آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

غزہ کے ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند روز کا ایندھن باقی، اقوام متحدہ نے عملے کے 11 کارکن ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی

غزہ میں انسانی ہمدردی کی ایک فلاحی تنظیم سے منسلک ڈاکٹر جستین دالبی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دن اور رات کی تفریق کے بغیر ہر جانب تباہی اور پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند روز کا ایندھن باقی رہ گیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے اپنے عملے کے 11 کارکنان ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, غزہ کے واحد بجلی گھر میں ایندھن ختم ہو گیا، بجلی کی فراہم معطل

    غزہ کے واحد بجلی گھر میں ایندھن ختم ہونے کے بعد علاقے کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

    سنیچر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر کے اس کی بجلی، ایندھن، خوراک، سامان اور پانی کی سپلائی پر بندشیں لگا دی تھیں۔

    اس کا مطلب ہے کہ غزہ کے لوگ اب بجلی کے لیے جنریٹرز پر انحصار کریں گے اور وہ بھی اس صورت میں اگر انھیں چلانے کے لیے ایندھن میسر ہو۔

  2. بریکنگ, غزہ پر اسرائیلی حملے: تازہ ترین صورتحال

    • غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے علاقے کے واحد بجلی گھر ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے آج بند ہو جائے گا۔
    • اس ہفتے کے شروع میں اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کو بجلی، ایندھن اور پانی کی فراہمی بند کر رہا ہے۔
    • اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے جاری ہیں اور شمالی غزہ کے باشندے سکولوں اور ہسپتالوں میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔
    • شمالی اور جنوبی اسرائیلی میں بدھ کو فضائی حملوں کے سائرن سنے گئے ہیں جبکہ عسقلان میں غزہ سے داغا گیا راکٹ گرنے سے دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
    • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی سرحد کے قریب فوج جمع کر لی ہے، جن میں تین لاکھ رضاکار بھی شامل ہیں۔
    • اسرائیل میں حماس کے سنیچر کو ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1,200 تک پہنچ گئی ہے جبکہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • اسرائیل نے بدھ کو حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے جواب میں لبنانی سرزمین پر بھی فضائی حملہ اور گولہ باری کی ہے۔
  3. غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    جیسا کہ ہم نے پہلے اطلاع دی، غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں 1,055 افراد ہلاک اور 5,184 زخمی ہو چکے ہیں۔

    وزارتِ صحت نے منگل کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 260 بچے اور 230 خواتین شامل ہیں۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ حملوں میں چھ طبی اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوئے جبکہ آٹھ صحافی بھی مارے گئے۔

    فلسطین میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کا کہنا ہے کہ سنیچر کے بعد سے غزہ میں اس کے عملے کے نو ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔

    صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی ان صحافیوں کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہے جو اسرائیل اور غزہ میں ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہوئے ہیں۔ ابھی تک تنظیم نے غزہ میں ہلاک ہونے والے سات افراد کی فہرست جاری کی ہے۔

  4. عسقلان میں راکٹ کے حملے میں دو اسرائیلی زخمی

    جنوبی اسرائیل کے شہر عسقلان میں طبی کارکنوں کا کہنا ہے کہ راکٹ گرنے سے زخمی ہونے والے دو افراد کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

    بدھ کی صبح سے غزہ سے ممکنہ راکٹ حملوں کے بارے میں خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے جا رہے تھے۔

    طبی امداد فراہم کرنے والے کارکنوں کے مطابق 60 سالہ مرد اور 40 سالہ خاتون چھرّوں سے زخمی ہوئے ہیں۔

    کچھ گھنٹے پہلے، سدیروت کے علاقے میں بھی ایک 40 سالہ شخص کو ایسے ہی زخموں کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔

  5. ’ہم ان لوگوں کو انسان نہیں کہہ سکتے‘

    اسرائیل میں، میناشے اور میرو رام نے منگل کو اپنے 28 سالہ بیٹے عمری کی آخری رسومات ادا کیں، جنھیں سنیچر کو سوپرنووا میوزک فیسٹیول میں حماس کے عسکریت پسندوں نے ہلاک کر دیا تھا۔

    سنیچر کو جب حماس نے اسرائیل پر راکٹ داغنا شروع کیے تو عمری نے اپنے والدین کو فون کر کے حملے کے بارے میں بتایا۔ دوسری فون کال میں اان کا کہنا تھا ’ابا، یہ زیادہ سنگین صورتحال ہے۔ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔‘

