انڈین ریاست مہاراشٹرا میں 15 جون تک لاک ڈاؤن، تیسری لہر میں بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ
انڈیا کی ریاست مہارشٹرا میں 15 جون تک لاک ڈاؤن بڑھا دیا گیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ نے وبا کی تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ 31 مئی یعنی آج بروز سوموار سے صوبے بھر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔
لائیو کوریج
آئی پی ایل کے باقی میچز ستمبر میں متحدہ عرب امارات میں ہوں گے
،تصویر کا ذریعہBCCI
انڈین پریمیئر لیگ کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے باقی ماندہ میچز ستمبر اور اکتوبر میں منعقد کروائے جائیں گے۔
آئی پی ایل کو رواں ماہ مئی میں متعدد کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ملتوری کر دیا گیا تھا۔
اس سیزن کے 31 مزید میچز کا انعقاد اب بھی رہتا ہے اور یہ میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے جائیں گے۔
واضح رہے کہ انڈیا میں سنیچر کو کورونا وائرس کے ایک لاکھ 73 ہزار 790 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ 45 دن کی کم ترین یومیہ شرح ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں یہاں 3617 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
دوسری جانب دلی میں نئے متاثرین کی تعداد اپریل میں 25 ہزار کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد اب بتدریج کم ہوتے ہوتے یومیہ ایک ہزار سے نیچے آ گئی ہے جس کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا: کورونا کے باعث ایک اور ڈاکٹر کی ہلاکت
،تصویر کا ذریعہYoung Doctors Association
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں کووڈ سے ایک مزید ڈاکٹر کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈاکٹر عالیہ مختیار کورونا کا شکار ہو کر گذشتہ دو مہینوں سے نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال پشاور میں زیر علاج تھیں۔
ڈاکٹر عالیہ مختیار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اُنھوں نے 1994 میں خیبر میڈیکل کالج پشاور سے ایم بی بی ایس کیا تھا۔
اب تک خیبر پختونخوا میں کورونا کے باعث 68 ڈاکٹر اور طبی عملے کے 106 اراکین وفات پا چکے ہیں۔
اگر ویکسین کی دوسری خوراک کے لیے پیغام موصول نہ ہو تو؟
،تصویر کا ذریعہEPA
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے عوام کے اس خدشے کا جواب دیا ہے کہ اگر اُنھیں پہلی مرتبہ ویکسین لگنے کے بعد دوسری خوراک کے لیے سسٹم سے پیغام نہ آئے تو کیا کریں۔
اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طریقہ کار یہ ہے کہ پہلی مرتبہ جب ڈیٹا ڈالتے ہیں تو ایک کوڈ آ جاتا ہے مگر کبھی کبھی سسٹم میں مسائل کی وجہ سے کوڈ نہیں موصول ہوتا۔
اُنھوں نے کہا کہ ویسے تو دوسری خوراک کا پیغام خودکار انداز میں آ جانا اچہیے پر اگر اس کے باوجود بھی 21 دن بعد بھی آپ کو کوڈ نہ ملے تو آپ دوبارہ 1166 پر میسج کریں۔
حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ کوڈ کے بغیر کسی شخص کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی اور یوں مذکورہ شخص کا ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ نہیں بن سکے گا۔
انڈیا میں نئے متاثرین کی شرح 45 روز کی کم ترین سطح پر
،تصویر کا ذریعہepa
انڈیا میں سنیچر کو کورونا وائرس کے ایک لاکھ 73 ہزار 790 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ 45 دن کی کم ترین یومیہ شرح ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں یہاں 3617 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں دو کروڑ 77 لاکھ 29 ہزار 247 افراد متاثر جبکہ تین لاکھ 22 ہزار 512 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں کورونا سے 73 مزید اموات، مثبت ٹیسٹس کی شرح 4.4 فیصد
