اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ حماس نے بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجیوں اور عام شہریوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ فوج کے مطابق یرغمال بنائے جانے والوں میں بچے، خواتین، معمر افراد اور معذور بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ یہ شبہ ہے یرغمال بنائے گئے شہریوں میں سے کچھ مار دیے گئے ہیں جبکہ کچھ ابھی زندہ ہیں۔
ان کے مطابق یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ جس کے بارے میں ابھی تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ چیز جنگ کے مسقبل کے خدوخال کو طے کرے گی۔
حماس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے اسرائیلیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور انھیں غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ حماس ان اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور اسرائیل ہر اس فریق کے خلاف برابر کی کارروائی کرے گا جس اسے نقصان پہنچائے گا۔
فوٹیج میں اسرائیلیوں کو گھروں نکال کر لے جایا جا رہا ہے
اس وقت آن لائن متعدد فوٹیجز وائرل ہیں جن میں اسرائیلی شہریوں کو حماس کی حراست میں دکھایا گیا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک بھرا ٹرک غزہ میں رش والی جگہ سے گزر رہا ہے، جن کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ وہ اسرائیلی شہری ہیں جنھیں حماس نے یرغمال بنا لیا تھا۔
غزہ کی پٹی میں ایک اور ویڈیو میں ایک ننگے پاؤں والی خاتون کو دکھایا گیا ہے جنھیں ٹرک کے پیچھے سے گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس خاتون کے خون آلود ہاتھ ان کی پشت پر باندھے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی جوڑے کو پارٹی سے حراست میں لیا گیا
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس نے کچھ اسرائیلیوں کو ’آؤٹ ڈور‘ پارٹیوں یعنی گھر سے باہر عوامی مقام ’کبوتز ریم‘ سے حراست میں لیا ہے۔ یہ اوفاکریم شہر کا مضافاتی علاقہ ہے جو غزہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔
عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر آنے والے حملہ آوروں نے پارٹی میں شریک افراد پر فائرنگ شروع کر دی، جن میں سے اکثر افراد ابھی لاپتہ ہیں۔
بی بی سی نے ایک ایسی ہی سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھی، بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے، جس میں پارٹی میں شریک ایک خاتون کو اغوا کر کے دو آدمی موٹرسائیکل پر لے جا رہے ہیں۔
ان خاتون کی شناخت ان کے شریک حیات کے بھائی ’موشے اور‘ نے ایک اسرائیلی خاتون نوحہ ارغمانی کے طور پر کرائی ہے۔
جب انھوں نے ویڈیو نے دیکھی تھی تو انھوں نے اپنے بھائی اور بھابھی کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی مگر بعد میں انھوں نے یہ ویڈیو میں دیکھ لیا کہ انھیں کئی عسکریت پسند اغوا کر کے لے جا رہے ہیں۔
اس خاتون کے دیور نے اسرائیلی چینل 12 کو انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے نوحہ کو ویڈیو میں دیکھا جو خوفزدہ اور ڈری ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کے ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے مگر وہ موٹرسائیکل پر خوف سے چلا رہی ہیں۔
بعد میں آنے والی ایک اور ویڈیو میں، جس کی بی بی سی تصدیق نہیں کر سکا ہے، میں اس خاتون کو غزہ کے ایک ایک کمرے میں پانی پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
غزہ کی پٹی کے باہر کے علاقے میں اسرائیل کی فوج نے کچھ اسرائیلی شہریوں کو آزاد کروایا ہے، جنھیں پہلے مغوی بنا لیا گیا تھا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل کے مطابق کبوتز میں ایک کمرے سے 18 گھنٹوں بعد بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس کمرے میں 50 تک شہریوں کو رکھا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایلا نامی ایک خاتون نے کہا ہے کہ انھیں اس قصبے میں فائرنگ کے نرغے میں کئی گھنٹوں تک محصور رکھا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس دوران ہمیں کئی گن فائر کی آوازیں آئیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ ’دہشتگرد‘ کھانے کے روم میں ہیں، ہمیں بہت زیادہ گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘
ان کے مطابق ’میرا اپنے خاندان سے رابطہ کٹ کر رہ گیا۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے والد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔۔۔۔ ہمیں صورتحال کے بارے میں کوئی آگاہ کرنے والا نہیں۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری ماں زندہ ہے یا نہیں۔‘
ایک ویڈیو جس کی بی بی سی نے تصدیق کی ہے میں اسرائیل کے ’بیری‘ قصبے میں عسکریت پسند کچھ لوگوں کو ننگے پاؤں لے کر جا رہے ہیں۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھیں ڈائننگ روم سے اغوا کیا گیا تھا۔
اسرائیل کے سرکاری چینل ’کان‘ کے مطابق عسکریت پسندوں کی جانب سے اغوا کیے گیے اوفاکم میں دو مغوی اسرائیلی شہریوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بندوقوں والے افراد شہر میں داخل ہوئے اور شہریوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ جب شہر میں الارم بجنے کے باعث ’بمب شیلٹرز‘ کی طرف بھاگ نکلے۔
دو شہری اپارٹمنٹ پر ہی ٹھہر گئے، جہاں چار عسکریت پسندوں نے انھیں یرغمال بنا لیا۔ ان عسکریت پسندوں کو بعد میں اسرائیلی فوج نے قتل کر دیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اس ریسکیو آپریشن میں اسرائیلی فوج معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