’دنیا کی فارمیسی‘ میں ویکسین کی کمی کیوں پیدا ہوگئی؟
انڈیا کی وفاقی حکومت نے 96 کروڑ اہل لوگوں کو ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاہم اس کے پاس ایک ارب 80 کروڑ خوراکیں نہیں ہیں۔
اس سے بھی زیادہ مسئلے کی بات یہ ہے کہ ویکسین کی کمی ہلاکت خیز دوسری لہر کے دوران پیش آئی ہے اور اب تیسری لہر کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
’دنیا کی فارمیسی‘ کہلائے جانے والے اس ملک میں ویکسین کی کمی کیوں پیدا ہوگئی جو دنیا میں ویکسین تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے؟
انڈیا، برازیل اور جنوبی افریقہ میں دواؤں تک رسائی کے لیے مہم چلانے والی تنظیم ایکسیس آئی بی ایس اے کے کوآرڈینیٹر آچل پربھالہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا ویکسینز کا پیشگی آرڈر کہیں پہلے کر سکتا تھا مگر اس نے اس میں تاخیر کر دی۔ اس کے بعد اس نے بہت ہی تھوڑی تعداد میں ویکسین خریدیں۔‘
جنوری اور رواں ماہ کے درمیان انڈیا نے کوویکسن اور آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین کی کوئی 35 کروڑ خوراکیں خریدیں۔
دو ڈالر فی خوراک قیمت والی یہ ویکسینز دنیا کی سستی ترین ویکسینز ہیں لیکن یہ انڈیا کی 20 فیصد آبادی کو بھی مکمل طور پر ویکسینیٹ نہیں کر سکتیں۔
اور اسی دوران انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کر دیا کہ کورونا کو شکست دے دی گئی ہے۔ اس کے بعد اُنھوں نے ’ویکسین ڈپلومیسی‘ کا آغاز کرتے ہوئے مارچ میں اتنی زیادہ ویکسینز برآمد کر دیں جتنی کہ انڈیا میں لگائی نہیں گئی تھیں۔
متعدد فاش غلطیوں میں سے یہ صرف ایک تھی۔
مقامی طبی ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کے علاوہ ناقص منصوبہ بندی، خریداری میں سست روی اور سرکاری طور پر قیمتیں نہ طے کرنے سے انڈیا کی ویکسین مہم کو نقصان پہنچا۔