آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

یورپ میں متاثرین 15 لاکھ سے زائد، چین کے شہر سوہلان میں لاک ڈاؤن نافذ

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ دو لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ میں نیو کووِڈ الرٹ سسٹم کا استعمال ہو گا جس کی مدد سے وائرس کی نشاندہی کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. شی جن پنگ شمالی کوریا میں کورونا کی صورتحال پر فکرمند، مدد فراہم کرنے کا عزم

    چین نے کہا ہے کہ جہاں تک اس کی صلاحیت ہے، وہ شمالی کوریا کی کورونا وائرس سے نمٹنے میں مدد کرے گا۔

    سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے ان خیالات کا اظہار شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے نام اپنے ایک خط میں کیا۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کی صورتحال اور اس کے لوگوں کی صحت کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں، اور انھوں نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کی اس کی کوششیں بارآور ثابت ہوئی ہیں۔

    اس سے قبل شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ کم جونگ اُن نے چین کے صدر کو ایک ذاتی پیغام میں کورونا وائرس کے خلاف کامیابی سے قابو پانے پر مبارکباد دی ہے۔

  2. امریکی نائب صدر مائیک پینس کی قریبی اہلکار میں کورونا کی تصدیق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی ویلے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ نائب صدر مائیک پینس کی پریس سیکریٹری کیٹی ملر کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔

    کیٹی ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار اور سخت گیر امیگریشن پالیسی کے حامی سٹیفن ملر کی اہلیہ ہیں اور نائب صدر پینس کے ساتھ اکثر و بیشتر سفر کرتی ہیں۔

    ٹرمپ اور پینس سمیت اندرونی حلقوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد میں پے در پے وائرس کی تشخیص کے بعد اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز افراد کو کورونا سے حفاظت فراہم کی جا رہی ہے یا نہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیلی میک اینانی نے صحافیوں کو بتایا، ‘ہم نے صدر کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن احتیاط کی ہے۔’

    وائٹ ہاؤس نے ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک پینس کی روز مرّہ کی بنیاد پر کورونا کی ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ اب تک امریکہ میں کورونا وائرس کے سبب 77 ہزار 180 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 12 لاکھ 83 ہزار 929 افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔

  3. افریقہ میں ایک لاکھ 90 ہزار تک ہلاکتیں ہو سکتی ہیں، عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ افریقہ میں اگر وائرس کو روکنے کے اہم اقدامات ناکام ہوگئے تو پہلے سال میں پورے برِ اعظم میں ایک لاکھ 90 ہزار تک لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔

    نئی تحقیق میں یہ بھی پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ وبا آئندہ چند سالوں تک باقی رہے گی۔

    عالمی ادارہ صحت کی سربراہ برائے افریقہ میٹشیدیسو موئتی کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر مخصوص علاقوں میں زیادہ افزائش پائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرض کی منتقلی کا ٹکڑوں میں بٹا اور سست رفتار رجحان افریقہ کو دیگر علاقوں سے ممتاز کر رہا ہے۔

    ادارے کی جانب سے وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برِاعظم افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک نائجیریا اور اس کے ساتھ جنوبی افریقہ اور آئیوری کوسٹ نے لاک ڈاؤن اقدامات میں نرمی کرنی شروع کر دی ہے۔

    اس تازہ ترین مطالعے میں کہا گیا ہے کہ افریقہ کے خطے میں وبا کے پہلے سال میں دو کروڑ 90 لاکھ سے چار کروڑ 40 لاکھ افراد اس مرض سے متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 83 ہزار سے ایک لاکھ 90 ہزار تک لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔

    افریقہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول کے مطابق اب تک پورے برِاعظم میں دو ہزار سے زیادہ افراد کورونا کے سبب ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس مغربی یورپ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے جہاں وائرس کئی ہفتوں پہلے پھیلا تھا۔

  4. کیا جون جولائی میں کورونا وائرس انڈیا میں تباہی مچانے والا ہے؟

  5. برطانیہ میں بورس جانسن کا خطاب کل متوقع، 'لاک ڈاؤں میں بڑی تبدیلیوں کی توقع نہیں رکھنے چاہیے'

