یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا!
بی بی سی اردو کی کورونا وائرس کے حوالے سے خصوصی کوریج جاری ہے۔
خبروں اور معلومات کے لیے ہمارے تازہ لائیو پیج پر تشریف لائیں۔
انڈیا کی ریاست مہارشٹرا میں 15 جون تک لاک ڈاؤن بڑھا دیا گیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ نے وبا کی تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ 31 مئی یعنی آج بروز سوموار سے صوبے بھر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔
بی بی سی اردو کی کورونا وائرس کے حوالے سے خصوصی کوریج جاری ہے۔
خبروں اور معلومات کے لیے ہمارے تازہ لائیو پیج پر تشریف لائیں۔
انڈیا میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے تاہم اس میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 153347 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 3129 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کی شرح 7.3 فیصد ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھائی لینڈ کے قیدیوں سے بھری جیلوں میں کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔
حکام نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4500 نئے کورونا متاثرین کی تصدیق کی ہے جن میں سے آدھے متاثرین جیلوں میں قید افراد ہیں۔
حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 22 ہزار قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
تھائی لینڈ کے وزیر انصاف کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قید افراد کو ایک تابوت سے بھی کم جگہ میسر ہے اور وہ ایسے طریقے تلاش کر رہے ہیں جس سے ان قیدیوں کو آزاد کیا جا سکے جن کو صحت کے مسائل لاحق ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انڈیا میں کورونا کےتیسری لہر کے دوران ریاست مہارشٹرا میں مزید 15 دنوں کے لیے لاک ڈاؤن بڑھا دیا گیا ہے۔
اب ریاست میں 15 جون تک لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کا کہنا ہے ’ریاست میں کورونا کی وبا کے پیش نظر چند پابندیاں نافذ رہے گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ریاست کے کچھ اضلاع ایسے بھی ہیں جہاں مریضوں کی تعداد میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ شہری علاقوں میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ دیہی علاقوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لہذا اگر سخت لاک ڈاؤن نافذ نہیں بھی ہے تب بھی چند پابندیاں نافذ رہے گیں۔`
کورونا وبا کی تیسری لہر پر انھوں نے کہا کہ ’بچے تیسری لہر کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ لیکن اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے ۔ لیکن اگر وہ متاثر ہوتے ہیں تو لازمی ہیں کہ ہم بھی ان سے متاثر ہو جائیں گے۔ لہذا ہمیں اس کی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔ اس کے لیے ماہر امراض اطفال کی ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ ہم تمام تر سہولیات مہیا کررہے ہیں۔‘
اتوار کے روز وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں سے بات چیت کی۔ ادھو نے کہا کہ لاک ڈاؤن کو اگلے پندرہ دن تک بڑھایا جارہا ہے۔
سکاٹ لینڈ میں 20 لاکھ افراد کو کورونا وائرس ویکسین کی دونوں خوراکیں لگا دی گئیں ہیں۔
اتوار کے روز جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق 2,022,728 افراد کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگا دی گئی ہیں جبکہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران 24,319 افراد کو ویکسین لگائی گئی۔
دوسری جانب ایسے افراد جن کو اب تک ویکسین کی صرف ایک خوراک لگائی جا چکی ہے ان کی تعداد 3,234,311 ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ 31 مئی یعنی کل بروز سوموار سے صوبے بھر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔
اپنی ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ایک دن میں صرف 50 فیصد طلبا کو بلانے کی اجازت ہو گی تاہم 7 جون 2021 سے پہلے دیگر جماعتوں کے طلبا کے سکول آنے پر پابندی ہو گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود آکاش نامی شخص نے فیصلہ کیا کہ وہ شادی تو پھر بھی کریں گے۔
انڈیا میں کورونا کی بھیانک دوسری لہر کے دوران مدھیہ پردیش میں ایک جوڑے نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ’پی پی ای‘ کٹ پہن کر شادی کی- پولیس وہاں پہنچـی تو ضرور لیکن شادی میں رکاوٹ نہ پیدا کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اتوار کو کورونا وائرس کے 696 نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد تین لاکھ 39 ہزار 73 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق صوبے بھر میں کورونا وائرس سے مزید 22 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی کُل تعداد نو ہزار 982 ہوچکی ہے۔
اب تک تین لاکھ آٹھ ہزار 733 کووڈ متاثرین صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
برازیل میں ہزاروں لوگ صدر جائر بولسونارو کی حکومت کی کورونا پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
