آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیل حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق، بائیڈن کا معاہدے کا خیر مقدم

غزہ پر اسرائیلی طیاروں اور حماس کے اسرائیلی علاقوں پر 11 دن تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد فریقین نے غیرمشروط جنگ بندی کی مصری تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ امریکی صدر نے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ اس لڑائی کے دوران غزہ میں 65 بچوں سمیت 232 جبکہ اسرائیل میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔

لائیو کوریج

  1. سیز فائر صرف مخصوص شرائط پر ممکن: اسرائیلی وزیر اعظم کے مشیر

    غزہ میں اسرائیلی بمباری اور فلسطینی جنگجوؤں کی جوابی کارروائیوں کے اس سلسلے میں اب سیز فائر کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے سینیئر مشیر مارک ریگوو نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی طرف سے سیز فائر صرف چند مخصوص شرائط پر ممکن ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اہم چیز یہ ہے کہ ہمیں اس صورتحال سے نکلتے وقت جنوبی اسرائیلی اور مجموعی طور پر اسرائیل کی شہری آبادی کے حوالے سے یقین دہانی کرائی جائے کہ دیر پا امن اور خاموشی قائم ہوگی کیونکہ تل ابیب اور یروشلم کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ’اسرائیلی شہری آبادی اس ڈر میں نہ رہے کہ غزہ کی پٹی سے راکٹ داغے جائیں گے۔‘

  2. اسرائیل میں تعمیرات کے شعبے کا فلسطینی مزدوروں پر انحصار

    غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بعد اسرائیل میں فلسطینی اور عرب اسرائیلی مزدوروں کی جانب سے مظاہرے اور عام ہڑتال کی کال دی گئی۔

    منگل کو اس ہڑتال میں صفائی کا عملہ، پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیور اور تعمیرات کے شعبے سے وابستہ مزدور شامل تھے۔

    اسرائیل بلڈرز ایسوسی ایشن نے اخبار ہاریٹز کو بتایا کہ 65 ہزار میں سے صرف 150 فلسطینی مزدور منگل کو ہڑتال کے باوجود کام پر آئے تھے۔

    اس سے ملک بھر میں تعمیراتی کام مفلوج ہوگیا اور اطلاعات کے مطابق صنعت کو چار کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔

    گروپ کے نائب صدر یہودہ کاتوو کا کہنا ہے کہ لڑائی کے آغاز کے بعد سے تعمیراتی کام رُک گیا ہے۔ ہر روز صرف چھ سے آٹھ ہزار مزدور کام پر آرہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’آپ ان کے بغیر کچھ بھی تعمیر نہیں کرسکتے۔‘

    صنعت کے شعبے پر لڑائی کے اثرات نے سب کو حیران کردیا ہے۔ کئی مزدوروں پر دباؤ ہے کہ اگر انھوں نے ہڑتال میں حصہ لیا تو ان کی نوکریاں چلی جائیں گی۔

    ایک اسرائیلی رہائشی نے ہاریٹز کو بتایا کہ ’یہ بہترین وقت ہے کہ ہم اپنی غلط فہمیاں دور کریں اور صرف یہودیوں کو نوکری پر رکھیں! یا ان عربوں کو جو اسرائیل کی ریاست کے ساتھ وفادار ہیں اور اس کا کھل کر اظہار ہیں۔‘

    عرب اکثریتی اتحاد جوائنٹ لسٹ کے قانون ساز ایڈا توما سلیمن نے کہا ہے کہ ہڑتال میں شریک مزدوروں کو اتنی حمایت حاصل نہیں ہوئی ہے۔

    انھوں نے ہاریٹز کو بتایا کہ ’امن قائم ہونے کے کچھ دنوں بعد اسرائیلی عوام کو آئینے میں دیکھنا ہوگا اور یہ سوچنا ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ رہنے والی اس اقلیت کے ساتھ کیسا تعلق قائم رکھنا چاہتے ہیں۔‘

  3. نتن یاہو کابینہ کے اجلاس میں سیز فائر پر مشاورت کریں گے: اسرائیلی میڈیا

    اسرائیل میں ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو جمعرات کو مقامی وقت شام سات بجے سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں غزہ میں سیز فائر پر مشاورت کریں گے۔