    برطانیہ کے وزیرِ ثقافت اولیور ڈاؤڈن کا کہنا ہے کہ لوگوں کو وزیرِ اعظم بورس جانسن کے اتوار کو قوم سے خطاب میں لاک ڈاؤن سے متعلق بڑی تبدیلیوں کے اعلان کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

    بی بی سی کے پروگرام بریک فاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپنی تقریر میں بورس جانسن برطانیہ کے لیے ‘محتاط’ اقدامات کا اعلان کریں گے، نہ کہ فوری تبدیلیوں کا۔

    ڈاؤڈن نے کہا کہ وزیرِ اعظم اپنی تقریر (برطانوی وقت کے مطابق اتوار کی شام 7 بجے) ابتدائی طور پر پابندیوں میں محدود نرمی کا اعلان کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ‘لوگوں کو ان کی تقریر سے جو توقع رکھنی چاہیے، وہ یہ کہ وہ برطانیہ کی راہ متعین کریں گے۔ اور وزیرِ اعظم یہی کریں گے۔’

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک برطانیہ میں کورونا وائرس سے 31 ہزار 316 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو لاکھ 12 ہزار 629 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ویلز اپنے شہریوں کو گھر سے باہر ورزش کرنے کی اجازت دے گا جبکہ سکاٹ لینڈ کا کہنا ہے کہ یہ مختصر مدت میں وہ واحد چیز ہے جس پر وہ غور کر رہے ہیں۔

  6. لاک ڈاؤن میں وقت گزارنے کے طریقے نانیوں اور دادیوں کی زبانی

  7. گوگل اور فیس بک ملازمین سال کے آخر تک گھروں سے کام کر سکیں گے

    فیس بُک اور گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو باقی ماندہ سال میں بھی گھر سے کام کرنے کی اجازت دیں گے۔

    دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہونے والی ان دو کمپنیوں نے جلد ہی اپنے دفاتر کھولنے کا اعلان کیا ہے مگر کہا ہے کہ وہ گھر سے کام کرنے کے معاملے میں زیادہ لچک دکھائیں گے۔

    گوگل نے شروع میں گھر سے کام کرنے کی پالیسی یکم جون تک جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا مگر کمپنی اب اس میں سات ماہ کا اضافہ کر رہی ہے۔

    دوسری جانب فیس بُک نے کہا ہے کہ وہ 6 جولائی کو اپنے دفاتر کھولے گی۔

    گوگل کے چیف ایگزیکٹیو سندر پچائی نے کہا کہ جن ملازمین کو دفتر واپس آنے کی ضرورت ہے، وہ بہتر حفاظتی اقدامات کے ساتھ جولائی میں آ سکیں گے۔

    مگر انھوں نے کہا کہ زیادہ تر ملازمین جو گھروں سے کام کر سکتے ہیں، وہ ایسا سال کے آخر تک کر سکیں گے۔

    فیس بک کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی میں جو کوئی بھی گھر سے کام کر سکتا ہے، وہ سال کے آخر تک ایسا کرنے کے لیے آزاد ہے۔ ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ فیس بک ابھی بھی اس حوالے سے کام کر رہا ہے کہ کن ملازمین کو دفتر واپس آنے کے لیے کہا جائے گا۔

    یاد رہے کہ فیس بک ان اولین ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ہے جنھوں نے اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی تھی اور ساتھ ہی 1000 ڈالر کا بونس بھی دیا تھا۔

  8. بریکنگ, برازیل میں ایک دن میں ریکارڈ 751 اموات

    برازیل میں جمعے کو کورونا وائرس کے 10 ہزار 222 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 751 افراد ایک دن میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    یہ تعداد بدھ کو ریکارڈ کی گئی 615 اموات کی بلند ترین سطح سے بھی زیادہ ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اب تک برازیل میں ایک لاکھ 46 ہزار 894 افراد اس مرض سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ یہاں اموات کی تعداد 10 ہزار 17 ہوگئی ہے۔