دارالحکومت برازیلیا میں ہزاروں افراد نے سنیچر کو کانگریس کے سامنے مظاہرہ کیا اور صدر کے مواخذے اور مزید ویکسینز کا مطالبہ کیا۔ ریو ڈی جنیرو سمیت دیگر شہروں میں بھی بڑے مظاہرے ہوئے۔
کورونا کے خلاف صدر بولسونارو کی پالیسیوں کی وجہ سے اُن کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔
برازیل میں اب تک کورونا وائرس کے سبب چار لاکھ 60 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔
اس کے علاوہ یہاں ایک کروڑ 60 لاکھ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جو کہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی تعداد ہے۔
برازیل کی سینیٹ حکومت کی جانب سے کورونا سے نمٹنے کے اقدامات اور ویکسینز کی فراہمی میں سست روی پر بھی انکوائری کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہepa
بلوچستان میں کورونا سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تین افراد ہلاک جبکہ 82 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے 20 اضلاع میں کورونا کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا۔
مزید تین افراد کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں کورونا سے مجموعی طور پر ہلاک افراد کی تعداد 276 ہوگئی۔
رواں ماہ کے دوران اب تک کورونا سے مصدقہ ہلاک افراد کی تعداد 40 ہے جو ایک ماہ کے دوران ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں کورونا کے ٹیسٹ کی تعداد انتہائی کم ہے اور یہاں گذشتہ سال مارچ سے لے کر اب تک صرف دو لاکھ 67 ہزار 934 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ایک لاکھ 65 ہزار 553 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں کووڈ کے باعث 3460 لوگوں کی ہلاکت ہوئی۔
اب تک انڈیا میں کورونا کے دو کروڑ 78 لاکھ 94 ہزار 800 متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔ انڈیا میں کووڈ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ 22 ہزار 512 ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب نے 11 ممالک کے آنے والے لوگوں کے ملک میں داخلے پر موجود پابندی ہٹا لی ہے۔
یہ اقدام سعودی عرب میں کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لیا گیا تھا تاہم اب سعودی سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بتایا ہے کہ ان ممالک میں کورونا کی صورتحال قابو میں ہونے کے باعث یہ پابندی ختم کی جا رہی ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کو اب بھی ملک میں داخلے پر قرنطینے میں رہنا ہوگا۔
ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، جرمنی، امریکہ، آئرلینڈ، اٹلی، پرتگال، برطانیہ، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، فرانس اور جاپان شامل ہیں۔
تازہ ترین حکم نامہ اتوار یعنی آج کے روز سے نافذ العمل ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا کے 2697 نئے مریض سامنے آئے ہیں اور اسی دورانیے میں اموات کی تعداد 56 ریکارڈ کی گئی۔
سنیچر کے مقابلے میں متاثرین کی تعداد زیادہ رہی تاہم اموات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 55 ہزار 965 ٹیسٹ کیے گئے جس کی وجہ سے مثبت ٹیسٹس کی شرح 4.81 فیصد رہی جو کہ گذشتہ روز کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔
پاکستان میں اب تک کورونا سے کُل نو لاکھ 18 ہزار 936 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ آٹھ لاکھ 39 ہزار 322 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
اب تک کورونا کے باعث پاکستان میں کُل 20 ہزار 736 اموات ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں جاری کورونا وبا کی دوسری لہر میں کمی دیکھنےمیں آ رہی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد متاثرین میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جو گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران سب سے کم متاثرین کی تعداد ہے۔
انڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 3463 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
جبکہ ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کی شرح ساڑھے سات فیصد ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویتنام کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک میں سائنسدانوں نے کووڈ 19 کی ایک نئی قسم دریافت کرنے کا انکشاف کیا ہے جو ہوا کے ذریعے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور یہ انڈیا اور برطانیہ میں پائی گئی کووڈ کی اقسام کا مجموعہ ہے۔
ملک کے آدھے سے زیادہ علاقوں میں اس وقت کووڈ کے پھیلاؤ کے باعث نئی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ اب تک ویتانم میں 6700 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 47 اموات ہوئی ہیں جن میں سے اکثر اپریل کے مہینے میں ہوئی ہیں۔
ویتنام کے وزیرِ صحت نے سنیچر کے روز کہا کہ ’ہم نے وائرس کی ایک نئی قسم کی شناخت کی ہے جو انڈیا اور برطانیہ کی اقسام کا مجموعہ ہے۔‘ ’وائرس کی اس قسم کی خاصیت یہ ہے کہ یہ دیگر اقسام کی نسبت ہوا میں تیزی سے پھیلتی ہے۔‘
لانگ کا کہنا ہے کہ لیبارٹری میں کی گئی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وائرس کی نئی قسم بہت تیزی سے پھیلتی ہے جو ملک میں تیزی سے پھیلنے والے نئے کیسز کی وجہ ہو سکتے ہیں۔