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 2455 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اس مرض کے باعث 73 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دورن 55 ہزار 442 ٹیسٹ کیے گئے جس کی وجہ سے مثبت ٹیسٹس کی شرح 4.42 فیصد رہی ہے۔
پاکستان میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کووڈ کے باعث 20 ہزار 680 اموات ہو چکی ہیں۔
کورونا سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 2136 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں اور صحتیاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد آٹھ لاکھ 36 ہزار 702 ہو گئی ہے۔
کووڈ کی نئی انڈین قسم کیا ہے اور کیا ویکسینز اس کے خلاف مؤثر ہوں گی؟
انڈیا میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے بارے میں دنیا بھر کے سائنسدان تحقیق کر رہے ہیں لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کتنا زیادہ پھیل چکا ہے اور کیا یہی درحقیقت انڈیا میں دوسری لہر پھیلانے کا موجب بنا ہے۔
انڈین قسم کیا ہے؟
وائرس اپنی ہیت ہر وقت تبدیل کر رہے ہوتے ہیں اور اس میں ایسی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ان تبدیلیوں میں سے زیادہ تر معمولی ہوتی ہیں اور کئی تو ایسی ہوتی ہیں جن کے باعث وائرس مزید غیر موثر ہو جاتا ہے، لیکن دوسری جانب کچھ تبدیلیاں ایسی ہوتی ہیں جو وائرس کو زیادہ وبائی بناتی ہیں اور ویکسین کے ذریعے انھیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
باضابطہ طور پر کورونا وائرس کی اس قسم کو B1617 کہا جاتا ہے اور گذشتہ برس اکتوبر میں اس کی دریافت ہوئی تھی۔
وائرس کی یہ قسم کتنی پھیل چکی ہے؟
انڈیا میں نمونوں کی جانچ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہی جس کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ قسم کتنی پھیل چکی ہے۔
رواں برس ریاست مہاراشٹرا میں جنوری سے مارچ کے دوران 361 نمونوں میں سے 220 نمونوں میں انڈین قسم کی تشخیص ہوئی تھی۔
دوسری جانب صحت کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ایک عالمی ادارے جی آئی ایس اے آئی ڈی کے مطابق یہ قسم اب تک دنیا کے 21 ممالک میں شناخت ہو چکی ہے۔
خدشہ ہے کہ بین الاقوامی مسافروں کی وجہ سے وائرس کی یہ قسم برطانیہ پہنچی ہے جہاں 21 فروری کے بعد سے اب تک کم از کم 103 متاثرین کی شناخت ہوئی ہے جو کورونا کی انڈین قسم سے متاثر ہوئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار سوتک بسواس نے گذشتہ ماہ اس حوالے سے ایک تحریر لکھی تھی۔
کووڈ بی ون سِکس، ون سیون: کیا پاکستان کورونا وائرس کی انڈین قسم سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟
،تصویر کا ذریعہEPA
اب سے کچھ دیر قبل پاکستان میں کووڈ کی بی ون سِکس ون سیون قسم یا وائرس کی انڈین قسم کی شناخت کر لی گئی ہے۔
اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر کووڈ وبا کی انڈین قسم پاکستان پہنچی ہے تو اس بارے میں کیا اقدامات کیے گئے ہیں، کیا یہ اقدامات کافی ہیں، اور آیا سفری پابندیوں سے وبا کا ملک میں داخلہ روکا جاسکتا ہے؟
اس حوالے سے پاکستان جینوم سیکوئنسنگ کس حد تک کر رہا ہے اور کیا اس مخصوص سے متعلق ہمیں مختلف اقدامات اٹھانا ہوں گے؟
اس حوالے سے ہماری نامہ نگار سحر بلوچ نے گذشتہ ہفتے اپنی تحریر میں ان ہی سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی تھی۔
بریکنگ, کووڈ بی ون سِکس، ون سیون: پاکستان میں وائرس کی انڈین قسم کے پہلے کیس کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کووڈ کی بی ون سِکس ون سیون قسم یا وائرس کی انڈین قسم کی شناخت کر لی گئی ہے۔
وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ یعنی این آئی ایچ کی جانب سے اس حوالے سے چانچ کے لیے ہر ہفتے سروے کیا جاتا ہے، جس میں اس بار تصدیق ہوئی ہے کہ پاکستان میں انڈین ویریئنٹ کا پہلا کیس آچکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید معلومات جیسے کہ متاثرہ شخص عمر اور سفر کرنے سے متعلق تفصیلات بہت جلد بتا دی جائیں گی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اس سے قبل وائرس کی جنوبی افریقی اور برطانوی قسم کی شناخت کی جا چکی ہے اور فیصل سلطان اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہہ چکے ہیں پاکستان میں کووڈ کی تیسری لہر کی وجہ وائرس کی برطانوی قسم بنی تھی۔
