شمالی غزہ میں فلسطینیوں کے قافلے پر فضائی حملے میں بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک

جنوبی غزہ کی جانب جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر فضائی حملے کی ویڈیوز کی تصدیق ہوئی ہے جس میں کئی لاشیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ حملہ صلاح الدین سٹریٹ پر ہوا جس کے بارے میں فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر 70 افراد ہلاک ہوئے۔

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ پریس کلب کے باہر فلسطینوں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں سنیچر کو اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    اس مظاہرے میں شامل افراد نے ہاتھوں میں اسرائیل کے خلاف اور حماس کے حق میں پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے۔

    کوئٹہ
    کوئٹہ
    کوئٹہ
    کوئٹہ
  2. بریکنگ, جنوبی اسرائیل پر حملے کی قیادت کرنے والے حماس کمانڈر ہلاک: اسرائیلی دفاعی افواج

    اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے حماس کے کمانڈر علی قدی کو ہلاک کر دیا ہے جنھوں نے گذشتہ ہفتے اسرائیلی علاقوں پر حملے کی قیادت کی تھی۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’علی قدی کو شین بیٹ سیکیورٹی ایجنسی اور ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی انٹیلی جنس کوششوں کے بعد ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔‘

  3. اسرائیل اور غزہ کی تازہ صورتحال

    غزۃ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    • شمالی غزہ میں رہنے والے 10 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی کا آغام بھی کر دیا گیا ہے۔
    • اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ ’شہریوں کو آج مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان دو راستوں کا استعمال کرتے ہوئے جنوب کی طرف منتقل ہونا پڑے گا۔
    • بڑے پیمانے پر انخلا کے مطالبے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے اسے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔
    • فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جوابی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2215 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 8700 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    • دریں اثنا، اسرائیل نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے حماس کے شہریوں اور فوجیوں پر حملے میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
    • قبل ازیں ان رپورٹس کو مسترد کر دیا گیا تھا کہ آئی ڈی ایف نے حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کی لاشیں برآمد کی ہیں اور انھیں 'غلط' قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔
  4. اسرائیل اور مصر کا کہنا ہے کہ امریکی شہری غزہ چھوڑ سکتے ہیں

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ’امریکی شہری رفح کے سرحدی راستے مصر میں داخل ہو سکتے ہیں۔‘

    اسرائیل اور مصر دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان ایک معاہدے کے بعد یہ کراسنگ آج مقامی وقت کے مطابق 12:00 سے 17:00 بجے تک کھلی رہے گی۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ غزہ کو کنٹرول کرنے والی تنظیم حماس امریکی شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کی اجازت دے گی یا نہیں۔

  5. اے ایف پی نے حماس کے اسرائیل کے حملے میں متاثرہ غیر ملکیوں کی تفصیلات جاری کر دیں

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے گزشتہ ہفتے حماس کے اسرائیل پر حملے میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہونے والے افراد میں ان غیر ملکیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جو اس حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔

    اے ایف پی نے اپنے قومی ادارے سے لی گئی معلومات کے ذریعے ان 100 سے زائد غیر ملکیوں کی فہرست مرتب کی ہے جو اس حملے میں ہلاک، لاپتہ یا یرغمال بنائے گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے گزشتہ ہفتے حماس کے اسرائیل پر حملے میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہونے والے افراد میں ان غیر ملکیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جو اس حملے سے متاثر ہوئے۔

    اے ایف پی نے اپنے قومی ادارے سے لی گئی معلومات کے ذریعے ان 100 سے زائد غیر ملکیوں کی فہرست مرتب کی ہے جو اس حملے میں ہلاک، لاپتہ یا یرغمال بنائے گئے ہیں۔

    ان تفصیلات کے مطابق 27 امریکی شہری، 24 تھائی لینڈ کے جبکہ 15 فرانسیسی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق ان حملوں میں 10 نیپالی شہری، سات شہری، ارجنٹینا کے، سات یوکرینی شہری ، چار روسی، جبکہ چار برطانوی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق اسرائیل پر حماس کی جانب سے کیے گئے حملے میں چائل کے چار شہری، کینیڈا ، چائنا اور بیلا روس فلپائن اور برازیل کے تین تین شہری بھی ہلاک ہوئے۔

