مشرق وسطیٰ کے لیے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے پریشان ہونے کی بہت سی وجوحات ہیں مگر جہاں تک اس کا مقابلہ کرنے کی بات ہے تو اس خطے کو باقی جگہوں کے مقابلے میں فوقیت حاصل ہے۔ اس خطے کی زیادہ تر آبادی کم عمر ہے۔
کچھ اندازوں کے مطابق 60 فیصد کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ اس وجہ سے ان کو کورونا وائرس لگنے کا امکان باقیوں کی نسبت کم ہے، ایسے ممالک جن کی آبادی میں بڑی عمر کے افراد کی تعداد زیادہ ہے وہاں اس بیماری سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔
خطے کے بیشتر ممالک نے جب باقی جگہ حالات دیکھے تو انھیں کرفیو اور سماجی فاصلوں کے نفاذ کے لیے وقت مل گیا مگر یہیں اس خطے کو باقی دنیا پر حاصل فوقیت ختم ہو گئی۔ کئی برسوں کے عدم استحکام کی وجہ سے نظام میں کمزوریاں بڑھ گئی ہیں اور جو اس عالمی وبا کی وجہ سے مزید بڑھیں گی۔
طبی سہولیات کہیں ہیں اور کہیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسرائیل کے ہسپتال دنیا کے بہترین ہسپتالوں کی طرح ہیں۔ یمن، شام اور لیبیا میں نظام صحت جو پہلے بھی اتنا اچھا نہیں تھا اُسے کئی برسوں کی جنگ کی وجہ سے یا شدید نقصان پہنچا ہے یا کچھ جگہوں پر یہ نظام تباہ ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن پہلے ہی دنیا کے بد ترین انسانی بحران کا شکار ہے اب یہاں کووڈ 19 کے کیس ہیں جو تیزی سے مفلسی کا شکار گنجان آبادیوں والے علاقوں میں پھیلیں گے۔