پیر کو کورونا وائرس کی ویکیسن سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس میں امریکہ کی غیر حاضری معنی خیز تھی اور اس بحران کے آغاز سے ہی امریکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے سمیت دیگر اہم امور پر دنیا کی قیادت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
اس کانفرنس سے غائب اہم ممالک میں صرف امریکہ ہی نہیں تھا بلکہ روس نے بھی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔ اس کانفرنس میں چین کے یورپی یونین سے متعلق سفیرنے شرکت کی لیکن چین نے بھی ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔
امریکی حکام کا اصرار ہے کہ ویکسین کی تیاری کے لیے پہلے ہی بڑے پیمانے پر حکومتی اور نجی اداروں کی فنڈنگ ہو رہی ہے۔ تاہم فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکیسن تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کے بہت سے اور ممالک کی بھی تائید حاصل ہے۔ ان ممالک میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔
ڈر محض اس بات کا نہیں ہے کہ چین اور امریکہ دوسرے ممالک کو یہ ویکیسن دینے سے انکار کر دیں گے۔
ان ممالک کے خیال میں اس وقت اس وبا سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر آبادی متاثر ہوئی ہے اور ان سب تک اس ویکسین کے نسخے پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس ویکسین پر تحقیق، تیاری اور تقسیم کے مراحل کے لیے ایک مرکزی اور مشترکا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سوچ پہلے امریکہ پر چل رہے ہیں۔۔ اب ان کے دوبارہ انتخابات کے قریب اس سوچ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