    اے ایف پی کے مطابق جرمنی اور میکسیکو کے متعدد افراد یرغمال بنائے گئے جبکہ اٹلی اور سری لنکا سمیت دیگر ممالک کے بہت سے افراد لا پتہ ہیں۔

    ایجنسی کے مطابق ابھی بہت سے دیگر افراد کا علم نہیں ہو پایا اور ابھی بہت سے دیگر افراد کا علم نہیں ہو پایا ہے۔

  6. اسرائیل غزہ جنگ: پہلے ہفتے کی اہم پیش رفت کا خلاصہ

    غزہ اسرائیل جنگ

    غزہ کی پٹی پر کنٹرول رکھنے والی عسکریت پسند تنظیم حماس نے آج سے ایک ہفتہ قبل اسرائیل پر ایک بھرپور حملہ کیا۔

    جنگ کے اس پہلے ہفتے کی اہم پیشرفت کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

    • اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان حماس کے عسکریت پسند غزہ کی پٹی کے قریب کمیونٹیز میں داخل ہو گئے۔
    • اس دوران 1,300 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 150 اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا گیا۔
    • اسرائیل نے حماس کے حملے کے نتیجے میں غزہ پر بمباری کی مہم شروع کی جس میں تقریباً 2000 افراد مارے گئے اور تین لاکھ 38 ہزار کے قریب شہری بے گھر ہوئے۔
    • اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مکمل ناکہ بندی کے نتیجے میں ایندھن، خوراک اور پانی ختم ہو گیا تھا۔
    • اسرائیل کا کہنا ہے کہ جب تک اس کے یرغمالی رہا نہیں ہوتے محاصرہ ختم نہیں ہوگا۔
    • اسرائیل نے غزہ کے ساتھ اپنی سرحد پر دسیوں ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں جبکہ تین لاکھ ریزرو فورس بھی موجود ہے۔
    غزہ کی صورت حال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • غزہ کی پٹی میں شمال کی جانب رہنے والے تقریباً 11 لاکھ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسرائیلی فورسز کی متوقع زمینی کارروائی سے قبل جنوب کی طرف نقل مکانی کر جائیں۔
    • اقوام متحدہ نے اسرائیل کے اس حکم نامے کو خوفناک قرار دیا ہے۔
    • برطانیہ نے جمعے کے روز برطانوی شہریوں کو اسرائیل سے وطن لانے کے لیے ایک خصوصی طیارہ بھی روانہ کیا۔
  7. اسرائیلی فوج کا لبنان سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے عسکریت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے لبنان سے اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے والے عسکریت پسندوں کو مارنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ’کئی دہشت گردوں‘ کو اس وقت ہلاک کردیا ہے جب وہ اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز کے (IDF) کے دعوے کے مطابق ’دہشت گرد سیل‘ کی شناخت تھوڑی دیر پہلے کی گئی تھی۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے بغیر پائلٹ مسلح جہازوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ حملہ کیا تاہم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اور ان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بی بی سی ان دعووں کی آذادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  8. ’غزہ میں ایک دن میں 10 لاکھ شہریوں کو منتقل کرنا محض ایک انسانی بحران ہو سکتا ہے‘

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ شمالی غزہ کے لوگوں کے لیے اسرائیل کے انخلا کے حکم پر عمل درآمد کرنا قطعاً ناممکن ہے۔

    جوزف بوریل نے چین کے تین روزہ سفارتی دورے کے آخری دن اپنی پریس کانفرنس میں کہا ’یہ تصور کرنا کہ آپ غزہ جیسی صورتحال میں 24 گھنٹوں میں 10 لاکھ شہریوں کو منتقل کر سکتے ہیں، محض ایک انسانی بحران ہو سکتا ہے۔‘

    اسرائیل کی جانب سے متوقع زمینی کارروائی سے قبل علاقے سے نکل جانے کے لیے گزشتہ روز سے دسیوں ہزار شہریوں نے غزہ کے جنوب کی طرف نقل مکانی کرنا شروع کر دی ہے۔

