ڈیموکریٹک پارٹی کے سیتھ مولٹن نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اس وقت
واشنگٹن ڈی سی میں جتنے فوجی ہیں اتنے تو افغانستان میں بھی نہیں ہیں اور یہ یہاں ہمیں
صدر سے تحفظ دلانے کے لیے ہیں۔ پہلے اسے ہضم کر لیں۔‘
میساچوسیٹس سے تعلق رکھنے والے رکنِ کانگریس کا اشارہ اُن
25 ہزار سے زائد نیشنل گارڈز پر ہے جنھیں حلف برداری کی تقریب کی حفاظت پر مامور کیا
گیا ہے۔
یہ فوج کے ریزرو اہلکار ہیں جو پولیس، خفیہ سروس اور دوسرے
اداروں کا ایک طرح سے بیک اپ ہوتے ہیں۔ ان کی تربیت اس طرح سے کی گئی ہے کہ وہ سول
ہنگامہ آرائی سے نمٹ سکیں۔
اس وقت واشنگٹن میں بینک، ریستوران اور دکانیں نہ صرف بند ہیں
بلکہ ان کے آگے بورڈ لگا دیے گئے ہیں تاکہ کوئی وہاں توڑ پھوڑ نہ کر سکے۔ وائٹ ہاؤس
کو جانے والی سڑک پر ایسی باڑ لگا دی گئی ہے جس کے نہ تو اوپر چڑھا جا سکتا ہے اور
نہ ہی اسے آسانی سے پھلانگا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اہم عمارات کے اطراف میں جگہ جگہ باڑیں لگی ہوئی
ہیں، سکیورٹی احاطے ہیں اور بفر زون ہیں جہاں ہزاروں نیشنل گارڈز تعینات ہیں اور دلچسپ
بات یہ کہ سکیورٹی کرنے والے ان نوجوانوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے کہ کہیں وہ تو
شرپسندوں سے ملے ہوئے نہیں۔
اسی لیے شاید افتتاحی تقریب کے تیاری کے حوالے سے نیشنل گارڈز
کے سربراہ میجر جنرل ولیئم واکر نے کہا ہے کہ فوجیوں کے کوائف کو دوبارہ چیک کیا گیا
ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے اکسائے جانے کے بعد چھ جنوری کو اُن کے
حامیوں نے امریکی کانگریس کی عمارت ’کیپیٹل‘ پر حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے آج واشنگٹن
میں یہ صورتحال ہے۔
انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور بعد میں کانگریس پر حملہ
کر دینے کے امریکی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس حوالے سے تفصیلی تجزیہ یہاں
پڑھیں۔