شمالی غزہ میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں:
اسرائیل کی جانب سے 24 گھنٹوں کے اندر اپنے گھروں کو خالی کرنے کی ہدایت کے بعد لوگ غزہ کی پٹی کے جنوب کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت دونوں نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ممکنہ انسانی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ انخلا کے لیے دیے جانے والے وقت سے کچھ زیادہ لگ سکتا ہے۔ دریں اثنا حماس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس انتباہ کو نظر انداز کریں۔
اسرائیل پر راکٹ داغے گئے:
حماس کی جانب سے جمعہ کے روز غزہ سے جنوبی اسرائیل میں راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری رہا۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جمعہ کی صبح 150 راکٹ فائر کیے ہیں:
عراق، اردن اور انڈونیشیا میں ہزاروں مظاہرین پہلے ہی جمع ہو چکے ہیں اور نماز جمعہ کے بعد مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ میں بھی مظاہرے ہوئے۔ یہ حماس اور حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے ریلیوں کے انعقاد کے مطالبے کے بعد کیا گیا ہے۔
اسرائیل میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دنیا کے اکثر ممالک میں شمعیں روشن کی گئیں:
حماس کی جانب سے گزشتہ ہفتے سنیچر کے روز سے بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں لوگ اسرائیل کی حمایت میں جلوس اور ریلیاں نکال رہے ہیں۔ 1300 سے زائد افراد کی ہلاکت پر لواحقین غم سے نڈھال ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کی فلسطینی صدر سے ملاقات:
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے امریکہ کی غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بھی کہا کہ حماس کے حملوں کے جواب میں انھیں ’جنگ کے اصولوں کے مطابق کام کرنا ہوگا۔‘ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اس وقت مذاکرات کے لیے اسرائیل میں ہیں اور یورپی یونین کے سربراہان بھی اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار ہیں‘: حزب اللہ
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ہمسایہ ملک لبنان کا دورہ کیا ہے اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سے ملاقات کی۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم بلاشبہ اجتماعی ردعمل کا باعث بنیں گے۔
حال ہی میں حزب اللہ کے نائب رہنما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہیں اور بیروت کے مضافات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ’وقت آنے پر‘ مداخلت کریں گے۔