    یورپی یونین کی طرف سے اسرائیل کے لیے حمایت کے اظہار کے باوجود انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ وہ اپنے دفاع کے عمل میں بین الاقوامی انسانی قوانین پر عمل کرنے کا بھی پابند ہے۔

    جوزف بوریل نے مزید کہا کہ ہماری پوزیشن واضح ہے لیکن کسی بھی حق کے استعمال کی ایک حد بین الاقوامی قانون کی پاسداری ہے۔

  9. فلسطین کے 10 لاکھ سے زائد شہریوں کو آج نقل مکانی کا سامنا، پیدل شہریوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں, يولاند كنيل، بی بی سی نیوز، یروشلم

    غزہ میں نقل مکانی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی فلسطینیوں کو دی گئی ڈیڈ لائن کے باعث غزہ کی پٹی میں 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینی آج نقل مکانی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اب تک لگ بھگ دسیوں ہزار فلسطینی نقل مکانی کر چکے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے حالیہ دنوں میں غزہ پر اب تک کی سب سے شدید بمباری محض ’شروعات‘ ہیں۔

    اسرائیل نے جب رہائشیوں کو نقل مکانی کی تشہیر کے لیے فضا سے فلائرز گرائے تھے تو اس کے بعد سے غزہ کی پٹی کے گنجان آباد شمالی حصے میں عمومی طور پر خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

    اس اعلان کے بعد جنوب کی جانب نقل مکانی کے لیے غزہ کے پیدل شہریوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

    غزہ سے نقل مکانی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بہت سے شہریوں نے اسرائیل کے اس حکم کو نہ مانتے ہوئے ابھی تک نقل مکانی شروع نہیں کی ہے۔

    اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا تو اس سے ایک بڑی تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    اقوام متحدہ نے اسرائیل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے اور انسانی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایک ہفتہ قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد 1300 اسرائیلیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ غزہ میں کم از کم 19 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    غزہ کی صورت حال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کو اپنے اب تک کے مہلک ترین حملوں کا سامنا رہا ہے اور اب ایک ہفتے بعد اس نے غزہ پر اپنی شدید بمباری جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد اسلامی عسکریت پسند گروپ حماس کو ختم کرنا ہے جو اس علاقے پر حکومت کرتا ہے۔

    دوسری جانب حماس نے اپنے ’خون کے آخری قطرے تک‘ لڑنے کا عزم کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے زمینی حملے کی مکمل تیاریوں کے ساتھ اس کی افواج نے پہلے ہی غزہ کے اندر محدود حملے کیے ہیں اور فلسطینیوں کے راکٹ داغنے سے متعلق اور حماس کے زیر حراست درجنوں اسرائیلی یرغمالیوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کر رہے ہیں۔

  10. امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب پہنچ گئے

    Saudi

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اپنے چھے عرب ممالک کے دورے پر اس وقت سعودی عرب پہنچے ہیں۔

    امریکی وزیرخارجہ چاہتے ہیں کہ عرب ممالک واضح طور پر حماس کی مذمت کریں۔ ان کی سفارتکاری میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ عرب ممالک اسرائیلی جوابی حملوں پر تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    واضح رہے کہ سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بے گناہ ’غیرمسلح عام شہریوں کو نشانہ بنانے‘ کی کارروائی قرار دیا ہے۔

    سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت کر رہے تھے لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ گذشتہ سنیچر کے روز اسرائیل پر حماس کے حملے کی وجہ سے وہ اب عمل اب کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

    سعودیوں نے اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ تعلقات بحال کیے تھے اور سعودی ولی عہد نے چند روز قبل ایرانی صدر سے فون پر تفصیلی بات بھی کی۔

    امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کا جائزہ لینے کے خواہاں ہیں، جس کا مقصد تہران کو تنازع میں ملوث ہونے کے نتائج کے بارے میں وارننگ دینا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مصر کا دورہ کرنے والے ہیں، جس کی غزہ کے ساتھ مشترکہ سرحد ہے، اور وہاں وہ انسانی امداد کی راہداری کے قیام اور غزہ کے اندر شہریوں کے لیے محفوظ مقامات کے قیام کی کوششوں پر بات کریں گے۔

