • فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 2300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  2. فلسطینی مشن کا برطانوی حکومت سے اسرائیل کو ’گرین سگنل‘ دینے سے باز رہنے کا مطالبہ

    برطانیہ میں فلسطینی سفارت خانے کے سربراہ حسام زوملوٹ نے غزہ کی موجودہ صورت حال کو ’خوفناک‘ اور خونریز قرار دیا ہے۔

    زوملوٹ فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کی نمائندگی کرتے ہیں، جو اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو چلاتا ہے، جبکہ حماس غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرتی ہے۔

    لورا کوئنسبرگ کے ساتھ بی بی سی کے سنڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انھوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ ’اپنی تاریخی، قانونی اور سیاسی ذمہ داریوں پر قائم رہے‘ اور اسرائیلی حکومت کو ’گرین سگنل‘ دینا بند کرے۔

    غزہ میں حماس کی حمایت پر بار بار دباؤ کا سامنا کرنے والے زوملوٹ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ کسی خاص سیاسی دھڑے کے ساتھ اتحاد نہیں کرتے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اکثریت فتح کے ساتھ اتحاد کرتی ہے جو پی اے چلاتی ہے۔

  3. کیا روسی صدر پوتن اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں؟

  4. یرغمال بنائے جانے والے 126 اسرائیلیوں کو غزہ میں رکھا گیا ہے: اسرائیلی فوج

    اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے لے کر اب تک اس کے کم از کم 279 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 1300 سے زائد ہے۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ حماس نے اغوا کیے جانے والے 126 اسرائیلیوں کو غزہ میں یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیل نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 150 اسرائیلیوں کو غزہ میں مغوی بنا کر رکھا ہوا۔

  5. لبنان سے فائر کیے گئے میزائل سے ایک اسرائیلی شہری ہلاک

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل پر فائر کیے جانے والے میزائل سے ایک اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل پر انھوں نے میزائل فائر کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس میزائل حملے کا جواب آرٹلری فائر کی صورت میں دیا گیا ہے۔

  6. چند گھنٹوں کے نوٹس پر ہسپتال خالی کرنا ناممکن ہے: ایم ایس ایف

    ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم میڈیسن سینس فرنٹیئرز، ایم ایس ایف، کے ایگزیکٹو ڈاکٹر نتالی روبرٹس نے کہا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں کو چند گھنٹوں کے نوٹس پر خالی کرنا ناممکن سی بات ہے۔

    اسرائیل نے شہریوں کو ممکنہ زمینی آپریشن سے قبل شمالی علاقوں سے نکل جانے کا کہا ہے۔ ڈاکٹر نتالی کے مطابق ان مریضوں کے لیے کہیں اور جانا ممکن نہیں ہے۔

    ان کے مطابق جنوبی غزہ کے ہسپتال مکمل بھرے ہوئے ہیں اور اب غزہ کی پٹی میں بجلی بھی نہیں ہے۔

    اسرائیلی فوج نے بیعت حنون سے خان یونس تک کا رستہ تین گھنٹوں کے لیے کھول دیا ہے تا کہ شہری یہاں سے نکل کر باہر جا سکیں۔

    ڈاکٹر نتالی کے مطابق جنوبی غزہ کے ہسپتالوں میں جگہ ایک مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق یہ افراتفری پائی جاتی ہے کہ کوئی علاج کے بعد اپنے گھر واپس جا سکے گا یا نہیں۔

  7. اسرائیل نے غزہ چھوڑ کر جانے والوں کے لیے محفوظ رستہ کھول دیا

    غزہ سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل نے ایک محفوظ رستہ کھول دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے یہ اعلان کیا ہے کہ عام شہری اس رستے سے صبح دس بجے سے دوپہر دو بجے تک باہر جا سکتے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کی فوج انھیں نشانہ نہیں بنائے گی۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے زمینی آپریشن شروع کرنے کے اعلان کے بعد شمالی غزہ سے 11 لاکھ شہریوں کو نکلنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔

    یہ رستہ بیعت حنون سے خان یونس کی طرف جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ حماس نے شہریوں کو اسرائیل کے احکامات نظرانداز کرنے کا کہا ہے۔

  8. جنگ کے نویں دن غزہ کی پٹی تصاویر میں

  9. اسرائیلی فوجی غزہ کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے

    زمینی آپریشن کے اعلان کے بعد غزہ کی سرحد ہزاروں اسرائیلی فوجی جمع ہو رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ پر زمینی، فضائی اور سمندری حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مگر ابھی ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ سب کب کیا جائے گا۔