خبررساں ادارے روئٹرز نے وزیرِ صحت کی جانب سے دیے گئے بیان کی ریکارڈنگ حاصل کی ہے جس میں وہ ایک حکومتی اجلاس میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ’وائرس کی یہ نئی قسم دراصل انڈین ہے لیکن اس کی میوٹیشنز برطانیہ میں پائے جانے والی قسم میں سے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے۔‘
اب تک ان کی جانب سے وائرس کی اس نئی قسم کے باعث متاثر ہونے والے افراد کی تعداد نہیں بتائی گئی تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں مزید معلومات جلد عالمی نقشہ برائے وائرس کی اقسام دیا جائےگا۔ وزارتِ صحت کے مطابق ویتنام میں اس قسم کی دریافت سے قبل کورونا وائرس کی سات اقسام موجود تھیں۔
خیال رہے کہ ویتنام کو کووڈ 19 کی وبا کو قابو میں رکھنے کے باعث خاصی پذیرائی ملی تھی، تاہم گذشتہ ماہ کے دوران اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد ملک گیر پابندیوں کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں لاک ڈاؤن میں 7 جون تک توسیع کر دی گئی ہے تاہم اس بار کچھ پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔
دلی میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نے یہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی نقل و حمل پر پابندی برقرار رہے گی تاہم کنٹونمنٹ زون کے باہر صنعتی علاقوں میں بند مینوفیکچرنگ یونٹس پر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیڈریشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے اراکین نے سنیچر کے روز کہا کہ ایلوپیتھی کے بارے میں یوگا گورو رام دیو کے تبصروں کے خلاف وہ یکم جون کو ملک گیر احتجاج کریں گے اور یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔
فیڈریشن نے اپنے بیان میں یوگا گرو رام دیو سے بھی غیر مشروط معافی مانگنے کو کہا ہے۔
کورونا انفیکشن کے علاج میں استعمال ہونے والی کچھ ادویات پر سوال اٹھاتے ہوئے یوگا گرو رام دیو نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ 'لاکھوں افراد ایلوپیتھی کی دوائیں کھا کر مر چکے ہیں'۔
اس بیان پر رام دیو کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن نے ان کے بیان کو ’انتہائی غیرذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے واپس لیں۔ جس کے بعد رام دیو نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔
ادھر رام دیو نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک 'کھلے خط' میں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے 25 سوالات پوچھے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا ایلوپیتھی بیماری سے مستقل راحت فراہم کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی کمیونٹی پر زور دیا ہے کہ وہ کووڈ کے ابتدا سے متعلق تلاش میں سیاست کو سائنس سے الگ رکھیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر مائیک رائن نے کہا ہے کہ کووڈ کے ابتدا سے متعلق تلاش کو ’سیاست نے زہر آلود کیا۔‘
واضح رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں امریکی حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ وہ اس غیر منظور شدہ نظرئیے کی مزید تفتیش کرے گی کہ کووڈ 19 چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری سے آیا تھا۔
جس کے جواب میں چین نے امریکہ پر ’سیاسی ہیرا پھیری‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس کا پہلا کیس سنہ 2019 میں چین کے شہر ووہان میں سامنے آیا تھا۔
ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اگرچہ لیبارٹری سے وائرس نکلنے کی وضاحت کا بہت زیادہ امکان نہیں لیکن اس سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ریان نے کہا کہ کووڈ کی اصل ابتدا کے بارے میں مزید مطالعات کو ’ایک غیر سیاسی ماحول میں کرنے کی ضرورت ہے، جہاں مقصد الزام تراشی نہیں بلکہ سائنس اور صحت ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کے 16 صوبوں میں تمام تدریسی ادارے آئندہ دو ہفتے کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
یہ فیصلہ افغانستان میں مزید 977 افراد میں کورونا کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا گیا ہے۔
اس مہلک وائرس سے افغانستان میں اب تک دو ہزار 899 اموات ہو چکی ہیں۔
صحت عامہ کی ناقص سہولیات ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ ہلاکتوں اور کووڈ پازیٹو افراد کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا ویکسین کی 1.82 کروڑ خوراکیں دستیاب ہیں اور آئندہ تین دن میں مزید چار لاکھ خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔
انڈیا کی مرکزی حکومت اب تک ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا ویکسین کی 22.77 کروڑ خوراکیں مہیا کر چکی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق سنیچر کے روز صبح آٹھ بجے تک کے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 20 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
وزارت صحت نے کہا ہے کہ ’ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں اس وقت ویکسین کی 1,82,21,403 خوراکیں دستیاب ہیں جبکہ آئندہ تین دن میں مزید 4,86,180 خوراکیں مہیا کی جائیں گی۔