گذشتہ روز امریکہ نے یہ باور کروایا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فرانس کی اس تجویز کی حمایت نہیں کرے گا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان فائر بندی ہو۔
اس سے بائیڈن انتظامیہ میں پہلی مرتبہ امریکہ اور فرانس کے درمیان سفارتی تناؤ نے جنم لیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی تجویز تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کو دھچکہ پہنچا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی ترجمان نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’ہم اسرائیل اور فلسطینیوں کے بحران کے بارے میں مکمل طور پر واضح ہیں۔ ہماری توجہ تشدد کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر ہے۔
’ایسی صورتحال میں ہم سلامتی کونسل میں کسی بھی طرح کی قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے۔ اگر ہم یہ کرتے ہیں تو ہماری کوششیں پٹڑی سے اتر سکتی ہیں۔ '
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ فرانس کی تجویز کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ویٹو کرنے کے لیے تیار ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ میں تعینات ایک سفیر نے اے ایف پی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت عجیب بات لگتی ہے، خاص کر جب ہم یہ امید کر رہے تھے کہ (بائیڈن انتظامیہ کے آنے سے) امریکہ کی کثیر الجہتی سفارتی عمل میں واپسی ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ امید بھی تھی کہ امریکہ چاہے گا کہ ایسے مواقعوں پر سلامتی کونسل کے کردار کو اہم تصور کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق فرانس کی جانب سے ایسا امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس لیے کے یہ باور کراویا جا سکے کہ جو بائیڈن عالمی امور پر کثیر الجہتی نقطہ نظر سے عمل کرنے کے اپنے عہد پر پورا نہیں اتر رہے۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں اور مصری صدر عبد الفتح السیسی کی اسرائیل فلسطین بحران پر جنگ بندی کے بارے میں تجویز پیش کی۔
مصر کے صدر افریقہ میں پیرس اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس گئے ہیں۔ فرانس اور مصر کی تجویز سے متعلق منگل کی رات دیر سے ایک بیان جاری کیا گیا۔
اسرائیل اور فلسطینیوں میں جاری تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عام قرارداد منظور نہیں ہو سکی۔ امریکہ اسرائیل کا وفادار حلیف ہے اور وہ اب تک فائر بندی کی کسی بھی تجویز کو ویٹو کر رہا ہے۔
اس سے قبل اسرائیل فلسطین تنازع کے دوران پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے چین، ناروے اور تیونس کے ذریعہ تین تجاویز لائی گئیں اور ان تینوں کو امریکہ نے ویٹو کیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین امریکہ، چین، روس، فرانس اور برطانیہ ہیں۔ کسی بھی تجویز کو منظور کرنے کے لیے پانچوں کا متفقہ ہونا لازمی ہے۔ اگر کوئی رکن ملک اس سے متفق نہیں ہوتا ہے تو پھر وہ اپنی ویٹو طاقت کا استعمال کر کے اس تجویز کو روکتا ہے۔
فرانس کی تجویز پر امریکہ پر دباؤ کی بات کی جارہی ہے۔فرانس بھی امریکہ کا اتحادی ہے۔ فرانس نے ایک چھوٹی اور عام تجویز پیش کی ہے، جس میں دشمنی کو روکنے اور انسانی امداد سے بچاؤ کے کام کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بدھ کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو فون کیا اور کہا کہ وہ تشدد کو روکنے کے لیے کسی ٹھوس فیصلے کی امید کر رہے ہیں۔