انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں آج سے چھ دن کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
دارالحکومت دہلی میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سوموار کی رات سے پیر کی صبح تک دہلی میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔
کیجریوال نے کہا: 'تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت نے چھ دنوں کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج رات 10 بجے سے سوموار کی صبح پانچ بجے تک لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔'
کجریوال نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا لاک ڈاؤن ہے اور اس میں اضافے کا خدشہ کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت غریب عوام کے لیے مشکلات کا باعث ہوتی ہے، لیکن انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دوران دہلی چھوڑ کر نہ جائیں۔
کجریوال نے کہا: 'مجھے یقین ہے کہ لاک ڈاؤن سے کورونا ختم نہیں ہوتا، لیکن اس کی رفتار کم ہوتی ہے۔ ان چھ دنوں میں ہم بڑے پیمانے پر بیڈز، ادویات اور آکسیجن کا بندوبست کریں گے۔'
دہلی حکومت کے جاری کردہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران تمام ضروری خدمات کے شعبے اپنا کام کریں گے۔ سبزیوں، دودھ، دوائیں اور دیگر ضروری چیزوں کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔
اس کے علاوہ ضروری خدمات سے وابستہ لوگوں کو پاسز دیے جائیں گے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر اور میڈیا والے آئی کارڈز دکھا کر اپنے کام پر جاسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم نے بھی کووڈ 19 کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ایک ہنگامی میٹنگ کا اعلان کیا ہے۔
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ تازہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دہلی میں تقریباً 25 ہزار افراد میں اس کی تشخیص ہوئی ہے اور جانچ کرانے والے ہر تیسرے شخص میں اس کی تشخیص ہو رہی ہے۔
دریں اثنا خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق بازار میں یکایک بھیڑ بڑھ گئی ہے اور لوگ ضروری اشیا خرید رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب کی دکانوں پر بھی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔
انڈیا میں کورونا کے کیسزمیں تیزی سے اضافے کے سبب پورے ملک میں ہسپتالوں میں مطلوبہ وینٹی لیٹر والے بستروں کی شدید کمی ہو گئی ہے اور سب سے بڑا مسلہ آکسیجن کی فراہمی کا ہے۔
ہسپتالوں میں لاکھوں کی تعداد میں مریضوں کے داخل ہونے کے سبب آکسیجن کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
حکومت نے صنعتی یونٹوں کو فراہم کی جانے والی آکسیجن کی مقدار محدود کر دی ہے تاکہ مریضوں کو مطلوبہ آکسیجن فراہم کی جا سکے۔
آکسیجن کا مسئلہ ایک بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے اور ملک کے کئی علاقوں میں ویکسین کی قلت کی بھی خبریں ہیں۔