ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر ہونے والی ہنگامہ آرائی
جیسا واقعہ حلف برداری کی تقریب کے موقع پر دوبارہ پیش آنے کے خدشات نے بہت سے لوگوں
کو پریشان کر دیا ہے۔
کیپیٹل ہل جانے والے راستوں پر آہنی باڑیں لگائی گئی ہیں اور
ہزاروں سکیورٹی اہلکار گلیوں میں گشت کر رہے ہیں۔ شہر کے مرکز میں روڈ بلاکس لگا دیے
گئے ہیں۔
چہرے ڈھانپے مسلح اہلکاروں کو گلیوں میں تعینات کر دیا گیا
ہے جو گاڑیوں کو چیک کر رہے ہیں اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔
دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈز کے 25 ہزار اہلکاروں
کو تعینات کیا گیا ہے۔
حکام کو کچھ اس نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کیپیٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو اندر سے مدد حاصل تھی۔
اسی نوعیت کی اطلاعات کے بعد وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے بنیاد پرست عناصر سے ممکنہ روابط کے پیش نظر ان کی سکریننگ بھی کی جا رہی ہے۔
سڑکوں پر پولیس کی گاڑیاں ہیں جبکہ شہر کی ہیلی کاپٹرز کی مدد سے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
میں نے گلیوں میں سفید ٹینٹ دیکھے جو بظاہر سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے لگائے گئے ہیں۔ متعدد میٹرو سٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔
امریکی کیپیٹل کا کمپلیکس عام عوام کے لیے بند ہے اور آج کے روز یعنی 20 جنوری کو عوام کو کیپیٹل گراؤنڈز تک رسائی حاصل نہیں ہو گی۔
کیپیٹل پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی بھی شخص جس نے دیوار پھلانگ کر یا کسی اور غیر قانونی طریقے سے کیپیٹل گراؤنڈز میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے اسے گرفتار کیا جائے گا۔‘