آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں سوا تین لاکھ سے زیادہ نئے یومیہ متاثرین، کورونا وارڈ میں آگ لگنے سے 13 مریض ہلاک

انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے تین لاکھ 32 ہزار سے زیادہ نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جو دنیا بھر میں یومیہ متاثرین کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ پاکستان میں گذشتہ روز کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 144 ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستان میں کورونا ایس ای پیز پر عمل درآمد میں مدد کے لیے فوج طلب

    پاکستانی وزیر اعظم نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے پاکستانی فوج سے کہا ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کرانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے سڑکوں پر نکلے۔

  2. انڈیا میں کورونا کی بگڑتی صورتحال، فیصل ایدھی کی انڈیا کو مدد کی پیشکش

    آج ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے پڑوسی ملک انڈیا میں تیزی سے پھیلتے کورونا وائرس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدد کی پیشکش کی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ’مصیبت کی اس گھڑی میں ایدھی فاونڈیشن اور اس کے رضا کار اپنے پڑوسی ملک کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں-‘

    انھوں نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو پچاس ایمبولینس اور ایک رضاکاروں کی ٹیم انڈیا بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔

  3. پاکستان میں 5870 نئے متاثرین، 144 ہلاکتیں

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5870 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 144 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے مریضوں کی سب سے زیادہ 57 ہلاکتیں پنجاب میں ہوئی ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے ملک کے ہپستالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔

    جمعہ کو وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں حکومت نے پابندیاں مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    ملک کے تمام بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز اور آکسیجن بیڈز پر مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں فعال کیسز کی کل تعداد 84976 تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 53818 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    پاکستان میں مجموعی طور پر سات لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی کل تعداد 16842 ہے۔

  4. انڈیا میں کورونا کے تین لاکھ 32 ہزار نئے مریض، 2263 اموات

    انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے تین لاکھ 32 ہزار نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 2263 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    انڈیا کی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مریضوں کی یہ تعداد عالمی سطح پر یومیہ متاثرین کی ریکارڈ تعداد ہے۔

    کورونا کی وبا نے انڈیا کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے اور اس کے ہہت زیادہ پھیلاؤ کے باعث دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں میں بھی ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ چکا ہے اور ملک سے زیادہ تر ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت سامنے آ رہی ہے۔

    انڈیا میں اب تک ایک کروڑ باسٹھ لاکھ سے زیادہ افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  5. کورونا: دہلی کے ہسپتالوں میں آکسیجن ختم ہونے کے قریب

    انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں کم از کم دو ہپستالوں میں آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔ انڈیا میں کورونا کی وبا کے بہت زیادہ پھیلاؤ اور اس سے پیدا ہونے والے ہنگامی حالات کے باعث ملک کی بیشتر ریاستوں میں ہسپتالوں پر بہت زیادہ دباؤ پڑنے کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

    دارالحکومت دہلی کے ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے وارڈز مریضوں سے بھر چکے ہیں اور بہت سے افراد آکسیجن کے انتظار میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    انڈیا میں کورونا کے دوسری لہر نے بہت تباہ کاری مچائی ہے۔ ملک میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کورونا متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی آج (جمعے) کو متاثرہ ریاستوں کے وزرا اعلیٰ اور آکسیجن بنانے والوں سے ملاقات کریں گے۔ جمعے کی صبح دہلی کے میکس ہیلتھ کیئر نے ایک ہنگامی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو ہپستالوں میں آکسیجن کی نئی سپلائی کا گذشتہ سات گھنٹوں سے انتظار کر رہے ہیں۔

    ان دو ہسپتالوں میں 700 سے زائد مریض داخل ہیں۔

    دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صرف اگلے دو گھنٹوں کی آکسیجن سپلائی رہ گئی ہے۔ ہسپتال کے وینٹیلیٹر اور بائی پاس مشینیں کام نہیں کر رہی ہیں۔