    تاحال نتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم بدھ کو انھوں نے واضح کیا تھا کہ ملک میں امن و سلامتی کی بحالی تک لڑائی جاری رہے گی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ان سے فون کال پر ایک پیغام میں کشیدگی میں کمی لانے پر زور دیا تھا۔

    حماس کے حکام نے بدھ کو سی این این کو دیے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں سیز فائر ممکن ہے۔

    اسرائیلی ویب سائٹ وائے نیٹ نیوز کی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ غزہ میں اکثر اہداف کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

  4. اسرائیل، فلسطین تنازع کتنا پرانا ہے

  5. فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس جو غزہ پر راج کرتا ہے

    ابتدا میں حماس کا دو بنیادی مقصد تھے جن میں سے ایک فلسطینیوں کے لیے معاشرتی بہبود کے پروگرام چلانا اور دوسرا اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا تھا۔

  6. عالمی ادارۂ صحت کی غّزہ تک رسائی کی اپیل

    عالمی ادارۂ صحت کے حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ پر ہونے والے حملے روک کر وہاں طبی نظام کی مدد کے لیے سامان پہنچانے کی اجازت دی جانی چاہیےجسے ادویات کی شدت قلت کا سامنا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر احمد المندھاری نے کہا ہے کہ مریضوں اور امدادی و طبی سامان کی فراہمی کے لیے غزہ کے داخلی و خارجی راستوں کی بندش سے وہاں عوامی سطح کا طبی بحران جنم لے رہا ہے۔

  7. پاکستان اور فلسطین کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کا خصوصی اجلاس

    اقوامِ متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے اعلان کیا ہے کہ 27 مئی کو مقبوضہ بیت المقدس سمیت فلسطینی علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر خصوصی اجلاس منعقد ہو گا۔

    کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے کوارڈینیٹر کے طور پر پاکستان اور ریاستِ فلسطین کی مشترکہ درخواست پر بلایا گیا ہے۔

    بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 47 رکنی کونسل کے کتنے ارکان نے یہ اجلاس بلانے کی حمایت کی تاہم کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے کم از کم ایک تہائی ارکان کی حمایت تو درکار ہوتی ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے اس اقدام پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  8. بریکنگ, غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ہلاکتیں 230، اسرائیل میں 13 ہلاک

    فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 230 ہو گئی ہے جن میں 65 بچے بھی شامل ہیں۔

    وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز ہلاک ہونے والوں میں ایک معذور شخص، اس کی اہلیہ اور ان کا تین سالہ بچہ شامل ہیں۔

    ادھر اسرائیل کی نیشنل ایمرجنسی میڈیکل سروس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اب تک حماس کے راکٹ حملوں اور تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے۔

    حکام کے مطابق ان میں سے 10 افراد براہِ راست راکٹ حملوں، دھماکوں یا بم کے ٹکڑے لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ تین شدید زخمی ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

  9. بڑھتے عالمی دباؤ کے باعث جمعے تک فائر بندی ہونے کا امکان ہے: میڈیا رپورٹ

    امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل پر شائع ہونے والے مضمون کے مطابق مذاکرات کے بارے میں معلومات رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی جمعے تک عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

    امریکی اور غیر ملکی حکام کے مطابق مصری حکام اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں بامعنی پیش رفت دیکھی گئی ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ وہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے نزدیک ہیں۔

    وال سٹریٹ جرنل کی اس خبر کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کو امید ہے کہ اس ہفتے فائر بندی کی جا سکتی ہے، اگر کوئی غیر متوقع واقعہ ان کمزور مذاکرات کو ناکام نہیں کر دیتا۔ رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات میں مصر، امریکہ، قطر اور دوسرے بااثر ممالک کا ہاتھ ہے۔

    سی این این سے بات کرتے ہوئے حماس کے حکام نے بدھ کے روز بتایا کہ بہت جلد فائر بندی کا امکان ہے، اور ایسا شاید ’24 گھنٹوں کے اندر ہو جائے۔‘

    تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے زور دیا ہے کہ لڑائی جاری رکھنے کے لیے ’پرعزم‘ ہیں جب تک ’امن اور سلامتی‘ کی بحالی نہیں ہو جاتی۔

  10. اسرائیلی الیکٹرک کمپنی کے اہلکاروں کا قیدیوں کی رہائی تک غزہ میں بجلی ٹھیک کرنے سے انکار

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے سب سے بڑی بجلی مہیا کرنے والی کمپنی کے اہلکاروں نے غزہ کی بجلی بحال کرنے سے اس وقت تک انکار کیا ہے جب تک حماس دو اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں واپس نہیں کر دیتا۔

    یہ فوجی حدار گولڈن اور اورون شال جنھیں 2014 کے تنازع کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔

    اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن (آئی ای سی) کے اہلکاروں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اویرا مینگستو کو بھی رہا کیا جائے جنھوں نے 2014 میں ایتھیوپیئن اسرائیلی سرحد پار کر کے غزہ میں داخل ہوئے تھے۔

    انھوں نے ہشام السعید کا نام نہیں لیا جنھیں غزہ جانے کے بعد حماس نے حراست میں لے لیا تھا۔

    ان مطالبات کے جواب میں آئی ای سی نے کہا ہے کہ وہ ’ایک سرکاری کمپنی ہے جسے قوانین کے مطابق چلنا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ بجلی ایک ضروری چیز ہے اور اسے تنازع سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

    کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ان افراد کو گھر واپس لایا جا سکے گا۔‘

  11. اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والےفلسطینی ڈاکٹر جن کا پورا خاندان اس حملے میں ہلاک ہو گیا, لینا شیخونی، بی بی سی عربی

    اتوار کی صبح پہلے سے خبردار کیے بغیر غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک چار منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں ڈاکٹر ایمن ابو الاوف رہتے تھے۔

    وہ غزہ کے مرکزی ہسپتال کے انٹرنل میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے اور اپنے خاندان 12 دیگر افراد سمیت ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ڈاکٹر ایمن کے والدین، ان کی اہلیہ ریم، ان کا 17 سالہ بیٹا توفیق اور ان کی 12 سالہ بیٹی تالہ شامل ہیں۔

    ڈاکٹر غیث الزانین جو ان کے قریبی دوست اور ان کے ساتھ کینیڈا میں بھی رہے ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے صرف اس لیے نہیں کیونکہ ہم ایمن کو ذاتی طور پر جانتے تھے، بلکہ اس لیے بھی کیونکہ یہ ان کے مریضوں اور طلبا کے لیے بھی ایک بہت بڑا نقصان ہے۔‘

    غزہ شہر میں الشفا ہسپتال کی انٹرنل میڈیسین کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ابوالاوف یہاں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بھی کوششوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

    وہ کووڈ 19 وارڈ کی نگرانی بھی کر رہے تھے جہاں انتہائی نگہداشت کے مریض داخل تھے اور انتہائی کم پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا مریض موجود تھے۔

  12. ہماری لڑائی حماس سے ہے، فلسطین سے نہیں: اسرائیلی سفیر

    اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے مابین لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

    تمام بین الاقوامی کوششیں ناکام ہوتی نظر آتی ہیں۔ ادھر اسرائیل نے کہا ہے کہ یہ جنگ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین نہیں بلکہ حماس کے ساتھ ہے۔

    اسرائیل کے امریکہ کے لیے سفیر نے سی بی ایس ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ جنگ فلسطینیوں کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ جنگ صرف اسرائیل اور ’دہشت گرد تنظیم‘ حماس کے مابین ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ تصادم نہیں چاہتے ہیں اور ہم نے تناؤ کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں لیکن حماس تشدد کو بھڑکانے کے لیے پرعزم ہے اور ابھی ہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر رہے ہیں۔

    ’یہ ظاہر ہے کہ ہم جنگ بندی چاہتے ہیں لیکن ہم مرض سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسے صرف مرہم پٹی سے روکنے پر غور نہیں کر رہے۔‘