    میناشے نے کہا کہ عمری گاڑی میں بیٹھ کر محفوظ مقام کی طرف جانے والا تھا لیکن پھر کنکشن کمزور ہو گیا اور ان کا رابطہ ٹوٹ گیا۔

    ٹو ڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ایسا لگا جیسے کچھ ہو رہا ہے۔ میں نے میرو سے کہا کہ کچھ برا ہوا ہے۔‘

    حملہ آوروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے میناشے نے کہا: ’مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہم اس قسم کے لوگوں کو انسان کہہ سکتے ہیں۔ انسان ایسے لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ اس قسم کے کام نہیں کرتے جو صرف جشن منانا چاہتے تھے۔ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔‘

  6. بریکنگ, ’غزہ کے ہسپتال پناہ گزین کیمپ بن چکے ہیں‘

    فلسطینی نژاد برطانوی ڈاکٹر غسان ابو سیتا کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جس ہسپتال میں کام کر رہے ہیں وہ ایک پناہ گزین کیمپ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’لوگ خوفزدہ ہیں اور اس لیے وہ اپنے اہلخانہ کو ایک محفوظ جگہ کے طور پر ہسپتال کے احاطے میں رہنے کے لیے لا رہے ہیں‘۔

    ڈاکٹر غسان نے کہا کہ ’زخمیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ‘ ہے، لیکن ان کا ہسپتال پہلے سے ہی غزہ کے دیگر ہسپتالوں کی طرح اپنی مکمل صلاحیت پر کام کر رہا تھا۔

    ابو سیتا نے یہ بھی کہا، ’غزہ میں تقریباً 2200، 2500 بستر ہیں اور ہمارے پاس پہلے ہی 4500 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔‘

  7. بریکنگ, ’غزہ میں ہلاکتیں ایک ہزار سے زیادہ، پانچ ہزار زخمیوں میں 60 فیصد خواتین اور بچے ہیں‘

    فلسطینی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق سنیچر سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1055 تک پہنچ گئی ہے۔

    وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 5100 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہیں جن میں سے تقریباً 60 فیصد عورتیں اور بچے ہیں۔

  8. سدیروت سے لاشیں نکالنے کا عمل چار دن بعد بھی جاری

    حماس کی جانب سے حملے کے چار دن بعد بھی اسرائیلی شہر سدیروت سے لاشیں نکالنے کا عمل جاری ہے۔

    ان تصاویر میں کارکنوں کو ایک تباہ شدہ پولیس سٹیشن کے قریب کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس مقام پر اسرائیلی اہلکاروں اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی تھی۔

    اسرائیل میں حماس کے ’طوفان الاقصی‘ آپریشن کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 2700 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

  9. ’سرحدی چوکی پر میزائل حملے کے جواب میں اسرائیل کی لبنانی علاقوں پر گولہ باری‘

    لبنان کی حدود سے اسرائیل کی سرحدی فوجی چوکی پر میزائل حملے کے بعد اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ وہ لبنانی علاقے پر جوابی حملہ کر رہی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے لبنانی حدود میں حزب اللہ کی ان نگہبان چوکی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    بدھ کی صبح ہونے والے اس میزائل حملے کی ذمہ داری حزب اللہ نے قبول کی تھی۔ حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے اسرائیلی فوج سے جھڑپ میں اپنے تین جنگجوؤں کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیلی چوکی پر دو میزائل داغے تھے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں دو علاقوں پر اسرائیل کی جانب سے گولہ باری کی جا رہی ہے۔

    لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’دہیرا کے اردگرد کے علاقے پر دشمن کے توپخانے سے گولہ باری کی جا رہی ہے جبکہ یارین کے علاقے کو فاسفورس کے گولوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے‘۔

  10. غزہ کے خوفزدہ شہری، زمین بوس عمارتیں اور ویران بازار: ’آسمان سے موت برس رہی ہو تو آپ کہاں چھپ سکتے ہیں؟‘

  11. حماس کے حملوں کے بعد ہلاک یا لاپتہ برطانوی شہریوں کی تعداد 17 ہے

    بی بی سی کو برطانیہ کے سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ سنیچر کو اسرائیلی علاقوں پر حماس کے حملوں کے بعد اب تک 17 برطانوی شہریوں کی ہلاکت یا لاپتہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ دس سے زیادہ برطانوی شہری ہلاک یا لاپتہ ہیں۔