  9. چین: مزید ایک شخص میں وائرس کی تصدیق، '15 نئے متاثرین میں علامات موجود نہیں'

    سنیچر کو چین کے قومی طبی محکمے نے اعلان کیا ہے کہ وہاں جمعے کو کورونا وائرس کا صرف ایک نیا مریض سامنے آیا ہے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو بھی چین میں صرف ایک ہی نئے متاثرہ فرد کی شناخت ہوئی تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ آٹھ مئی کو جس مریض میں کووِڈ-19 کی تشخیص ہوئی ہے، وہ یہ مرض باہر سے لے کر آیا۔

    کمیشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ جمعے کو 15 ایسے مریض بھی سامنے آئے جن میں علامات ظاہر نہیں ہو رہی تھیں، اور ایسے مریضوں کی تعداد جمعرات کو 16 تھی۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق چین میں کورونا وائرس متاثرین کی کُل تعداد اب 83 ہزار 976 ہوگئی ہے جبکہ کووِڈ-19 سے ہلاکتوں کی تعداد 4637 ہے۔

  10. برازیل میں وائرس پھیلنے سے 'پیراگوئے کی کامیابی' کو خطرہ ہے

    لاطینی امریکہ کے ملک پیراگوئے کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک برازیل میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پیراگوئے کی کووِڈ کے خلاف کامیابیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

    صدر ماریو ایبدو بینیٹیز نے کہا کہ پیراگوئے کے 563 متاثرین میں نصف سے زائد وہ ہیں جو برازیل سے آئے تھے۔

    پیراگوئے گذشتہ دو ماہ سے سخت لاک ڈاؤن میں ہے اور مرض کے حامل زیادہ تر لوگوں کو شیلٹرز میں قرنطینہ کیا جا رہا ہے۔

    اس دوران برازیل جنوبی امریکہ کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن چکا ہے۔

    جمعے کو وہاں 10 ہزار نئے متاثرین سامنے آئے جس کے بعد وہاں متاثرین کی کُل تعداد ایک لاکھ 45 ہزار 328 ہوگئی ہے۔

    اب تک برازیل میں 9900 افراد کورونا وائرس کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔

    پیراگوئے اور برازیل کے درمیان 400 کلومیٹر طویل سرحد ہے جس پر نگرانی زیادہ سخت نہیں ہوتی لیکن صدر بینیٹیز نے صحافیوں کو بتایا کہ سرحد کے ان حصوں پر فوج کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے جہاں سے ایسے لوگوں کے آنے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

    انھوں نے کہا: ‘برازیل ممکنہ طور پر وہ ملک ہے جہاں وائرس دنیا میں سب سے تیزی سے پھیل رہا ہے، اور یہ ہمارے ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔’

  11. پشاور کے ایک ہی گھر میں 11 مریض، چھوٹے مکانوں میں قرنطینہ کیسے کیا جائے؟

  12. امریکہ: آٹھ دہائیوں کی بدترین شرحِ بے روزگاری، 14.7 فیصد امریکی بے روزگار

    اپریل میں کورونا وائرس کے سبب امریکی معیشت کو نقصانات کے باعث امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 14.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    امریکہ میں اب تک دو کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور شرحِ بے روزگاری میں اضافہ 1930 کی دہائی کے بعد کسی بھی دور سے زیادہ ہے۔

    جب سے یہ وبا پھیلی ہے، تب سے امریکہ میں ایک دہائی میں معاشی نمو کے بدترین اعداد و شمار دیکھنے میں آ رہے ہیں جبکہ پرچون فروشوں کی جانب سے فروخت کی بدترین اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    صرف دو ماہ قبل ہی بے روزگاری کی شرح 3.5 فیصد تھی جو کہ 50 سال کی کم ترین سطح تھی۔

    امریکی محکمہ محنت کے اعداد و شمار کے مطابق معیشت کے ہر شعبے میں تنزلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    سب سے زیادہ متاثر سیر و سیاحت کا شعبہ ہوا جس میں 77 لاکھ یا 47 فیصد افراد کی ملازمتیں گئیں۔ طب اور تعلیم کے شعبے میں 25 لاکھ جبکہ پرچون کے شعبے میں 21 لاکھ افراد کو ملازمتوں سے نکالا گیا۔