    ہسپتال کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت ہسپتال میں داخل انتہائی تشویشناک حالت کے 60 مریضوں کی زندگیوں کا خطرہ لاحق ہے۔

  6. بریکنگ, انڈیا: کورونا وارڈ میں آگ لگنے سے 13 مریض ہلاک

    انڈین ریاست مہاراشٹرا کے ایک ہسپتال میں قائم کورونا وارڈ میں آگ لگنے کے باعث 13 کورونا متاثرین ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ کورونا مریض کورونا سینٹر کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل تھے۔

    ضلع پلگھر کی انتظامیہ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وسائی ہسپتال میں لگنے والی آگ میں زخمی ہونے والوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مقامی پولیس نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس حادثے میں کم از کم 13 کورونا مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ دو روز قبل مہاراشٹرا کے ہی ایک ہسپتال میں آکسیجن لیک ہونے کے باعث 22 مریض ہلاک ہوئے تھے۔

  7. انڈیا میں مسلسل دوسرے روز بھی کورونا متاثرین کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ

    جمعرات کے روز انڈیا میں 332175 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 2255 اس وائرس کی وجہ سے دم توڑ گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ مسلسل دوسرا روز ہے جب انڈیا میں یومیہ 3 لاکھ سے زیادہ نئے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    صرف یہی نہیں بلکہ انڈیا میں نئے یومیہ متاثرین کی یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اتنی بڑی تعداد میں نئے کیس اب تک کسی اور ملک میں سامنے نہیں آئے ہیں۔

    انڈیا میں کووڈ 19 کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے، جو امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

  8. بریکنگ, کینیڈا نے پاکستان اور انڈیا سے مسافر پروازوں کی آمد پر پابندی لگا دی

    کینینڈا نے پاکستان اور انڈیا میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر دونوں ملکوں سے آنے والی مسافر پروازوں کی آمد پر پابندی لگا دی ہے۔

    پاکستان اور انڈیا سے آنے والی ان پروازوں پر پابندی آئندہ 30 روز تک جاری رہے گی۔

  9. متحدہ عرب امارات نے انڈیا سے آنے والی فلائٹس معطل کر دیں

    متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ انڈیا سے آنے والی قومی اور غیر ملکی کیریئرز کی تمام پروازوں کو معطل کر رہے ہیں، اس کے علاوہ ان کیریئرز کی طرف سے آنے والے ٹرانزٹ مسافروں پر بھی پابندی ہو گی۔ رعایت صرف ان ٹرانزٹ فلائٹس کو دی جائے گی جو متحدہ عرب امارات آ رہی ہیں اور ان کی منزل انڈیا ہے۔

  10. میکسیکو اور پولینڈ میں فائزر کی جعلی ویکسین

    امریکی دوا ساز کمپنی فائزر کا کہنا ہے کہ اسے میکسیکو اور پولینڈ میں اپنی کورونا وائرس ویکسین کے جعلی ورژن ملے ہیں۔

    یہ ویکسین دونوں ممالک کے حکام نے ضبط کی تھی اور ٹیسٹوں کے بعد اس کے جعلی ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

    فائزر نے بتایا کہ میکسیکو میں ویکسین پر جھوٹے لیبل لگائے گئے تھے، جب کہ پولینڈ میں مادہ کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ماتھے کی جھریاں ختم کرنے والی دوا تھی۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ جعلی ویکسینوں سے ’عالمی سطح پر صحت عامہ کو شدید خطرہ لاحق ہے۔‘

    تاہم پولینڈ کے وزیر صحت نے بدھ کو اصرار کیا کہ جعلی ویکسین کا سرکاری طور پر گردش میں ہونے کا خطرہ ’عملی طور پر بالکل نہیں ہے۔‘

  11. انڈیا میں کووڈ۔19 کے کیسز ایک دن میں دنیا میں سب سے زیادہ

    انڈیا میں دنیا میں کہیں بھی ایک دن میں کووڈ۔19 کے نئے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کی تعداد بھی۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار 104 ہے جبکہ اسی دوران تقریباً تین لاکھ 14 ہزار 835 افراد نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    انڈیا میں کووڈ۔19 کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ساٹھ کے قریب ہو چکی ہے، جو امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