  12. غزہ: ’بمباری سے پورا محلہ تباہ، لوگ بجلی، پانی اور خوراک سے محروم‘, رشدی ابو الوف، عزہ

    غزہ شہر کے شمالی حصے میں منگل کی رات حالات کی سنگینی میں اضافہ ہوا۔

    مقامی حکام کے مطابق، سینکڑوں فضائی حملوں نے ایک پورے محلے کو تباہ کر دیا۔ ان حملوں میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ ہم ابھی تک اس علاقے تک نہیں پہنچ سکے، لیکن ہم اپنی چھت سے اس مقام کو دیکھ رہے ہیں، جہاں رات کو مسلسل فضائی حملے کیے گئے۔

    ہم نے سینکڑوں لوگوں کو شہر کے جنوبی علاقوں کی طرف پیدل جاتے ہوئے دیکھا، جو ان کے خیال میں نسبتاً زیادہ محفوظ ہے۔ اقوام متحدہ دو لاکھ بےگھر افراد کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تعداد غزہ کی پٹی کی کل آبادی کا تقریبا 10 فیصد ہے۔

    غزہ میں لوگ بجلی، پانی اور خوراک سے محروم ہیں۔ وہ بیکریوں کے سامنے قطاروں میں کھڑے ہیں جہاں سے انھیں کم مقدار میں کھانا ملتا ہے۔ بینک معمولی رقم دے رہے ہیں، اور پٹرول سٹیشنوں پر بھی ایندھن کی راشننگ ہو رہی ہے۔

    وزیر صحت نے کہا ہے کہ علاقے کے تمام طبی مراکز اور ہسپتالوں میں 24 گھنٹوں میں ادویات ختم ہو جائیں گی۔

  13. غزہ کے قریب واقع اسرائیلی شہر سدیروت کے رہائشیوں میں 27 ہزار ہتھیار تقسیم

    اسرائیل کی قومی سلامتی کے وزیر نے کہا ہے کہ سنیچر کو حماس کے حملے کے بعد سے غزہ کی سرحد کے قریب واقع اسرائیلی شہر سدیروت کے رہائشیوں میں 27 ہزار ہتھیار تقسیم کیے گئے ہیں۔

    قومی سلامتی کے وزیر بین گویر کے مطابق ’سنیچر کی صبح سے، ہم نے اسرائیلیوں میں 27,000 ہتھیار تقسیم کیے ہیں، اور ہم ہتھیاروں کی تقسیم کا عمل جاری رکھیں گے۔"

    وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سدیروت میں رہنے والا ہر شخص بغیر استثنا کے ہتھیار رکھنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے‘۔

    خیال رہے کہ سدیروت ان شہروں میں شامل ہے جسے حماس نے سنیچر کی صبح اپنے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے دوران نشانہ بنایا تھا۔

  14. ’اسرائیل کی قسام بریگیڈز کے چیف آف سٹاف محمد الدیف کے والد کے گھر پر بمباری‘

    فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے عزالدین القسام بریگیڈز کے چیف آف سٹاف محمد الدیف کے والد کے گھر پر بمباری کی ہے۔

    اس حملے کے نتیجے میں الدیف کے بھائی اور ان کے خاندان کے تین افراد مارے گئے۔

    غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح اسرائیلی حملے میں مزید 50 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

    وزارت صحت کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں طبی عملے، صحت کے اداروں اور ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے ان کے کام کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔

  15. فضائی بمباری کے بعد اسرائیل کا غزہ کو نشانہ بنانے کے لیے زمینی راکٹ لانچرز کا استعمال

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کو نشانہ بنانے کے لیے طیاروں کے علاوہ زمین سے داغے جانے والے راکٹ بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    فوجی ترجمان ڈینیئل ہگاری کا کہنا ہے کہ 2006 کی لڑائی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حملوں کے لیے یہ راکٹ استعمال کیے ہیں۔

  16. ’غزہ کے لیے صرف تین گھنٹے کی بجلی باقی رہ گئی‘

    غزہ انرجی اتھارٹی کے سربراہ جلال اسماعیل نے کہا ہے کہ غزہ کو بجلی کی فراہمی کا واحد ذریعہ یعنی علاقے کا بجلی گھر ایندھن کی قلت کی وجہ سے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی دوپہر کام کرنا بند کر دے گا۔