    تاہم محکمہ محنت کا کہنا ہے کہ تین چوتھائی سے زیادہ افراد نے خود کو عارضی طور پر نکالا گیا قرار دیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ زیادہ تر بے روزگار افراد کو بھروسہ ہے کہ معیشت دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے گی۔

  13. بریکنگ, برطانیہ آنے والے لوگوں کے لیے '14 روزہ قرنطینے کے احکامات', ٹام بریج، ٹرانسپورٹ نامہ نگار، بی بی سی نیوز

    برطانوی فضائی کمپنیوں نے کہا ہے کہ انھیں حکومت نے مطلع کر دیا ہے کہ آئرلینڈ کے سوا دنیا کے کسی بھی ملک سے برطانیہ آنے والے لوگوں کے لیے 14 روزہ قرنطینے کے احکامات متعارف کروائے جائیں گے۔

    توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نئی پابندیاں رواں ماہ کے آخر میں نافذ العمل ہوں گی۔

    ایئرلائنز یو کے نامی تنظیم نے کہا ہے کہ اس پالیسی کو ‘اختتام کا قابلِ اعتبار’منصوبہ چاہیے ہوگا اور اس پر ہفتہ وار نظرِ ثانی کی جانی چاہیے۔

    برطانیہ آنے والے لوگوں کو کسی ذاتی رہائش گاہ پر خود ساختہ تنہائی اختیار کرنی پڑے گی۔

    حکومت اور ہوابازی کی صنعت میں موجود ذرائع نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ قرنطینے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ہوائی اڈے پر اس جگہ کا پتا فراہم کرنا پڑ سکتا ہے جہاں وہ خود کو قرنطینہ کریں گے۔

    یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ نئی سفری پابندی کب تک نافذ رہے گی اور یہ کہ کیا غیر ملکی شہریوں کو کرائے پر حاصل کی گئی رہائش گاہ میں رہنے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔

    سنیچر کی صبح وزیرِ ہوابازی کیلی ٹولہرسٹ ایک کانفرنس کال کے ذریعے فضائی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کے نمائندوں کو اس پالیسی پر وضاحت دیں گی۔

  14. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    اس وقت عالمی وقت کے مطابق رات کے 3 بج کر 44 منٹ ہو رہے ہیں۔ امریکی یونیورسٹی جانز ہاپکنز کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں کم از کم 39 لاکھ 38 ہزار 64 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ اس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 74 ہزار 898 تک پہنچ گئی ہے۔

    فی الوقت اموات کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں 77 ہزار 180 افراد اب تک مصدقہ طور پر اس مرض کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد برطانیہ کا نمبر ہے جہاں 31 ہزار 316، جبکہ اٹلی میں 30 ہزار 201 افراد اس مرض سے ہلاک ہوئے ہیں۔

  15. غریب کورونا، امیر کورونا

  16. امریکی ریاست نیو جرسی میں پارک کھل گئے

    امریکی ریاست نیو جرسی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے جس کے بعد پوری ریاست میں پارکوں کو کھول دیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے صحافی صباحت زکریا کی رپورٹ۔

  17. کئی مسلم ممالک میں وبا کے دوران پہلی بار مساجد میں نماز

    کئی مسلم ممالک میں ہفتوں پہلے مساجد بند کر دی گئی تھیں لیکن جمعہ کے روز انھیں پہلی بار نماز کے لیے کھولا گیا۔

    شام میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں جراثیم کش اقدامات کے بعد مساجد کو کھولا گیا اور نمازیوں میں ماسک بھی تقسیم ہوئے۔ ان مساجد میں نمازی فاصلہ رکھ کر کھڑے ہوئے اور امام نے خطبہ بھی دس منٹ تک ہی رکھا۔

    بنگلہ دیش میں بھی مساجد میں نماز ادا کی گئی۔ اسی طرح ایران کے 180 شہروں اور قصبوں میں لوگ جمعہ کو مساجد میں جا سکے۔ تاہم تہران اور کچھ دوسرے علاقوں میں مساجد بند رہیں۔

