آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن نے دو ہفتے پہلے ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا تھا اور اب تک چیزیں بظاہر ٹھیک چل رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں صرف دو مریض ایسے ہیں جو وینٹیلیٹر پر ہیں اور یومیہ 30 ہزار ٹیسٹس کے بعد ملک میں روزانہ کے حساب سے اوسطاً 20 نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
ملک کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر برینڈن مرفی کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے پابندیاں اٹھیں گی ہمیں مزید کیسز کی توقع ہے تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ یہ چھوٹے پیمانے پر ہوں اور کنٹرول میں رہیں۔
عام زندگی آہستہ آہستہ معمول پر واپس آ رہی ہے تاہم پبلک ٹرانسپوٹ کے حوالے سے خدشات ہیں۔
آسٹریلیا میں حکومت نے لوگوں کے لیے ماسک پہننا لازم نہیں کیا۔ ابتدا میں اس کا مقصد ہسپتالوں میں عملے کے لیے ماسکس کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پالیسی جاری رہے گی۔
ڈاکٹر مرفی کا کہنا ہے کہ اگرچہ لوگ اپنی مرضی سے ماسک پہن سکتے ہیں مگر یہ لازم نہیں ہوگا۔
ادھر وزیراعظم موریسن نے تفریحی سفر کو دوبارہ شروع کرے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ملک نیوزی لینڈ کے ساتھ تفریحی سفر ملک میں ریاستوں کے درمیان آمد و رفت سے بھی پہلے کھولا جا سکتا ہے۔
کوئنز لینڈ، مغربی آسٹریلیا اور دیگر ریاستوں نے وفاقی دباؤ کے باوجود اپنی سرحدیں کھولنے سے انکار کیا ہے۔