  13. اسرائیل فلسطین تنازع: امریکی ڈیموکریٹس کی بائیڈن سے جلد فائر بندی کروانے کی اپیل

    امریکی ایوانِ نمائندگان یعنی کانگریس میں ڈیموکریٹ جماعت کے 130 اراکین نے جو بائیڈن سے اسرائیل اور حماس کے درمیان کے درمیان ’تشدد کے فوری خاتمے‘ کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ دونوں اطراف دباؤ ڈال کر جلد از جلد فائر بندی کروانے کی کوشش کریں۔

    کانگریس کے ان اراکین کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ ایک انسانی سانحہ ہو گا، جس کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔‘

    کانگریس کے نمائندے مارک پوکان نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ مزید انسانی جانوں کا ضیاں نہیں ہونا چاہیے۔

  14. فرانس امریکہ سفارتی تناؤ: امریکہ کا فرانس کی فائر بندی کی تجویز کی حمایت نہ کرنے کا عندیہ

    گذشتہ روز امریکہ نے یہ باور کروایا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فرانس کی اس تجویز کی حمایت نہیں کرے گا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان فائر بندی ہو۔

    اس سے بائیڈن انتظامیہ میں پہلی مرتبہ امریکہ اور فرانس کے درمیان سفارتی تناؤ نے جنم لیا ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی تجویز تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کو دھچکہ پہنچا سکتی ہے۔

    اقوام متحدہ میں امریکی ترجمان نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’ہم اسرائیل اور فلسطینیوں کے بحران کے بارے میں مکمل طور پر واضح ہیں۔ ہماری توجہ تشدد کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر ہے۔

    ’ایسی صورتحال میں ہم سلامتی کونسل میں کسی بھی طرح کی قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے۔ اگر ہم یہ کرتے ہیں تو ہماری کوششیں پٹڑی سے اتر سکتی ہیں۔ '

    اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ فرانس کی تجویز کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ویٹو کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ادھر اقوامِ متحدہ میں تعینات ایک سفیر نے اے ایف پی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت عجیب بات لگتی ہے، خاص کر جب ہم یہ امید کر رہے تھے کہ (بائیڈن انتظامیہ کے آنے سے) امریکہ کی کثیر الجہتی سفارتی عمل میں واپسی ہو گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ امید بھی تھی کہ امریکہ چاہے گا کہ ایسے مواقعوں پر سلامتی کونسل کے کردار کو اہم تصور کیا جائے گا۔

    ماہرین کے مطابق فرانس کی جانب سے ایسا امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس لیے کے یہ باور کراویا جا سکے کہ جو بائیڈن عالمی امور پر کثیر الجہتی نقطہ نظر سے عمل کرنے کے اپنے عہد پر پورا نہیں اتر رہے۔

    اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں اور مصری صدر عبد الفتح السیسی کی اسرائیل فلسطین بحران پر جنگ بندی کے بارے میں تجویز پیش کی۔

    مصر کے صدر افریقہ میں پیرس اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس گئے ہیں۔ فرانس اور مصر کی تجویز سے متعلق منگل کی رات دیر سے ایک بیان جاری کیا گیا۔

    اسرائیل اور فلسطینیوں میں جاری تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عام قرارداد منظور نہیں ہو سکی۔ امریکہ اسرائیل کا وفادار حلیف ہے اور وہ اب تک فائر بندی کی کسی بھی تجویز کو ویٹو کر رہا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیل فلسطین تنازع کے دوران پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے چین، ناروے اور تیونس کے ذریعہ تین تجاویز لائی گئیں اور ان تینوں کو امریکہ نے ویٹو کیا۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین امریکہ، چین، روس، فرانس اور برطانیہ ہیں۔ کسی بھی تجویز کو منظور کرنے کے لیے پانچوں کا متفقہ ہونا لازمی ہے۔ اگر کوئی رکن ملک اس سے متفق نہیں ہوتا ہے تو پھر وہ اپنی ویٹو طاقت کا استعمال کر کے اس تجویز کو روکتا ہے۔