انڈیا میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے بارے میں دنیا بھر کے سائنسدان تحقیق کر رہے ہیں لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کتنا زیادہ پھیل چکا ہے اور کیا یہی درحقیقت انڈیا میں دوسری لہر پھیلانے کا موجب بنا ہے۔
یعنی اس وقت انڈیا میں اس قسم کا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہاں کی حکومت کے لیے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جسے سلجھانے کے لیے وہ تمام تر اقدامات کر رہے ہیں۔
برطانیہ کی اگر مثال لیں، تو وہاں پر کووڈ کی یہ نئی قسم پھیلنے کے بعد تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ یہ وہاں پر پہلے سے موجود کووڈ کی مختلف اقسام کو برطرف کر رہا ہے اور ہفتوں کے دوران دو گنا زیادہ افراد کو متاثر کررہا ہے۔
لوگ ویکسین کیوں نہیں لگواتے؟
کیا کورونا کی ویکسین لگوانے میں آپ کو کوئی ہچکچاہٹ ہے؟
پاکستان کی لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر کورونا ویکسین سے متعلق لوگوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کووڈ 19: انڈیا میں کووڈ کے مریضوں کو نابینا کرنے والا بلیگ فنگس ’میوکورمائیکوسز‘ کتنا خطرناک ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں دشواری پیش آ رہی ہے لیکن اسی دوران فنگس کا ایک نایاب اورخطرناک انفیکشن بھی کورونا کے کچھ مریضوں کو متاثر کر رہا ہے۔
فنگس کی میوکورمائیکوسز نامی قسم کورونا سے متاثرہ یا صحتیاب ہونے والے افراد میں مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
انڈیا میں کورونا کے بعض متاثرین میوکورمائیکوسز سے متاثر ہوئے ہیں جسے ’بلیک فنگس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایسے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں جو کووڈ سے صحتیاب ہو رہے تھے۔
رواں سال مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں میوکورمائیکوسز سے جڑے کووڈ سے 41 کیس سامنے آئے۔ ان میں سے 70 فیصد کی تعداد انڈیا میں تھی۔
پاکستان میں اساتذہ کے لیے بھی واک ان ویکسینیشن کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اساتذہ اپنے شناختی کارڈ اور اپنے ادارے/سکول کے سربراہ کی جانب سے لیٹر یا اپنے کارڈ کے ساتھ جا کر کسی بھی ویکسینیشن سینٹر سے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا سے مزید 26 اموات
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا سے مزید 26 اموات ہوئی جس کے بعد صوبے میں اب تک وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 9925 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعدودوشمار کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے 702 نئے کیس بھی سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 337,775 ہو گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں کورونا کے مزید 20,903 ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں۔
صوبے میں اب تک کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 307,716 ہو چکی ہے۔
’پاکستان میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’آپ بھی جلد رجسٹر کریں اور ویکسین لگوائیں تاکہ ہم بندشیں مزید کم کر سکیں اور پاکستان کی ترقی کا سفر تیز تر ہو اور آپ اپنی زندگی آزادی کے ساتھ کورونا کے خوف کے بغیر گزار سکیں۔‘
اپنی ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کے آج کے اجلاس میں کل سے 30 برس کی عمر سے زائد افراد کے لیے واک ان ویکسینشین شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
انھوں نے لکھا: ’اگر آپ کی عمر 30 برس یا اس سے زیادہ ہے اور آپ رجسٹر ہیں تو کسی بھی ویکسینیشن سینٹر جائیں اور ویکسین لگوا لیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
