بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 950 ہوگئی
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد سے اب تک کم از کم 950 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
غزہ میں انسانی ہمدردی کی ایک فلاحی تنظیم سے منسلک ڈاکٹر جستین دالبی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دن اور رات کی تفریق کے بغیر ہر جانب تباہی اور پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند روز کا ایندھن باقی رہ گیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے اپنے عملے کے 11 کارکنان ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد سے اب تک کم از کم 950 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کے غزہ میں جوابی حملے رات بھر جاری رہے ہیں گذشتہ چند گھنٹوں میں وہاں کیا صورتحال رہی اس کا مختصر خلاصہ:
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر جاری بمباری کی وجہ سے غزہ میں دو لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔
ادارے نے منگل کی رات کو ایک اپ ڈیٹ میں کہا کہ یہ ’سنہ 2014 میں 50 دنوں کی کشیدگی کے بعد سے بے گھر ہونے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے‘۔
اس تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ غزہ کی پٹی تقریبا 23 لاکھ افراد کا گھر ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی بمباری میں ایک ہزار سے زائد مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔
اس کا مزید کہنا ہےکہ بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ایک ’چیلنج‘ بنتا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن حذیفہ یزجی نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام کو بتایا کہ غزہ میں شہریوں کو ’اجتماعی سزا‘ دی جا رہی ہے۔
حذیفہ، جو ناروے کی پناہ گزین کونسل کے غزہ کے علاقے کے مینیجر ہیں، ان کا کہنا تھاکہ ’میرے لیے کسی بھی طرح سے دونوں طرف کے شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں۔ غزہ میں یہ جوابی کارروائی۔۔۔ میرے خیال میں، یہ ایک اجتماعی سزا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’میں اپنی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی ہوں اور لوگ صرف غزہ کی گلیوں میں دوڑ رہے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کہاں جانا ہے۔ کوئی امید نہیں ہے۔‘
اگرچہ غزہ کے رہائشیوں کو گذشتہ 14 سالوں میں حملوں کے کئی ادوار کا سامنا کرنا پڑا ہے ، لیکن حذیفہ کا کہنا ہے کہ وہ اس پیمانے پر کبھی نہیں ہوئے ہیں۔
’صورتحال بہت خراب ہے، یہ الفاظ سے بھی بالاتر ہے۔ غزہ میں اس وقت کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ ‘
اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ اس کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے غزہ کے علاقے الفرقان میں 200 سے زیادہ اہداف پر بمباری کی۔
ایکس پر ایک ٹویٹ میں، فوج نے اس علاقے کو ’دہشت گردی‘ کا مرکز قرار دیا جہاں سے حماس اپنے حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران الفرقان پر یہ تیسرا حملہ ہے جس کے دوران 450 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کوآرڈینیٹر نے نشاندہی کی ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کوآرڈینیٹر جوزپ بوریل نے غزہ پر مکمل ناکہ بندی کرنے کی یونین کی مخالفت کا اعلان کیا۔
بوریل نے کہا: ’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن اسے بین الاقوامی اور انسانی قانون کے مطابق حاصل کیا جانا چاہیے۔ کچھ فیصلے بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں۔‘
بوریل کے بیانات یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے فوراً بعد سامنے آئے۔
بوریل نے مزید کہا، ’کچھ اقدامات، جیسے کہ شہریوں کو بجلی اور خوراک کی سپلائی بند کرنا، بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں‘۔
وزرائے خارجہ نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ انسانی قانون کا احترام کریں۔ بوریل کے مطابق، ’اس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ میں شہری آبادی کو پانی، خوراک اور بجلی کی سپلائی بند نہ کی جائے۔‘
انھوں نے یاد دلایا کہ یورپی یونین حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے لیکن اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کی الگ حیثیت ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ’تمام فلسطینی لوگ دہشت گرد نہیں ہیں۔ لہٰذا، اجتماعی سزا غیر منصفانہ اور غیر موثر ہوگی، اور ہمارے مفادات اور امن کے مفاد کے خلاف ہوگی۔‘