    کرونا وائرس کی دوسری لہر نے ملک کو ہلا کہ رکھ دیا ہے جس سے اس کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    بڑے شہروں میں ہسپتالوں کے باہر لوگوں کا ہجوم ہے اور ہسپتال مریضوں سے بالکل بھر چکے ہیں۔ آکسیجن کے انتظار میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

  12. تیونس میں انتہائی نگہداشت کے تقریباً تمام بستر بھر گئے

    تیونس کے ہسپتالوں میں اطلاعات کے مطابق انتہائی نگہداشت کے تمام بستر بھر چکے ہیں۔ یہ ملک اس وقت کورونا وائرس کی شدید لہر کی زد میں ہے۔

    حکومت کی مشاورت کرنے والی ایک سائنسی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ’صورتحال بہت تشویش ناک ہے اور طبی عملہ تھک چکا ہے۔ آئی سی یو مکمل طور پر بھر چکے ہیں اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

    اُنھوں نے کووڈ کے پھیلاؤ کی وجہ برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا کی قسم کو قرار دیا۔ حکومت نے 30 اپریل تک تمام سکول بند کر دیے ہیں اور لوگوں کے رات میں ڈرائیو کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    وبا کے آغاز سے اب تک تیونس میں 10 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں۔

  13. کورونا وائرس: آکسفورڈ ایسٹرازینیکا کی دو لاکھ سے زائد خوراکیں شام پہنچ گئیں

    عالمی ادارہ صحت کی عالمی کوویکس مہم کے تحت شام کو آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین کی دو لاکھ تین ہزار خوراکیں فراہم کر دی گئی ہیں۔

    ویکسین کی پہلی کھیپ کو اس جنگ زدہ ملک میں حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں کام کرنے والے طبی عملے اور کردوں کے زیرِ انتظام شمال مشرقی علاقے میں استعمال کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ کل 53 ہزار 800 مزید خوراکیں اپوزیشن کے زیرِ انتظام شمال مغربی علاقے میں بھی پہنچ چکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے شام میں سربراہِ مشن ڈاکٹر اکجیمال میگتیمووا کا کہنا ہے کہ ویکسین کی فراہمی ’شام کے عوام کو اُمید پہنچائے گی جن کی زندگیاں ایک دہائی سے جاری تنازعے اور اس کے بعد عالمی وبا کے باعث بکھر کر رہ گئی ہیں۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ 20 فیصد آبادی کو 2021 کے اختتام تک اس مرض سے محفوظ کیا جا سکے۔ حکومت نے فروری کے اختتام میں ایک بے نام ’دوست ملک‘ سے حاصل کردہ ویکسین طبی عملے کو لگانی شروع کی ہے۔

    حکام کے مطابق وبا کے آغاز سے اب تک 21 ہزار 500 افراد میں کووڈ کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 1483 افراد اس مرض سے ہلاک ہوئے ہیں۔ مگر محدود ٹیسٹنگ کے باعث اصل تعداد ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ فروری میں نئے متاثرین کی تعداد میں کچھ کمی کے بعد اعداد و شمار دوبارہ تیزی سے بڑھنے لگے ہیں اور یہ ممکنہ طور پر تیسری لہر کے باعث ہو رہا ہے۔

  14. یورپی یونین کا ایسٹرازینیکا کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر غور

    یورپی کمیشن برطانوی سوئیڈش ویکسین ساز ادارے ایسٹرازینیکا کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر غور کر رہا ہے کیونکہ اس نے وعدے کے مطابق ویکسین کی تعداد ڈیلیور نہیں کی۔

    کمیشن کے ترجمان ایریک میمر نے کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ اب تک نہیں لیا گیا ہے تاہم یورپی یونین کے ایک سفارتکار کے مطابق کمیشن چاہتا ہے کہ رکن ممالک اس ہفتے کے اختتام تک مجوزہ مقدمے کی منظوری دیں۔

