کوئٹہ میں پابندیوں کے باوجود چھپ چھپ کر کاروبار جاری, محمد کاظم، نامہ نگار کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سیکورٹی اقدامات کے باعث اگرچہ تاجر تنظیموں کے اعلان کے باوجود دکاندار اپنی دکان نہیں کھول سکے تاہم گذشتہ چار روز کے مقابلے میں بدھ کو شہر میں خریداروں کی بڑی تعداد دکھائی دی۔
خیال رہے کہ حکومت اور انتظامیہ سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد تاجر تنظیموں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بدھ اور جمعرات کو ایس او پیز کے تحت اپنی دکانیں کھولیں گے۔
اس اعلان کے بعد انتظامیہ کی جانب سے چار روز کے مقابلے میں شہر کے وسطی علاقوں میں سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیا گیا تھا جبکہ پولیس اہلکار شہر میں بکتر بند گاڑیوں میں بھی گشت کرتے رہے۔
تاجروں کے نکلنے اور ان کی متوقع گرفتاری کے پیش نظر جیل کی گاڑیاں بھی منان چوک پر لانے کے علاوہ شہر کے بعض داخلی راستوں کو گاڑیاں کھڑی کر کے بند کیا گیا تھا، چنانچہ سہ پہر تک تاجر تنظیموں کے اعلان کے مطابق دکاندار اپنی دکان نہیں کھول سکے۔
تاہم دکانداروں کی ایک بڑی تعداد اپنی دکانوں کے باہر موجود رہی اور خریداروں کے آنے پر وہ شٹر اٹھا کر ان کو دکانوں کے اندر داخل کرواتے رہے۔
یہ مناظر شہرمیں زیادہ تر جناح روڈ، قندہاری بازار اور پرنس روڈ پر جوتوں کی دکانوں پر دیکھنے کو ملے جبکہ بعض سڑکوں پر دکانیں مکمل کھلی بھی رہیں لیکن پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے آنے پر فوری طور پر شٹر بند کیے جاتے رہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ماضی کے مقابلے میں ریڑھیوں پر جوتے فروخت کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان ریڑھیوں پر قیمتی جوتے بنانے والی کمپنیوں کے جوتوں کے ڈبے بھی نظر آئے۔
مکمل لاک ڈاﺅن کے نفاذ کے بعد سے گذشتہ چار روز کے مقابلے میں شہر میں خریداروں کی بھی بڑی تعداد نظر آئی لیکن وہ کورونا ایس او پیز کا خیال نہ رکھتے ہوئے نظر آئے۔ اسی طرح کے شہر کے نواحی علاقوں میں بھی زیادہ تر دکانیں کھلی رہیں۔