انڈیا میں بڑھتے ہوئے انفیکشن اور ویکسین کا اثر پڑوسی ملک بنگلہ دیش پر بھی پڑ رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ویکسین کی کمی ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں ویکسین کی مہم کو تیز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وائرس کی نئی اور خطرناک شکلیں پائی جارہی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ملک کی وزارت صحت نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ کورونا وائرس کی ’انڈین قسم‘ کی پہلی بار بنگلہ دیش میں تشخیص ہوئی ہے۔
کئی ہفتوں سے زیادہ تر کیسز میں جنوبی افریقن قسم پائی گئی۔ بنگلہ دیش میں حکام کو تشوی ہے کہ نئی قسم پہلے کی مختلف حالتوں کے مقابلے میں تیزی سے پھیلتی ہے اور یہ ممکن ہے کہ ویکسین کا ان پر کوئی اثر نہ پڑے۔
ماہرین کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں میں بنگلہ دیش میں انفیکشن میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم اس کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
ماہرین اس کو ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے کے لیے صحیح وقت کے طور پر لے رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے چائلڈ ہیلتھ ریسرچ فاؤنڈیشن سے وابستہ سائنس دان سنجوٹی ساہا نے اے پی کو بتایا ’یہ وقت ہے کہ ویکسین لگائی جائے، انفیکشن کی شرح کو کم رکھیں اور نئی قسموں کو آنے سے روکیں۔‘
لیکن انڈیا نے اپنے ملک میں بڑھتیے متاثرین کے پیش نظر ویکسین کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔
سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کو جون تک بنگلہ دیش میں تیس ملین خوراک مہیا کرنا تھیں، ہر ماہ 50 لاکھ۔ لیکن اب تک یہ کمپنی صرف 70 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