    مگر اُن کا کہنا تھا کہ رکن ممالک نہیں چاہتے کہ ویکسین لگوانے میں لوگوں کی ہچکچاہٹ اس مقدمے کے باعث بڑھ جائے۔

    کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایسٹرازینیکا کی 30 کروڑ خوراکیں آرڈر کر چکا ہے مگر اب وہ مزید 10 کروڑ خوراکیں آرڈر کرنے کا آپشن استعمال نہیں کرے گا۔

    ایسٹرازینیکا نے اب تک اس تعداد کا صرف دسواں حصہ ہی ڈیلیور کیا ہے اور اس نے خبردار کیا ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک پوری تعداد کے ایک تہائی سے زیادہ ڈیلیور نہیں کر سکے گا۔

  15. آکسیجن کی کمی سے نمٹنے کے لیے مودی کی سربراہی میں ہنگامی اجلاس

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید کمی سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی میٹنگ کی سربراہی کی ہے۔

    انڈین ہسپتال کورونا کے بڑھتے ہوئے مریضوں سے نمٹنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

    ملک کے حکام طریقے ڈھونڈ رہے ہیں کہ آکسیجن کی زیادہ سے زیادہ مقدار کیسے تیار کی جائے اور اسے کیسے جلد سے جلد ڈیلیور کیا جایے۔

    انڈیا نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں دنیا کی سب سے بڑی یومیہ متاثرین کی تعداد ریکارڈ کی ہے۔

    یہاں ایک دن میں تین لاکھ 14 ہزار 835 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 2104 افراد ہلاک ہوئے۔

    کچھ ہسپتالوں نے خبردار کیا ہے کہ آکسیجن کا ذخیرہ اتنا کم ہے کہ کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے۔

    آکسیجن کے حصول کے لیے لوٹ مار اور ذخیرہ اندوزی بھی کی جا رہی ہے۔ انڈیا کی سپریم کورٹ نے اپنی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس قلت کو پورا کرنے کے لیے قومی ایکشن پلان تیار کرے۔

  16. لاہور میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا فیصلہ

    کمشنر لاہور نےکورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر سزاؤں کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے کمشنر سپیشل سکواڈ اور تمام اے سیز کو خاص ٹاسک دے دیے گئے ہیں۔

    کمشنر لاہور کے مطابق چھٹی والے دن، کھانا کھانے کے مقامات اور وقت کی پابندی کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی چھوٹ نہیں ملے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل جگہ کو لاک ڈاون نوٹیفکیشن کے اختتام تک ہر صورت بند رکھا جائے گا۔

    بار بار خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹس کو پندرہ دن سے زائد عرصہ کے لیے سیل کیا جائے۔

    کمشنرلاہور کی جانب سے بیان کے مطابق پورے شہر میں کووڈ خلاف ورزی پر سیلنگ کی ڈی سیلنگ بھی اب ایس اوپیز کی مطابق ہو گی۔

  17. آکسیجن لے جانی والی گاڑیوں کو نہ روکا جائے، انڈین وزارت داخلہ

    انڈیا میں کورونا وبا کے باعث آکسیجن کی قلت اور بگڑتے ہوئے حالات کے پیش نظر مرکزی وزارت داخلہ نے ایک ریاست سے دوسری ریاست میں آکسیجن کی آسانی سے فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم جاری کیا ہے۔

    وزارت داخلہ نے ٹرانسپورٹ حکام کو ایک واضح حکم دیا ہے کہ ایک ریاست سے دوسری ریاست میں آکسیجن لے جانے والی گاڑیوں کو کھلی چھوٹ دی جائے اور انھیں بے جا روکا نہ جائے۔

    اس کے ساتھ ہی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ کسی بھی اتھارٹی کو کسی خاص علاقے یا ضلع میں آکسیجن سپلائی کرنے والی گاڑیوں کا کنٹرول نہیں لینا چاہیے۔