    فرانس کی تجویز پر امریکہ پر دباؤ کی بات کی جارہی ہے۔فرانس بھی امریکہ کا اتحادی ہے۔ فرانس نے ایک چھوٹی اور عام تجویز پیش کی ہے، جس میں دشمنی کو روکنے اور انسانی امداد سے بچاؤ کے کام کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    بدھ کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو فون کیا اور کہا کہ وہ تشدد کو روکنے کے لیے کسی ٹھوس فیصلے کی امید کر رہے ہیں۔

  15. حالیہ کشیدگی کے دوران کون سا ملک کس کے ساتھ کھڑا ہے؟

    غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف بہت سے ممالک نے اپنی آواز بلند کی ہے اور فی الفور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ایسے بھی کئی ممالک ہیں جو اسرائیل فلسطین تنازع میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کا ساتھ دے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے 25 ممالک کا شکریہ ادا کیا جن میں امریکہ، البانیہ، آسٹریلیا، آسٹریا، برازیل، کینیڈا، کولمبیا، قبرص، جارجیا، جرمنی، ہنگری، اٹلی، سلووینیا اور یوکرین جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔

    ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں اور وہ حماس کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتے ہیں۔

  16. حماس کو ’ایک، دو روز میں فائر بندی کی توقع‘، اسرائیل کے غزہ پر 100 سے زیادہ فضائی حملے

    حماس کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ انھیں اسرائیل کے ساتھ ’ایک دو روز میں‘ فائر بندی معاہدے کی امید ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جمعرات کو بھی 100 سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے جبکہ حماس کی جانب سے جوابی راکٹ بھی فائر کیے گئے۔

    گذشتہ روز اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ ’مزید فضائی حملوں کرنے کے لیے پرعظم ہیں جب تک اسرائیلی شہریوں سکون اور حفاظت یقینی نہیں بنا لی جاتی۔‘

    اب تک اس تنازع کے تنیجے میں غزہ میں 227 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 100 سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ اسرائیل میں 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    حماس کے سیاسی اہلکار موسیٰ ابو مرزوک نے لبنان کے المیادین ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ فائر بندی سے متعلق حالیہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔

    ’مجھے امید ہے کہ فائر بندی معاہدہ جلد کر لیا جائے گا اور یہ دونوں اطراف کی رضامندی سے ہو گا۔‘

  17. اسرائیل کا اقوام متحدہ کو پیغام: ’ہم نے غزہ کے لیے امداد بند نہیں کی‘

    اسرائیل نے اقوام متحدہ کی ایک امدادی تنظیم پر غلط بیانی کا الزام لگایا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے نے کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کے لیے امداد کو روک رہا ہے۔

    منگل کو اس تنظیم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ غزہ کے شہریوں اور اس کے عملے کے لیے امدادی سامان تک رسائی یقینی بنائے۔ تنظیم نے کہا تھا کہ اسرائیل نے ایسی رسائی فراہم نہیں کی اس لیے وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے وعدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    تاہم بدھ کو اسرائیلی دفتر خارجہ نے اس بیان کو مسترد کیا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے نہیں بلکہ فلسطینی جنگجوؤں کے راکٹ حملوں کی وجہ سے منگل اور بدھ کو امدادی سامان کی منتقلی رُک گئی تھی۔

    بیان کے مطابق ’یو این آر ڈبلیو اے کا دعویٰ کہ اسرائیل غزہ کے لیے امدادی سامان کو روک رہا ہے غلط بیانی پر مبنی ہے اور جھوٹ ہے۔‘

    ’دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل سے متعلق اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘

  18. اسرائیل فلسطین تنازع: بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    یہ اسرا ئیل فلسطین تنازع سے متعلق بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج ہے۔ یہاں آپ کو اس تنازعے سے متعلق تجزیے، تحریریں اور تازہ ترین خبریں پڑھنے کو ملیں گی۔

    اگر آپ کو اس تنازع کے بارے میں گذشتہ روز کی خبریں جاننی ہیں تو آپ یہاں کلک کر سکتے ہیں۔