ویکسینیشن کا عمل شروع ہونے کے باوجود دنیا بھر کے ممالک اب بھی کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہیں اور اس سے ہونے والی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی یونیورسٹی جانز ہاپکنز کے مطابق دنیا بھر میں کورونا کے متاثرہ افراد کی تعداد 168,966,139 جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 3,511,201 ہے۔
جانز ہاپکنز کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں اب تک سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 33,217,765 جبکہ اموات کی تعداد 593,285 ہے۔
امریکہ کے بعد سب سے زیادہ متاثرہ ملک انڈیا ہے جہاں اب تک 27,555,457 افراد اس وائرس سے متاثر جبکہ 318,895 کی موت ہو چکی ہے۔
کورونا کے بڑھتے کیسز کے باوجود تائیوان کا چین سے مدد لینے سے انکار
،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز سے تائیوان نے اس پر قابو پا رکھا تھا لیکن اب یہاں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
تائیوان کو اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے ویکسین کی ضرورت ہے اور چین نے مدد کی پیشکش بھی کی ہے تاہم فی الحال تائیوان نے بیجنگ سے مدد لینے سے انکار کر دیا ہے۔
مئی کے وسط تک تائیوان میں کورونا سے اموات کی تعداد صرف 12 تھی جبکہ لگ بھگ 1500 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے لیکن صرف جمعرات کے روز ہی 13 مزید اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
اس ہفتے تک تائیوان کو کورونا ویکسین کی ساتھ لاکھ خوارکیں موصول ہو چکی ہیں لیکن 23 ملین کی آبادی والے اس ملک میں اب تک صرف 1 فیصد کو ہی ویکسین لگی ہے۔
’صرف ایک منٹ کے لیے میری ماں کو چیک کر لیں‘
انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر نے ملک کو بہت بری طرح متاثر کیا۔
لوگ علاج کی خاطر اپنے پیاروں کو ساتھ لیے پھرتے رہے مگر آکسیجن کی کمی کے باعث کئی افراد علاج کروانے کا موقع ملنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں کورونا وائرس کے 2482 نئے کیس، 67 اموات
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے 2482 نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 67 ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مرنے والوں میں سے 60 ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 58,611 ہے۔
بریکنگ, انڈیا میں ڈیڑھ ماہ بعد یومیہ متاثرین کی تعداد کم ترین سطح پر
انڈیا میں تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد یومیہ متاثرین کی تعداد کم ترین سطح پر آئی ہے۔
انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے ایک لاکھ 86 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق ملک میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
چین کا امریکہ کے کورونا پھیلاؤ کی ابتدا کی دوبارہ تحقیقات کے فیصلے پر سخت ردعمل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین
نے امریکہ کی جانب سے کورونا وائرس کی ابتدا چینی لیبارٹری سے ہونے کے نظریہ پر
مزید تحقیقات کرنے کی مذمت کی ہے۔
امریکی
صدر جو بائئڈن نے انٹیلیجنس حکام سے اپنی ’کوشش دگنی‘ کرنے کا حکم دیا کہ وہ یہ پتا
کریں کہ کورونا وائرس کی انسانوں میں منتقلی کس طرح ہوئی تھی۔
چین کی وزارت خارجہ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے امریکہ پر سیاسی ساز باز اور الزام تراشی کا الزام عائد کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کورونا وائرس کے ووہان کی لیبارٹری میں وائرس تحقیق کے دوران پھیلنے کو مسترد کیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے خفیہ ایجنسیوں کو ’اپنی کوششیں تیز کرنے اور ایسی معلومات اکٹھی کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا کہا ہے جس سے ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔‘
