غزہ انرجی اتھارٹی کے سربراہ جلال اسماعیل نے کہا ہے کہ غزہ کو بجلی کی فراہمی کا واحد ذریعہ یعنی علاقے کا بجلی گھر ایندھن کی قلت کی وجہ سے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی دوپہر کام کرنا بند کر دے گا۔
اس سے قبل فلسطینی
انرجی اتھارٹی کے سربراہ تھافر میلہیم نے وائس آف فلسطین ریڈیو کو بتایا تھا کہ غزہ
کا پاور پلانٹ اس وقت وہاں بجلی کا واحد ذریعہ ہے اور اس کا ایندھن 10 سے 12
گھنٹوں میں ختم ہوجائے گا۔
اسرائیل نے ’مکمل محاصرے‘ کا اعلان کرتے ہوئے پیر کو
غزہ کو بجلی کی فراہمی منقطع کر دی تھی۔ اسرائیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’خوراک، ایندھن اور پانی کی فراہمی میں بھی کٹوتی کی جائے گی۔‘
غزہ حماس
کے زیر انتظام ہے اور اسرائیل اس چیز کو پابند کرتا ہے کہ غزہ کے لیے کیا کیا
سامان جائے گا۔
تازہ ترین
جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی غزہ کے تقریبا 80 فیصد لوگ امداد پر انحصار کرتے تھے۔
فلسطینی
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے بدھ کو کہا تھا کہ سنچر سے تقریبا
پانچ لاکھ افراد کو راشن نہیں ملا ہے۔