    جبکہ دوسری طرف جمعرات کو دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا نے ٹویٹ کیا اور اتر پردیش اور ہریانہ پر دارالحکومت میں آکسیجن کی فراہمی روکنے کا الزام لگایا۔

    انھوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’مرکزی حکومت کے کوٹہ بڑھانے کے باوجود، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتیں آکسیجن کی فراہمی روک رہی ہیں۔ کل دہلی کو 378 MT کے بجائے صرف 177 MT آکسیجن فراہم کی گئی۔ میں مرکز سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر نیم فوجی دستہ بھی تعینات کرنا پڑا تو کریں گے مگر کسی بھی صورت میں آکسیجن فراہمی متاثر نہیں ہونے دیں گے۔‘

  18. کورونا وائرس کی نئی ‘انڈین‘ قسم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    انڈیا میں 2020 کے آخر میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی ایک نئی قسم اب برطانیہ میں بھی پائی گئی ہے۔ کووڈ 19 کی کئی اقسام اس وقت تک سامنے آ چکی ہیں۔ برطانیہ میں انڈین قسم کے طور پر جانے جانے والی قسم بی.1.617 کے 100 سے زیادہ کیسز اب تک سامنے آ چکے ہیں۔ یہ تعداد بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے مگر برطانیہ میں جینیاتی ٹیسٹ میں ڈالے گئے کووڈ نمونوں میں سے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

  19. انڈیا: ویکسین کے لیے 18 سال سے زائد عمر کے لوگوں کی رجسٹریشن کا آغاز

    انڈیا میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے کے لیے کوون پورٹل پر اندراج 24 اپریل بروز ہفتہ سے شروع ہوگا۔

    مرکزی حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ یکم مئی سے ملک میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین دی جائے گی۔

    اسی کے ساتھ ہی چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، اترپردیش، آسام، کیرالہ اور سکم جیسے ریاستوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین مفت دیں گے۔

    نئے قواعد کے مطابق ریاستی حکومتیں اور نجی ہسپتال ویکسین بنانے والوں سے خود ہی ویکسین خرید سکتے ہیں۔

    کوویشیلڈ بنانے والے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے اس کی قیمت ریاستی حکومتوں کے لیے 400 روپے اور نجی ہسپتالوں کے لیے 600 روپے رکھی ہے۔

    مرکزی حکومت اسے پہلے کی طرح 150 روپے میں حاصل کرتی رہے گی۔

  20. انڈیا میں کورونا وبا کی صورتحال پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

    انڈیا میں کورونا وبا کے خوفناک حالات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے انڈین سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز مرکزی حکومت کو ایک نوٹس جاری کیا ہے۔سپریم کورٹ آکسیجن اور ضروری ادویات کی فراہمی کے ساتھ ویکسینیشن کے لیے قومی پالیسی بنانا چاہتی ہے۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا کہ اس معاملے پر جمعے کو سماعت ہوگی۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین ججوں کے بینچ نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا سے کہا ہے کہ وہ کووڈ وبا سے متعلق قومی منصوبہ عمل پیش کریں۔

    اس سے قبل کووڈ کے حوالے سے ملک کی 6 مختلف عدالتوں میں سماعت جاری تھی۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ صورتحال بے قابو ہوتی جارہی ہے۔

    سپریم کورٹ نے مزید کہا ہے کہ کووڈ کی چھ مختلف اعلیٰ عدالتوں میں ہونے والی سماعت سے الجھن پیدا ہوسکتی ہے۔ اب سپریم کورٹ ان تمام معاملات کی سماعت کرے گی۔

    عدالت عظمیٰ نے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے کو امیکس کیوریا مقرر کیا ہے۔ ہائی کورٹ کو کوڈ کی وبا کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا عدالتی حق ہے یا نہیں سپریم کورٹ اس کا بھی فیصلہ کرے گی۔

    واضح رہےکہ بروز پیر اتر پردیش میں واقع الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاست کے پانچ شہروں میں لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا تاہم اس فیصلے کو سپریم کورٹ نے معطل کر دیا تھا۔