امریکی صدر کی جانب سے اس اعلان نے چینی حکام کو غصہ دلایا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ژاؤ لیجان کا کہنا تھا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کو حقائق اور سچ سے کوئی سروکار نہیں ہے اور اس کی اس وائرس کی ابتدا کے متعلق سنجیدہ سائسنی تحقیق کے متعلق صفر دلچسپی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ان کا مقصد اس وبا کے ذریعے الزام تراشی ، سیاسی ساز باز اور ذمہ داری عائد کرنا ہے۔ وہ سائنس کی توہین کر رہے ہیں اور وہ عوام کی جانوں کی حفاظت کرنے اور وائرس کے خلاف لڑائی میں ناکام رہے ہیں۔‘
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی غلط معلومات پھیلانے کی ایک ’سیاہ تاریخ‘ رہ چکی ہے۔
امریکہ میں چینی سفارت خانے کی جانب سے ایک بیان ، جس میں براہ راست صدر بائیڈن کے حکم کا حوالہ نہیں دیا گیا ، میں کہا گیا ہے کہ ’ الزام تراشی کی مہم کی واپسی ہو رہی ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے مشیروں کو حکم دیا ہے کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز سے متعلق سوالات کے جوابات ڈھونڈیں۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ امریکی انٹیلیجینس افسران اس حوالے سے موجود متضاد مفروضوں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ آیا یہ وائرس چین کی لیبارٹری سے ایک حادثے کے باعث پھیلا تھا۔
یاد رہےکہ کورونا وائرس کی سب سے پہلے تشخیص سنہ 2019 کے آخر میں چینی شہر ووہان میں ہوئی تھی۔ تب سے اب تک دنیا بھر میں اس سے 168 ملین افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 35 لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔
حکام نے ابتدا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز ووہان میں موجود ایک سی فوڈ مارکیٹ سے جوڑا تھا اور سائنسدانوں نے مطابق یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔
تاہم حالیہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کے واضح ثبوت مل رہے ہیں کہ یہ وائرس چینی شہر ووہان کی ایک لیبارٹری سے ایک حادثے کے نتیجے میں پھیلا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
بدھ کو ایک بیانمیں امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ صدارتی دفتر سنبھالنے کے بعد انھوں نے کورونا وائرس کے ابتدائی پھیلاؤ کے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا کہا تھا جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا یہ وائرس کسی متاثرہ جانور سے انسانوں میں منتقل ہوا یا لیبارٹری سے حادثاتاً۔
اس ماہ اس متعلق رپورٹ موصول ہونے کے بعد انھوں نے اس پر مزید کام کرنے کا حکم دیا تھا۔
بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ خفیہ ادارے اس وقت دو امکانات پر غور کر رہے ہیں تاہم تاحال وہ اس حوالے سے مکمل طور پر پراعتماد نہیں ہے کہ وہ کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچ سکیں اور اس وقت بھی وہ یہ بحث کر رہے ہیں کہ کون سا نتیجہ درست ہے۔
انڈیا میں کووڈ کے مریضوں کو نابینا کرنے والا بلیگ فنگس ’میوکورمائیکوسز‘ کتنا خطرناک ہے؟
،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
انڈیا میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں دشواری پیش آ رہی ہے لیکن اسی دوران فنگس کا ایک نایاب اورخطرناک انفیکشن بھی کورونا کے کچھ مریضوں کو متاثر کر رہا ہے۔
فنگس کی میوکورمائیکوسز نامی قسم کورونا سے متاثرہ یا صحتیاب ہونے والے افراد میں مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
انڈیا میں کورونا کے بعض متاثرین میوکورمائیکوسز سے متاثر ہوئے ہیں جسے ’بلیک فنگس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایسے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں جو کووڈ سے صحتیاب ہو رہے تھے۔
رواں سال مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں میوکورمائیکوسز سے جڑے کووڈ سے 41 کیس سامنے آئے۔ ان میں سے 70 فیصد کی تعداد انڈیا میں تھی۔