    سنیچر کی رات اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے ان حملوں کی تیاری کرنے والے فوجیوں سے ملاقات کی ہے۔ ایک ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے ہیں اور وہ فوجیوں سے کہہ رہے کہ کیا آپ اگلے مشن کے لیے تیار ہیں۔ ابھی آگے بہت کچھ ہونے جا رہا ہے۔

    رات بھر اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ پر شدید بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔ اسرائیل کی طرف سے لاکھوں فلسطینیوں کو شمالی غزہ سے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔

  10. غزہ کے شہریوں کے انخلا کے لیے جلد ایک محفوظ رستہ کھولا جائے گا: اسرائیل

    اسرائیل کی طرف سے غزہ میں زمینی آپریشن شروع کرنے کے امکانات کے بعد ہزاروں فلسطینی غزہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اس انخلا سے متعلق اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ چھوڑنے والوں کو تین گھنٹوں کے ایک محفوظ رستہ دیا جائے گا۔ تاہم ان شہریوں کو ہر صورت میں مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے لے کر دوپہر ایک بجے تک سرحد پار کرنا ہو گی۔

    یہ رستہ بیت حنون سے خان یونس کی طرف جاتا ہے۔ ترجمان کے مطابق ان تین گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج یہاں سے گزرنے والوں پر بمباری نہیں کرے گی۔

    ابتدائی طور پر اسرائیل نے 24 گھنٹوں میں غزہ کے شمالی حصے سے شہریوں کو نکلنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ اس وقت اسرائیل نے دو رستے اس مقصد کے لیے وقف کر رکھے تھے۔ ان میں سے ایک رستہ یہی تھا جس کے بارے میں اسرائیلی فوج نے اب تین گھنٹوں کی حد مقرر کی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے انخلا کے اس حکم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال میں داخل مریضوں کو وہاں سے زبردستی نکلنے پر مبجور کرنا انھیں سزائے موت دینے کے مترادف ہے۔

  11. غزہ-اسرائیل کی تازہ ترین صورتحال

    • اسرائیل کی جانب سے 11 لاکھ افراد کو متوقع زمینی حملے سے قبل وہاں سے نکل جانے کے لیے خبردار کیے جانے کے بعد غزہ کے ہزاروں شہری شمالی علاقے کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے لوگوں کی بڑے پیمانے پر اس نقل و حرکت کو انخلا قرار دیا ہے۔
    • اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ کا اگلہ مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔ گذشتہ رات اسرائیلی فوجیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ پر زمینی، فضائی اور سمندری حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم انھوں نے اس حملے کے لیے کوئی متعین وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
    • عالمی ادارہ صحت نے اسرائیل کی طرف سے غزہ سے شہریوں کے انخلا کے حکم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریضوں کو ہسپتالوں سے نکل جانے پر مجبور کرنا انھیں سزائے موت دینے جیسا ہے۔
    • اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اب آٹھویں روز میں داخل ہو چکی ہے تو اس جنگ میں دونوں اطراف 3600 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیل میں مرنے والوں کی تعداد 1300 سے زائد جبکہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے 2300 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔
    • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں جمعے کے روز بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے صحافی کی موت کی تحقیقات کر رہی ہے۔
    • امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے دوسرا ایئرکرافٹ بھی بھیج رہا ہے تا کہ اسرائیل مخالف عناصر پر رعب و دبدبہ برقرار رکھا جا سکے۔
  12. غزہ میں مرنے والوں کی تعداد 2300 سے زائد ہو گئی: وزارت صحت

    حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مرنے والوں کی تعداد 2300 سے زائد ہو گئی۔

    وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے فضائی بمباری سے اس وقت تک مرنے والے فلسطینی شہریوں کی تعداد 2329 ہو گئی ہے جبکہ 9714 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    حماس کی طرف سے اسرائیل میں کیے گئے حملوں میں مرنے والے اسرائیلیوں کی تعداد 1300 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

  13. غزہ پر اسرائیلی بمباری: ’ہم ایک ساتھ سوتے ہیں تاکہ ایک ساتھ مر سکیں‘

  14. امدادی قافلے مصر-غزہ سرحد پر پھنس کر رہ گئے

    امداد لے کر آنے والے ٹرک رافح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کے لیے گھنٹوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ یہ سرحد بند ہونے کی وجہ سے اب یہاں سے غزہ کو امداد کی فراہمی بھی رک گئی ہے۔

    تصاویر میں مصر اور ترکی سے سامان لے کر جانے والے ٹرکوں کی ایک قطار دکھائی گئی ہے، جو سرحدی گزرگاہ کے قریب العریش شہر میں غزہ میں داخل ہونے کا انتظار میں ہے۔

