جمعہ کو انڈیا
میں کووڈ۔19 کی انفیکشن کی شرح میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اس کی وجہ ایک
بڑے مذہبی اجتماع کے علاوہ انتخابی ریلیاں بھی بتائی جا رہی ہے۔
ممبئی ، نئی دہلی
اور دیگر شہروں میں نئی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ہی انڈیا کو کورونا وائرس
کی دوسری بڑی لہر کا سامنا ہے۔ اس طرح کے مطالبات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے
کہ ملک میں حفاظتی قطرے پلانے کے پروگرام کو مزید تیز کیا جائے کیونکہ ہسپتال مریضوں
سے بھر چکے ہیں۔
جمعہ کو وزارت
صحت کے مطابق 217،353 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے جو کہ پچھلے نو دنوں میں آٹھواں
ریکارڈ اضافہ ہے۔ اب متاثرین کی کل تعداد مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ 43 لاکھ ہو گئی ہے۔ انڈیا سے پہلے صرف
امریکہ کا نمبر آتا ہے جہاں 3 کروڑ سے زیادہ انفیکشنز کی اطلاع ہے۔
انڈیا کی وزارت
صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1185
اموات ہوئی ہیں جو کہ گذشتہ سات ماہ میں ایک دن میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ ہلاکتوں
کی کل تعداد ایک لاکھ 74 ہزار 308 ہو چکی ہے۔ رواں ماہ کے
لانسیٹ کے ایک مطالعے کے مطابق جون تک بھارت میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں دوگنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی
روئٹرز کے مطابق جمعہ کو نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت ہرش وردھن نے کہا کہ ’ہمارے ہاں سب سے بڑی لڑائی معاشرے میں ہے ۔۔۔ کچھ
عرصے سے لوگوں نے اس (کووڈ۔19) کے متعلق ایک عام سا نظریہ اپنا رکھا ہے۔‘
وزیر اعظم نریندر
مودی اور کانگریس کے راہول گاندھی سمیت متعدد سینئر قائدین اور اپوزیشن رہنما مغربی
بنگال سمیت پانچ خطوں میں انتخابات کے دوران بڑی ریلیاں نکالتے رہے ہیں۔
جلسوں کی تصاویر میں
یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہاں موجود ہزار افراد نے بغیر ماسک پہنے سماجی دوری اور
کووڈ۔19 کے دیگر اصولوں کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔
دوسری طرف وزیرِ داخلہ امت شاہ بھی جمعہ
کو مغربی بنگال میں عوامی جلسے اور روڈ شو کرنے والے ہیں۔