آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانیہ: مذہبی رسومات کے لیے’ وقت مناسب نہیں‘، مقامی میڈیا کی فلاح کے لیے اخبار خریدنے کی اپیل

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 36 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 58 ہزار سے زیادہ ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 649 اموات ہوئی ہیں، جس سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد 30 سے بڑھ گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ورجن اٹلانٹک: دنیا بھر میں 3 ہزار 150 نوکریاں ختم کرنے کا اعلان

    ہم نے آپ کو اس سے پہلے بتایا تھا کہ ورجن اٹلانٹک 3000 نوکریا ختم کر رہی ہے۔

    ایئر لائن نے اب وضاحت کی ہے کہ دنیا بھر میں 3 ہزار 150 نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں اور وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ہر ملک میں کتنی کٹوتیاں ہوں گی لیکن زیادہ تر نوکریاں برطانیہ میں ختم کی جائیں گی۔

  2. کیا 2019 کے آخر میں کورونا وائرس یورپ میں آچکا تھا؟, مشعل رابرٹس، ہیلتھ ایڈیٹر، بی بی سی نیوز آن لائن

    کیا یورپ میں کورونا وائرس 2019 کے آخر میں اس وقت سے بھی پہلے سے موجود تھا جب باقاعدہ طور پر اس کی تشخیص ہوئی اور اسے ایک خطرہ قرار دیا گیا؟ ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے پیرس میں کرسمس کے فوراً بعد ایک ایسے مریض کا اعلاج کیا تھا جن میں اس وائرس کی تمام علامات تھیں۔

    تو کیا اس سے اس بات پر فرق پڑتا ہے کہ ہم اس وبا کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ وہ تشخیص غلط ہو تو پھر تو کچھ نہیں بدلتا۔

    لیکن اگر اس ڈاکٹر کا کہنا درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تمام نظریں مشرق میں چین کے شہر وہان پر لگی تھیں تو اس وقت یورپ میں یہ وائرس موجود تھا اوں کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔

    یقیناً اگر یورپ کی لیبارٹریوں میں ان مریضوں کے نمونے موجود ہیں جو اس دوران تمام علامات کے ساتھ بیمار تھے تو ان کا ٹیسٹ کیا جائے تاکہ اس بیماری کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں۔

  3. کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین ’ذخیرہ‘ کر سکتے ہیں؟

  4. کیا کورونا وائرس پینے کے پانی میں زندہ رہ سکتا ہے؟

  5. کورونا وائرس: ممالک جہاں ہلاکتیں کم اور اور وہ جہاں بڑٌھ رہی ہیں

    کئی ممالک میں روزانہ کی بنیادوں پر وائرس سے ہونے والی اموات میں کمی آ رہی ہے لیکن کئی میں یہ اب بھی بڑھ رہی ہیں جیسا کہ برازیل، روس، میکسیکو اور پیرو۔

  6. پیرس کی کچھ سڑکیں صرف سائیکل چلانے کے لیے دوبارہ کھلیں گی

    اگلے ہفتے سے پیرس کی کچھ مصروف ترین سڑکیں تقریباً 50 کلومیٹر تک صرف سائیکل سواروں کے لیے کھلی رہیں گی۔ لاک ڈاؤن میں اس نرمی کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ پر رش کم کرنا ہے۔

    ابھی پیرس کی صرف دو سڑکوں کو اس مقصد کے لیے کھولا جائے گا۔ مزید تیس سٹریٹس کو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔

    میئر این ہڈالگو کا کہنا ہے کہ کچھ سڑکوں کو مستقل بند رکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ پیرس میں بسنے والوں کی اکثریت کاروں اور آلودگی کو واپس نہیں دیکھنا چاہتی۔

    فرانسیسی حکومت نے سائیکلنگ میں اضافے کے لیے 22 ملین ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس میں سائیکل کی مرمت یا بحالی کے لیے 50 یورو کی سائیکل کی مرمت کی سبسڈی بھی شامل ہے۔