غزہ پر مسلسل چوتھے روز اپنے شدید فضائی حملوں کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی بندرگاہ اور مصر کے ساتھ سرحد کی پٹی پر واقع رفح کراسنگ کو نشانہ بنایا۔
غزہ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ بیس برسوں میں ہونے والی بدترین بمباری ہے۔ حملوں کے اثرات بیان کرتے ہوئے، ہمارے نمائندے نے کہا کہ پورے محلے زمین بوس کر دیے گئے تھے۔
بی بی سی کے ساتھ ایک کال میں غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نجوا نے ان حملوں سے ہونے والے خوف کے احساسات کو بیان کیا۔
’یہ بالکل جہنم ہے۔ نیند نہیں آتی۔ شام کے وقت بمباری زیادہ تھی۔ بجلی نہیں تھی، اس لیے آپ نہیں جان سکتے کہ کیا ہو رہا ہے، وہ کہاں ہے، کیا وہ قریب ہے۔ یہ ایک مکمل ڈراؤنا خواب ہے۔‘
حماس اسرائیل پر راکٹ برسانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپنے تازہ حملوں میں، اس نے ملک کے جنوب میں ساحلی شہر عشکلان کو نشانہ بنایا۔
شہر کے ایک رہائشی سیگل نے بی بی سی کو بتایا کہ سائرن نو بار بجے۔
انھوں نے مزید کہا، ’پانچ بجے (مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام) سے ہم نے ہر بیس منٹ، یا آدھے گھنٹے یا اس طرح کی کوئی چیز سنی، پھر ہم پناہ گاہوں کی طرف بھاگے۔ اور آج رات میں اس پناہ گاہ میں سونے جاؤں گا جہاں میری بیٹی پہلے دن سے سو رہی ہے، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ حماس وہی کرے گا جس کی اس نے دھمکی دی تھی۔‘
کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی نے کہا ہے کہ ملک کینیڈا کی مسلح افواج کی مدد سے اپنے شہریوں اور رہائشیوں کو تل ابیب سے باہر نکالنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
جولی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ پروازیں کینیڈین شہریوں اور ان کے بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ کینیڈا کے مستقل رہائشیوں، اور ان کے بیوی بچوں کے لیے بھی دستیاب ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا’ہم ان لوگوں کے لیے اضافی آپشنز پر بھی کام کر رہے ہیں جو تل ابیب کے ہوائی اڈے تک نہیں پہنچ سکتے۔‘
گلوبل افیئرز کینیڈا نے کہا ہے کہ اسرائیل میں 3200 سے زائد کینیڈین، غزہ اور مغربی کنارے میں 500 کے قریب کینیڈین محکمے کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تازہ حملوں کے دوران دو کینیڈین شہری ہلاک اور دو لاپتہ ہوئے ہیں۔
امریکہ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا وہ امریکیوں کو نکالنے کے لیے اپنا مشن بھی چلائے گا یا نہیں، لیکن امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی میں بیٹھے رپبلکن ایوان نمائندگان کے نمائندے مائیک لالر نے سی این این کو بتایا کہ وہ اس طرح کے آپریشن کی حمایت کریں گے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی قوم سے اپنا خطاب ان الفاظ سے کیا کہ اسرائیل پر ’یہ حملے سراسر شیطانی عمل ہے‘۔
صدر بائیڈن نے حماس کو خون کا پیاسا قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ اسرائیل میں دیکھنے میں آیا ہے اس نے داعش جیسی تنظیموں کے بدترین مظالم کی یاد تازہ کر دی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد اسرائیلیوں کو قتل کیا گیا جن میں 14 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ انھوں نے اسرائیل کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ حماس کو فلسطین کے عوام سے کوئی غرض نہیں ہے، وہ فلسطینی عوام کو ’ہیومن شیلڈ‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ یہودیوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں نے گذشتہ صدی کے دوران رونما ہونے والے یہود دشمن واقعات کی دکھ بھری یادیں تازہ کر دی ہیں۔
امریکی صدر نے اس خطے سے آنے والی کچھ خبریں بہت المناک ہیں۔ ان واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو وہ سب کچھ ملے جو ان حملوں کے جواب کے لیے اسے چاہیے۔
Social embed from twitter
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید ہم آپ کو دن بھر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ غزہ اسرائیل تنازع کی تک کی خبریں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں