انڈیا میں سوا تین لاکھ سے زیادہ نئے یومیہ متاثرین، کورونا وارڈ میں آگ لگنے سے 13 مریض ہلاک

انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے تین لاکھ 32 ہزار سے زیادہ نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جو دنیا بھر میں یومیہ متاثرین کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ پاکستان میں گذشتہ روز کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 144 ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, انڈیا: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1761 افراد ہلاک، دو لاکھ 59 ہزار سے زائد متاثرین

    انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا انفیکشن کے 259170 نئے کیس درج ہوئے۔

    اور مزید 1761 افراد انفیکشن کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

    اب مثبت کیسوں کی مجموعی تعداد 15321089 ہوگئی ہے جن میں سے 2031977 فعال متاثرین ہیں۔

    انڈیا میں ہلاکتوں کی کل تعداد بڑھ کر 180530 ہوگئی ہے۔

    اب تک 12 کروڑ 71 لاکھ سے زیادہ افراد کو کورونا ویکسین دی جا چکی ہیں۔

    آج کے اعداد و شمار پیر کی صبح جاری انفیکشن کے اعدادوشمار سے کم ہیں۔ پیر کے روز 273810 نئے متاثرین سامنے آئے تھے۔ تاہم، ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. منموہن سنگھ کی حالت اب بہتر ہے

    ددگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن نے بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حالت اب بہتر ہے۔

    88 سالہ منموہن سنگھ کو پیر کی شام کورونا سے متاثر ہونے کے بعد دہلی کے ایمس ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

    ڈاکٹر ہرش وردھن نے ان کے بارے میں ٹویٹ کرکے بتایا ’ان کی حالت مستحکم ہے۔ جہاں تک ممکن ہو سکے ان کی بہترین دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ ہم سب ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘

    دو دن پہلے منموہن سنگھ نے وزیر اعظم مودی کو کورونا کی صورتحال کے بارے میں ایک خط لکھا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. بریکنگ, کورونا: پاکستان میں 5445 نئے مریض، پنجاب میں وبا کے آغاز سے سب سے زیادہ اموات

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 5445 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 137اموات بھی ہوئی ہیں۔

    سب سے زیادہ 104 اموات پنجاب میں ہوئیں جہاں وبا کے آغاز سے اب تک یہ اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں مثبت کیسز کی شرح 8 فیصد رہی جبکہ ملک میں کل 68,002 ٹیسٹ کیے گئے۔

    خیال رہے کہ این سی او سی کی جانب سے 21 اپریل کو 50 سے 59 سال کے افراد کے لیے ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. انڈیا: یکم مئی سے اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے ہر شخص کو ویکسین لگانے کا اعلان

    sfs

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی حکومت نے 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم مئی سے لاگو ہوگا۔

    پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم مئی سے 18 سال سے زیادہ عمر کے ہر فرد کو کورونا ویکسین دی جا سکتی ہے۔

    یکم مئی سے کورونا ویکسینیشن مہم اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہوگی جس میں ویکسینیشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور اس کے دائرہ کار میں توسیع کی جارہی ہے۔

    ابھی تک صرف 45 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ہی یہ ویکسین لینے کی اجازت تھی۔

    تاہم، بہت سی ریاستوں میں ویکسین کی قلت ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ اضافی خوراکیں کہاں سے آئیں گی۔

    گذشتہ ہفتے حکومت نے کہا تھا کہ اس کے پاس صرف 27 ملین خوراکیں بچی ہیں - یا ویکسین لگانے کی موجودہ شرح کے حساب سے اس کے پاس صرف نو دن کی ویکسین موجود ہے۔

    انڈیا میں اس وقت طبی کارکنوں، فرنٹ لائن ورکرز اور 45 سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین دی جا رہی ہے لیکن متعدد ریاستوں سے ناکافی خوراکوں کی اطلاع ہے جن میں سب سے متاثرہ مہاراشٹر بھی شامل ہے۔

    بہت سے علاقوں میں لوگوں کو ویکسنیشن مراکز سے ہٹانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    sfs

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. برطانیہ: انڈیا کو بھی ’ریڈ لسٹ‘ ممالک میں شامل کر دیا گیا

    شفش

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکک نے کہا ہے کہ انڈیا میں کووڈ وائرس کی نئی قسم پر تشویش کی وجہ سے انڈیا کو بھی ان ریڈ لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے جن پر برطانیہ کے سفر کی پابندی ہے۔