  11. جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور فوج بھی اسرائیل کو حماس کے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے محفوظ کیوں نہ رکھ سکی؟, ثقلین امام، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

    حماس کا آپریشن طوفان الاقصیٰ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل پر حماس کے حالیہ حملوں نے ملک کی سکیورٹی اور دفاعی نظام کی اہم کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی عوام میں ریاستی نظام پر اعتماد میں کمی آئی ہے۔

    سکیورٹی کے مختلف تجزیہ کاروں اور مختلف ذرائع کے مطابق حماس نے متعدد مقامات پر سرحدی دیوار میں شگاف کر کے اور سرحدی باڑ توڑ کر سینکڑوں مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ اسرائیلی حدود میں گھس کر اسرائیل پراچانک حملہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

    جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور فوج بھی اسرائیل کو حماس کے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے محفوظ کیوں نہ رکھ سکی؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے

  12. ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ کچھ چیزیں ہیں جنھیں ہم واضح کرنا چاہتے ہیں۔

    ان کے مطابق غزہ میں فلسطینی شہری ہمارے دشمن نہیں ہیں اور نہ ہی ہم انھیں اپنی کارراوئیوں کا ہدف بنانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ہماری کوشش ہے کہ ہم صحیح اہداف حاصل کر سکیں اور ہم نقصان سے بچنے کے لیے عام شہریوں کے انخلا کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ میڈیا ہماری کارروائیوں پر تنقید کر رہا ہے بجائے حماس کو اس صورتحال کا ذمہ ٹھہرانے کے جو اس وقت غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ یہ سب حماس کر رہی ہے۔۔ ہم تو صرف اس طرح کی صورتحال کا جواب دے رہے ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عام شہریوں اور ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنائیں۔

    فلسطینی اتھارٹیز کے مطابق ایک ہفتے میں غزہ پر اسرائیلی بم حملوں میں اس وقت تک 2000 تک عام فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔

  13. اسرائیل کو اپنے مغوی شہریوں کی بازیابی کے لیے ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے

    حماس نے گذشتہ سنیچر کو جنوبی اسرائیل سے جن کم از کم 150 اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں کسی خفیہ مقام پر رکھے گئے ہیں۔

    اسرائیل کے مطابق ان مغویوں میں خواتین، بچے اور معمر افراد شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ایکس، سابقہ ٹوئٹر، پر بتایا کہ اس وقت حماس کے قبضے میں 120 سے زائد اسرائیلی ہیں۔

    حماس نے یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل بغیر وارننگ کے فضائی حملے میں عام شہریوں کو قتل کرتا ہے تو اس کے بدلے یرغمال بنائے جانے والے ایک اسرائیلی کو قتل کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ میں زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج کو ان یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں میں سے چند کی لاشیں اور ان کی کچھ اشیا ملی ہیں۔

    اب اس صورتحال نے اسرائیل کی حکومت کو ایک نئی مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

    مچل ملسٹن جنھوں نے اسرائیلی کی ملٹری انٹیلیجنس میں 20 برس ملازمت کی ہے نے بی بی سی کے نمائندے فرینک گارڈنر کو بتایا کہ ’اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس وقت اسرائیل کو یرغمال بنائے جانے والے شہریوں سے متعلق اپنی پوری تاریخ میں اس وقت بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔‘

  14. حماس کی فلسطینی شہریوں کو علاقہ خالی کرنے سے روکنے کی کوششیں باعث تشویش ہیں: اسرائیل کا حماس پر الزام

    حماس اسرائیل تنازعہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس( ٹوئٹر) پر پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اپنے حملوں سے متعلق پیشگی تشہیر کر دی تھی تاکہ عام شہری جنگ سے متاثر نہ ہوں۔‘

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ وہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا اور اس کی جنگ صرف حماس کے ساتھ ہے۔

    لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ ’فوج نے لوگوں کو ان کی وارننگ سنتے اور خطرناک علاقے سے نکلتے ہوئے دیکھا ہے تاہم حماس کی طرف سے فلسطینی شہریوں کو علاقہ خالی کرنے سے روکنے کی کوششیں باعث تشویش اور افسوسناک ہیں۔

    اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق وہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے اور ان کی جنگ صرف حماس کے ساتھ ہے۔

  15. لاپتہ اسرائیلیوں کی غزہ سے لاشیں برآمد

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی غزہ میں زمینی کارروائی کے دوران حماس کی طرف طرف سے یرغمال بنائے جانے والے چند اسرائیلیوں کی لاشیں ملی ہیں۔

    ہارٹز اور یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی کی دفاعی افواج کو غزہ میں کچھ اسرائیلیوں کو لاشیں ملی ہیں جن کی تعداد ابھی نہیں بتائی گئی ہے۔ ان اسرائیلیوں کی لاشوں کو دوبارہ اسرائیل میں لایا گیا ہے اور ان لاپتہ افراد کی کچھ اشیا بھی ملی ہیں۔

    پروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل کی پیادہ فوج اور بکتر بند یونٹس اس وقت غزہ میں زمینی آپریشن کر رہے ہیں۔ اس زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے حماس کا ایل اینٹی ٹینک میزائل کا سیل بھی قبضے میں لے لیا ہے جہاں سے اسرائیل پر فائرنگ کی جاتی تھی۔

  16. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں 'حزب اللہ کے اہدف' کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    لبنان میں راکٹ داغے جانے کے دعوے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ’دہشت گردوں کے ٹھکانے‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی جب لبنان کی سرحد کے قریب واقع شمالی شہرحیفہ کے اوپر دو ’نامعلوم اہداف‘ کو نشانہ بنانے اوراسرائیل کے شمالی حصے میں ایک نامعلوم ڈرون (UAV) کے داخلے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

    اسرائیل نے اپنے ایک فوجی ڈرون پر فائرنگ کی بھی تصدیق کی ہے۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فورسز اور حزب اللہ کے درمیان راکٹ داغے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ حماس کی طرح لبنانی گروپ حزب اللہ کو بھی برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

  17. غزہ میں جنگ کی صورتحال

    غزہ اور اسرائیل میں جنگی صورتحال پر رات گئے ہونے والے واقعات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

    • فلسطینی شہری اسرائیلی وارننگ کے بعد اب شمالی غزہ سے نکلنے کے لیے کاروں، ٹرکوں میں جانے کے علاوہ پیدل بھی نقل مکانی کررہے ہیں۔
    • شہریوں کو نقل مکانی کے لیے 24 گھنٹوں کا وقت دیا گیا تھا۔
    • شمالی علاقوں میں رہنے والے تقریباً گیارہ لاکھ افراد کو اسرائیلی فورسز کے متوقع زمینی حملے سے پیش نظر علاقے سے نقل نکانی کی ہدایت کی گئی ہے۔
    • اقوام متحدہ نے اسرائیل کے اس اقدام کو خوفناک قرار دیا ہے جبکہ امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ عام شہریوں کو مارنے سے گریز کرے۔
    • امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ وہ غزہ میں ’محفوظ علاقوں‘ کی حفاظت کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
    • اسرائیل پر حملوں کے دوران ایک ہفتہ قبل حماس کے جنگجو کم از کم 150 افراد کو یرغمال بنا کرغزہ لے گئے تھے۔
    • ان حملوں میں 1300 افراد ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
    • حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں کے بعد سے غزہ میں 1,900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • غزہ میں مکمل ناکہ بندی نافذ ہونے کے باعث ایندھن، خوراک اور پانی کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔
    • خبر رساں ادارے روئٹرز کے صحافی عصام عبداللہ جنوبی لبنان میں کام کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔
  18. اسرائیلی فوج کی غزہ کے اندرعلاقائی سطح پر حملے شروع کرنے کی تصدیق