    اس سے قبل فلسطینی انرجی اتھارٹی کے سربراہ تھافر میلہیم نے وائس آف فلسطین ریڈیو کو بتایا تھا کہ غزہ کا پاور پلانٹ اس وقت وہاں بجلی کا واحد ذریعہ ہے اور اس کا ایندھن 10 سے 12 گھنٹوں میں ختم ہوجائے گا۔

    اسرائیل نے ’مکمل محاصرے‘ کا اعلان کرتے ہوئے پیر کو غزہ کو بجلی کی فراہمی منقطع کر دی تھی۔ اسرائیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’خوراک، ایندھن اور پانی کی فراہمی میں بھی کٹوتی کی جائے گی۔‘

    غزہ حماس کے زیر انتظام ہے اور اسرائیل اس چیز کو پابند کرتا ہے کہ غزہ کے لیے کیا کیا سامان جائے گا۔

    تازہ ترین جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی غزہ کے تقریبا 80 فیصد لوگ امداد پر انحصار کرتے تھے۔

    فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے بدھ کو کہا تھا کہ سنچر سے تقریبا پانچ لاکھ افراد کو راشن نہیں ملا ہے۔

  17. گذشتہ رات کی بمباری کے بعد غزہ سے ملنے والی تازہ تصاویر

  18. گزشتہ روز سرحد پار کرنے والے حماس کے اٹھارہ افراد مارے گئے: آئی ڈی ایف

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے حملوں کے بعد سے اس کے علاقے سے 1500 عسکریت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں اور کہا ہے کہ اب غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد محفوظ ہے۔

    تاہم اسرائیل میں حماس کے عسکریت پسندوں کے لیے اب بھی ’سویپ‘ چیکنگ جاری ہے۔

    آئی ڈی ایف کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے آج صبح بتایا کہ گذشتہ روز یعنی منگل کو اسرائیلی فورسز نے 18 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہی دہشت گرد ہیں جو غزہ واپس نہیں گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں فوجی تلاشی لے رہے ہیں۔‘

  19. بریکنگ, لڑائی میں شدت آئے گی، تین لاکھ ریزرو فوج غزہ کی سرحد پر بھجوا دی گئی: اسرائیلی ڈیفینس فورسز

    اسرائیل اور غزہ دونوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے میں اسرائیلی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ’لڑائی میں شدت آئے گی‘ ۔

    ترجمان لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) جوناتھن کونریکس نے ایک ویڈیو اپ ڈیٹ میں کہا ’ہمیں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم، یہ ہمیں نہیں روکے گا اور یہ ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے کہ لڑائی میں شدت آنے کے بعد بھی اسرائیل کی حمایت جاری رہے گی۔

    انھوں نے کہا، ’ہم امید کرتے ہیں کہ لڑائی شدت اختیار کرنے اور غزہ کی پٹی سے نکلنے والے مناظر کو سمجھنا اور ان سے نمٹنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔‘

    اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے غزہ کے ارد گرد کی رکاوٹوں کو دوبارہ تعمیر کیا ہے۔

    غزہ کی سرحد کے قریب ’پیادہ فوج، بکتر بند فوجی، توپ خانے کی کور‘ اور 300،000 ریزرو اہلکار بھی بھیجے ہیں۔

  20. اسرائیل کے قریب امریکی طیارہ بردار جہاز کی موجودگی غزہ میں قتلِ عام کا باعث بنے گا: طیب اردوغان

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے غزہ میں ’سنگین قتل عام‘ ہو گا۔

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اتوار کو اسرائیل کی حمایت کا وعدہ کیا اور کہا کہ امریکہ اپنے طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو اسرائیل کے قریب لے جائے گا۔

    اردوغان نے پوچھا، ’امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اسرائیل کے قریب کیا کرے گا اور وہ کیوں آئے گا؟ اس پر سوار کشتیاں اور طیارے کیا کریں گے؟ وہ غزہ اور اس کے ماحول پر حملہ کریں گے اور وہاں سنگین قتل عام کے لیے اقدامات کریں گے؟‘

    اردوغان نے اس سے قبل اسرائیل اور فلسطینی افواج کے درمیان امن کو یقینی بنانے کے لیے ثالثی کے لیے اپنے ملک کی آمادگی پیش کی تھی۔