    اس سے قبل کورونا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کے پیش نظر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنا دورہ انڈیا بھی منسوخ کر دیا تھا۔

    مقامی اطلاعات کے مطابق بورس جانسن کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ ’باہمی رائے سے‘ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹے کورونا وائرس کی ابتدا کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے ہیں اور 1625 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    گذشتہ روز انڈیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص بھی ہوئی ہے اور یہ تعداد دو لاکھ 75 سے بھی زیادہ رہی ہے۔

    ادھر دلی میں ایک دن میں سب سے زیادہ 25 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دلی میں ٹیسٹ ہونے والا ہر تیسرا شخص کورونا وائرس میں مبتلا ہے۔

    دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دہلی میں صورتحال بہت خراب ہے۔

    اتوار کے روز دارالحکومت نئی دہلی میں 161 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

  6. سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی انتقال کر گئے

    سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی کرونا کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ کرونا کے باعث میو ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر تھے۔

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دور حکومت کے ابتدائی دنوں میں سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی کو چیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن تعینات کیا تھا اور انھیں پنجاب پولیس میں اصلاحات کی خصوصی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

    تاہم ناصر درانی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

    ناصر درانی

    ،تصویر کا ذریعہْBBC

  7. انڈیا: دارالحکومت دہلی میں آج سے چھ دن تک لاک ڈاؤن نافذ

    انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں آج سے چھ دن کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

    دارالحکومت دہلی میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سوموار کی رات سے پیر کی صبح تک دہلی میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

    کیجریوال نے کہا: 'تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت نے چھ دنوں کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج رات 10 بجے سے سوموار کی صبح پانچ بجے تک لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔'

    کجریوال نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا لاک ڈاؤن ہے اور اس میں اضافے کا خدشہ کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت غریب عوام کے لیے مشکلات کا باعث ہوتی ہے، لیکن انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دوران دہلی چھوڑ کر نہ جائیں۔

    کجریوال نے کہا: 'مجھے یقین ہے کہ لاک ڈاؤن سے کورونا ختم نہیں ہوتا، لیکن اس کی رفتار کم ہوتی ہے۔ ان چھ دنوں میں ہم بڑے پیمانے پر بیڈز، ادویات اور آکسیجن کا بندوبست کریں گے۔'

    دہلی حکومت کے جاری کردہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران تمام ضروری خدمات کے شعبے اپنا کام کریں گے۔ سبزیوں، دودھ، دوائیں اور دیگر ضروری چیزوں کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔

    اس کے علاوہ ضروری خدمات سے وابستہ لوگوں کو پاسز دیے جائیں گے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر اور میڈیا والے آئی کارڈز دکھا کر اپنے کام پر جاسکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم نے بھی کووڈ 19 کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ایک ہنگامی میٹنگ کا اعلان کیا ہے۔

    انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ تازہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دہلی میں تقریباً 25 ہزار افراد میں اس کی تشخیص ہوئی ہے اور جانچ کرانے والے ہر تیسرے شخص میں اس کی تشخیص ہو رہی ہے۔

    دریں اثنا خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق بازار میں یکایک بھیڑ بڑھ گئی ہے اور لوگ ضروری اشیا خرید رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب کی دکانوں پر بھی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انڈیا میں کورونا کے کیسزمیں تیزی سے اضافے کے سبب پورے ملک میں ہسپتالوں میں مطلوبہ وینٹی لیٹر والے بستروں کی شدید کمی ہو گئی ہے اور سب سے بڑا مسلہ آکسیجن کی فراہمی کا ہے۔

    ہسپتالوں میں لاکھوں کی تعداد میں مریضوں کے داخل ہونے کے سبب آکسیجن کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    حکومت نے صنعتی یونٹوں کو فراہم کی جانے والی آکسیجن کی مقدار محدود کر دی ہے تاکہ مریضوں کو مطلوبہ آکسیجن فراہم کی جا سکے۔

    آکسیجن کا مسئلہ ایک بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے اور ملک کے کئی علاقوں میں ویکسین کی قلت کی بھی خبریں ہیں۔

  8. بی بی سی اردو کی کورونا وائرس کوریج میں ایک بار پھر خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے کورونا وائرس کوریج کے لیے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ اس پیج پر ہم دنیا بھر سے کورونا وائرس سے متعلق خبریں شائع کریں گے اور قارئین کو مسلسل تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال سے آگاہ رکھیں گے۔