    تاہم جنوبی سوڈان، الجیریا، تیونس اور مراکش ان ممالک میں شامل ہیں جہاں ابھی لوگ گھر پر ہی نماز ادا کر رہے ہیں۔

  18. اٹلی 30 ہزار ہلاکتوں والے ممالک میں شامل

    اٹلی یورپی یونین کا وہ پہلا ملک ہے جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

    جمعے کو وہاں مزید 243 اموات ہوئیں۔ یہ تعداد گذشتہ روز کی 274 ہلاکتوں سے کچھ کم ہے۔ اب ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 30201 ہو گئی ہے۔

    ملک میں مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد 217185 ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے کیسوں میں ہلکی سی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تازہ اعداد کے مطابق ایک دن میں 1327 مصدقہ کیس سامنے آئے۔

    برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ بدھ کو ہوئی جبکہ اب اٹلی کے بعد متاثرین میں سپین کا نمبر ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

    اٹلی یورپی یونین کا وہ پہلا ملک ہے جس نے اپنے شمالی علاقے میں فروری میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا تھا جب وہاں کورونا وائرس کے کیس سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔

    اب اٹلی نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کر دی ہے لیکن سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ مصروف علاقوں میں بھی سماجی دوری کے ضابطوں پر عمل نہیں کر رہے اور نہ ہی حفاظت کے لیے ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔

  19. شام میں اجتماعی افطار سے کورونا کے پھیلاؤ کا خدشہ

    یہ تصاویر شام کے ان علاقوں کی ہیں جو جنگجوؤں کے قبضے میں ہیں اور وہاں لوگ معمول کے مطابق افطار کی تیاری کر رہے ہیں۔

    جنگ زدہ ملک شام میں اپریل میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومتی اقدامات کاآغاز کیا گیا تھا لیکن تباہ شدہ گھروں اور نکاسی آب کی ناقص صورتحال میں یہاں کے مکینبوں کے لیے سماجی دوری اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔

    یہ ادلب کے مغرب میں عطارب نامی علاقہ ہے جہاں یہ سب لوگ روزہ کھولنے کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے یہاں شہری دفاع کے اہلکاروں نےجراثیم کش سپرے کیا تھا۔

    جمعے کو حکومتی کنٹرول کے علاقوں میں دو نئے کیس سامنے آئے تھے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان نئے کیسوں کے بعد ملک میں کل کیسوں کی تعداد 64 ہو گئی ہے۔

    اب تک شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں کسی کورونا کیس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 40 لاکھ کی آبادی کے ملک شام میں اب تک فقط چند سو ٹیسٹ ہی کیے جا سکے ہیں۔

  20. وائرس سے انسانی اعضا میں سوزش بھی ہو سکتی ہے: ڈبلیو ایچ او

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ شواہد ملے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کچھ مریضوں کے جسمانی اعضا میں سوزش کی شکایت بھی ہوئی ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ادارے سے منسلک ڈاکٹر مائک ریان نے بتایا کہ وائرس انسان کے جسم میں موجود خون کی نالیوں پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی اعضا ناکارہ ہو سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کچھ مریضوں کو دل کی شریانوں میں سوزش ہوئی یا وہ دماغ میں سوزش کا شکار ہوئے۔ تاہم اب تک دکھائے گئے شواہد کے مطابق یہ وائرس عملِ تنفس میں سوزش پیدا کرتا ہے۔

    ڈبیلو ایچ او کے ماہر کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ادارہ وائرس کے صحت پر مختلف اثرات سے متعلق ڈیٹا بھی اکٹھا کر رہا ہے۔

    ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وائرس کی نکاسی آب میں موجودگی کا ٹیسٹ بھی ہو رہا ہے یا پھر اس کی انیٹی باڈیز کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ دونوں طریقے مددگار ہوں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ ہم اس پریشان کن سچ کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ وائرس کو کنٹرول کرنا اور روکنا عوامی صحت کی سختی سے نگرانی سے ہی ممکن ہو گا۔