    اسرائیل غزہ حملے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر علاقائی سطح پر حملے شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ حملے غزہ کے علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور اس کے بنیادی ڈھانچے کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے کیے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فوجیوں نے یرغمالیوں کو ڈھونڈنے سے متعلق بعض شواہد بھی اکھٹا کیے ہیں۔

    انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ’اسرائیلی فضائیہ نے اسرائیل پر حملے کے فوراً بعد غزہ میں حماس کے ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں اور ٹینک شکن میزائلوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔

    اسرائیل کی فضائیہ نے بتایا ہے کہ آئی ڈی ایف نے غزہ کی پٹی میں علاقائی سطح پر حملے کیے ہیں تاکہ ’علاقے کو ’دہشت گردوں‘ اور ہتھیاروں سے پاک کیا جا سکے اور لاپتہ ہونے والے افراد کو تلاش کیا جا سکے۔‘

  19. امریکہ غزہ میں ’محفوظ علاقے‘ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے: انٹونی بلنکن

    امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے اب سے کچھ دیر قبل قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی کے ساتھ دوحہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    اس پریس کانفرنس کے اہم ترین نکات درجِ ذیل ہیں:

    • امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ’ہر ممکن کوشش کریں‘ اور اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ غزہ میں متعدد خاندان متاثر ہوئے ہیں اور اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔
    • انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر غزہ میں ’محفوظ علاقے‘ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
    • انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے تفصیلات آنے والے دنوں میں سامنے آ جائیں گی۔
    • انھوں نے کہا کہ غزہ میں امداد پہنچانا ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ حماس ’عام شہریوں کی آڑ میں چھپ کر اپنا تحفظ یقینی بناتا ہے۔‘
    • ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حکومت قطر کے ساتھ مل کر غزہ سے یرغمالیوں کو رہا کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔
  20. اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں آج اب تک ہونے والے واقعات کی تفصیل

    شمالی غزہ میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں:

    اسرائیل کی جانب سے 24 گھنٹوں کے اندر اپنے گھروں کو خالی کرنے کی ہدایت کے بعد لوگ غزہ کی پٹی کے جنوب کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت دونوں نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ممکنہ انسانی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ انخلا کے لیے دیے جانے والے وقت سے کچھ زیادہ لگ سکتا ہے۔ دریں اثنا حماس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس انتباہ کو نظر انداز کریں۔

    اسرائیل پر راکٹ داغے گئے:

    حماس کی جانب سے جمعہ کے روز غزہ سے جنوبی اسرائیل میں راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری رہا۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جمعہ کی صبح 150 راکٹ فائر کیے ہیں:

    عراق، اردن اور انڈونیشیا میں ہزاروں مظاہرین پہلے ہی جمع ہو چکے ہیں اور نماز جمعہ کے بعد مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ میں بھی مظاہرے ہوئے۔ یہ حماس اور حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے ریلیوں کے انعقاد کے مطالبے کے بعد کیا گیا ہے۔

    اسرائیل میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دنیا کے اکثر ممالک میں شمعیں روشن کی گئیں:

    حماس کی جانب سے گزشتہ ہفتے سنیچر کے روز سے بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں لوگ اسرائیل کی حمایت میں جلوس اور ریلیاں نکال رہے ہیں۔ 1300 سے زائد افراد کی ہلاکت پر لواحقین غم سے نڈھال ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ کی فلسطینی صدر سے ملاقات:

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے امریکہ کی غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بھی کہا کہ حماس کے حملوں کے جواب میں انھیں ’جنگ کے اصولوں کے مطابق کام کرنا ہوگا۔‘ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اس وقت مذاکرات کے لیے اسرائیل میں ہیں اور یورپی یونین کے سربراہان بھی اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔

    اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار ہیں‘: حزب اللہ

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ہمسایہ ملک لبنان کا دورہ کیا ہے اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سے ملاقات کی۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم بلاشبہ اجتماعی ردعمل کا باعث بنیں گے۔

    حال ہی میں حزب اللہ کے نائب رہنما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہیں اور بیروت کے مضافات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ’وقت آنے پر‘ مداخلت کریں گے۔