  7. بریکنگ, ورجن اٹلانٹک کا برطانیہ میں 3 ہزار نوکریاں ختم کرنے کا اعلان

    ورجن اٹلانٹک نے وبا کی وجہ سے برطانیہ میں 3 ہزار نوکریاں ختم کرنے اور لندن گیٹوِک ایئرپورٹ پر اپنے آپریشن دوبارہ بحال نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایئر لائن کے تقریباً دس ہزار ملازمین ہیں۔ ورجن اٹلانٹک نے وبا کے دوران گیٹوک ایئرپورٹ پر اپنی سروسز معطل ر دی تھیں اور اب انھیں دوبارہ نہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ورجن اٹلانٹک برطانوی حکومت کو ہنگامی امداد کے لیے درخواست دینے کے عمل میں ہے۔

    کمپنی نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ سنہ 2022 کے موسم گرما تک طیاروں کی تعداد 45 سے کم کر کے 35 کر دی جائے گی۔

  8. مختصر دورانیے کے فٹ بال میچز کی تجویز

    اگر فٹبال سیزن دوبارہ شروع ہو سکتا ہے تو انگلش پروفیشنل فٹبالرز ایسوسی ایشن (پی ایف اے) کے سربراہ نے کھلاڑیوں پر بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کم دورانیے کے میچز کھیلنے کے امکان کو بڑھا دیا ہے۔

    انگلش کلب کھلاڑیوں کی ویلفیئر سے متعلق شدید تحفظات کے باوجود اس مہم کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    کھلاڑیوں کو ہفتے میں تین بار ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے اور کئی ہفتوں تک اپنے اہل خانہ سے دور ہوٹلوں میں قرنطینہ میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ ان کی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے خطرے کو کم کرسکیں۔

    پریمیئر لیگ سیزن کے 92 میچز ابھی بھی کھیلے جانے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کھلاڑیوں کو گروپ ٹریننگ میں اپنی فٹنس پر توجہ دینے کے لیے تھوڑا سا ابتدائی وقت مل سکتا تھا اس سے پہلے کہ وہ ہفتہ میں دو بار کھیلنے کے لیے میدان میں اترتے۔

    فیفا نے تجویز دی ہے کہ کھلاڑیوں کی واپسی پر تھکاوٹ اور زخمی ہونے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہر ٹیم میں متبادل افراد کی تعداد کو تین سے بڑھا کر پانچ کیا جائے۔

  9. سماجی فاصلہ: ایئر لنگس کمپنی کا پروازوں کے طریقہ کار پر از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ

    فضائی کمپنی ایر لنگس کا کہنا ہے کہ کمپنی کی ایک پرواز میں سماجی فاصلے کے اصول کو مدنظر نہیں رکھے جانے سے متعلق شکایت کے بعد پروازوں کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    ایک مسافر شان میلن نے ہیتھرو ایئرپورٹ آنے والی ایک پرواز میں تصاویر لیں جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ زیادہ تر مسافر ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوئے ہیں۔

    شان نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے میں 95 فیصد نشستیں بھری ہوئی تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس پرواز پر سوار ہونے کے لیے مسافر بالکل اسی طرح لائن بنا کر کھڑے ہوئے تھے جس طرح اس وبا سے پہلے ہوتا تھا۔

    شان میلن کا جو برطانیہ کام کی غرص سے آ رہے تھے، کہنا ہے کہ اس پرواز پر عملے نے کسی قسم کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

    ایئرپورٹ پہنچنے پر انھوں نے مسافروں کو ہاتھ دھونے کی ترغیب دی مگر سینٹائزر نہیں دیا گیا۔

    یہ شمالی آئرلینڈ سے لندن آنے والی ایک پرواز تھی۔

    ایئر لِنگس کا کہنا ہے کہ مسافروں کی حفاظت اس کی اول ترجیچ ہے اور اب پروازوں کی پالیسی میں ضروری نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی۔

  10. سپین: کووڈ 19 کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 19 ہزار سے تجاوز کر گئی