    اطلاعات کے مطابق حال ہی میں غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کراسنگ کو بند کر دیا گیا تھا، جس سے کراسنگ کے فلسطینی جانب تباہی ہوئی تھی۔

    اسرائیل کی جانب سے فضائی بمباری کی وجہ سے حالیہ دنوں میں اس چیک پوائنٹ کو بند کر دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس بمباری کی وجہ سے غزہ کی پٹی والی طرف سرحد کو نقصان بھی پہنچا، جس کے بعد یہاں سے لوگوں کا یہاں سے اندر آنے یا باہر جانے کا سلسلہ رک گیا۔

    یہی وجہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں رہنے والوں تک امدادی سامان بھی اب سرحد پر پہنچ کر رک گیا ہے۔ اب امداد فراہم کرنے والے ادارے حکام سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ ان کے امدادی قافلوں کو آبادی تک پہنچنے میں رسائی دی جائے۔

  15. غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کے مناظر

  16. غزہ پر اسرائیل کا زمینی حملہ کس طرح کا ہو سکتا ہے؟, جوناتھن بیل، دفاعی امور کے نامہ نگار

    ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

    ملکی فوج نے علاقے کے شمال میں 11 لاکھ لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جنوب کی طرف چلے جائیں۔ دریں اثنا، اسرائیل نے اس علاقے کے کنارے پر دسیوں ہزار فوجی، ٹینک اور توپ خانے جمع کر لیے ہیں۔

    لیکن غزہ کے گنجان آباد شہری علاقوں میں زمینی فوج بھیجنا ایک پرخطر آپریشن ہو سکتا ہے۔

    ممکنہ زمینی حملے کا دائرہ کار تاحال واضح نہیں ہے کہ یہ کب شروع کیا جا سکتا ہے اور یہ آپریشن کتنا طویل ہو سکتا ہے۔

  17. غزہ پر زمینی حملہ جلد ممکن نہیں: سابق امریکی جنرل

    امریکی فوج کے ایک ایک ریٹائرڈ جنرل نے بی بی سی کو بتایا کہ غزہ پر اسرائیلی فوج کے زمینی حملے کا امکانات بہت کم ہیں کیونکہ اس طرح کے آپریشن کے لیے تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے لیے سابق امریکی سکیورٹی کوآرڈینیٹر جنرل مارک شوارٹز نے مزید کہا کہ جس طرح کی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اس میں ’کئی ہفتے لگیں گے، لیکن میرے خیال میں اس میں مہینوں لگیں گے‘۔

  18. سلامتی کونسل اسرائیل اور حماس کے جنگ بندی کے مسودے پر ووٹنگ کرائے: روس

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ پیر کو اسرائیل اور حماس کے تنازعے پر ایک مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کرائے، جس میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور شہریوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی مذمت کی گئی ہے۔

    اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمتری پولیانسکی نے کہا کہ جمعہ کو 15 رکنی سلامتی کونسل میں پیش کیے جانے کے بعد سے متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہ اس مسودے پر پیر کی سہ پہر کو ووٹنگ کی توقع رکھتے ہیں۔

    مسودے کے متن میں فوری اور پائیدار انسانی جنگ بندی کی مکمل پابندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی کی ضمانت، انسانی امداد کی تقسیم اور ان شہریوں کے محفوظ انخلا کے امکان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  19. 'صورتحال قابو سے باہر جا سکتی ہے': ایران کا انتباہ

    حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے مبینہ طور پر قطر میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حماس کے ایک بیان کے مطابق عبداللہیان نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تحریک کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    قطری دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران عبداللہیان نے ایک ہفتہ قبل اسرائیلی اہداف پر حماس کے حملے کو سراہتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی فتح‘ قرار دیا۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے کے مشن کا کہنا ہے کہ ’اگر اسرائیل کے جنگی جرائم اور نسل کشی کو فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو صورت حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔‘

    مشن نے ایکس، سابقہ ٹوئٹر، پر پوسٹ میں لکھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ’ذمہ داری اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو کونسل کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔‘

  20. اسرائیلی فوج اپنے زمینی آپریشن میں ’بڑے پیمانے پر توسیع کرے گی‘

    اسرائیل فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ زمینی آپریشن میں بڑے پیمانے پر توسیع کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس میں ہزاروں ریزرو فوجی بھی شامل ہوں گے۔

    اس حوالے سے کوئی وقت نہیں دیا گیا ہے۔ زمینی حملے کے لیے اسرائیل نے غزہ کے رہائشیوں سے شمالی حصے کو خالی کرنے کا کہا تھا۔

    بیان کے مطابق ان کی جانب سے ’فضا، سمندر اور زمین‘ کے ذریعے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