    سپین کی وزارتِ صحت کے مطابق منگل کو ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 218011 سے بڑھ کر 219329 ہو گئی ہے۔

    پیر کے مقابلے میں اموات کی تعداد بھی 25428 سے بڑھ کر 25613 ہو گئی ہے۔

  11. بریکنگ, کورونا وائرس: دنیا میں مصدقہ متاثرین 36 لاکھ سے زیادہ

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 36 لاکھ 3 ہزار 217 ہوگئی ہے۔

  12. کورونا وائرس: ’یورپ میں کووڈ 19 اندازوں سے ایک ماہ پہلے ہی آچکا تھا‘

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مزید پرانے مریض سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔

    یہ تنبیہ اس بات کے بعد سامنے آئی ہے جب ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اس نے نمونیا میں مبتلا مریض کے نمونے کا تجربہ گذشتہ سال 27 دسمبر کو کیا تھا اور پتہ چلا کہ اس میں کورونا وائرس بھی موجود تھا۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ میں کووڈ 19 اندازوں سے ایک ماہ پہلے ہی آچکا تھا۔

    جینیوا میں بات کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کرسٹین لنڈمیئر کا کہنا تھا کہ وہ اس خبر پر بالکل بھی حیران نہیں ہوئے ہیں۔

    انھوں نے دوسرے ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس وبائی مرض کی ایک نئی اور واضح تصویر سامنے لانے میں مدد کے لیے سال 2019 کے آخر سے اپنے طبی ریکارڈ کا ازسر نو جائزہ لیں۔

  13. برطانوی سائنسی مشیر: رش والی جگہوں پر ماسک پہننا فائدہ مند ہو سکتا ہے

    برطانوی حکومت کے چیف سائنسی مشیر سر پیٹرک ویلانس ہیلتھ اور سوشل کیئر کمیٹی کے سامنے وائرس سے متعلق حقائق پیش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کمیٹی اجلاس کو بتایا کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ماسک پہننے کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور کچھ ایسا وقت آئے گا جب لوگوں کو ماسک پہننے کا کہنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    ان کے مطابق ایسی رش والی جگہوں پرماسک کا فائدہ ہو سکتا ہے جہاں سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ممکن نہ رہے۔ اس وجہ سے ایسی جگہوں پر ماسک پہننا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    سر پیٹرک نے واضح کیا کہ سماجی فاصلے اور ہاتھ دھونے جیسے اصولوں پر عمل کرنا انہتائی اہمیت کا حامل ہے جبکہ ماسک پہننے کو بھی ترک نہیں کرنا چائیے۔

    ان کے مطابق اس حوالے سے انھوں نے یہ حقائق حکومتی وزار کو دیے ہیں اور اب یہ ان پرمنحصر ہے کہ وہ کس حد تک اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

  14. کورونا:جانوروں سے انسانوں میں منتقلی کی کڑیاں شاید کبھی نہ ملیں

  15. ویکسین فنڈنگ کانفرنس: امریکہ غیر حاضر، بڑی طاقتوں کی عدم دلچسپی, جوناتھن مارکس، بی بی سی کے سفارتی اور دفاعی نامہ نگار

    پیر کو کورونا وائرس کی ویکیسن سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس میں امریکہ کی غیر حاضری معنی خیز تھی اور اس بحران کے آغاز سے ہی امریکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے سمیت دیگر اہم امور پر دنیا کی قیادت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

    اس کانفرنس سے غائب اہم ممالک میں صرف امریکہ ہی نہیں تھا بلکہ روس نے بھی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔ اس کانفرنس میں چین کے یورپی یونین سے متعلق سفیرنے شرکت کی لیکن چین نے بھی ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔

    امریکی حکام کا اصرار ہے کہ ویکسین کی تیاری کے لیے پہلے ہی بڑے پیمانے پر حکومتی اور نجی اداروں کی فنڈنگ ہو رہی ہے۔ تاہم فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکیسن تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

    یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کے بہت سے اور ممالک کی بھی تائید حاصل ہے۔ ان ممالک میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

    ڈر محض اس بات کا نہیں ہے کہ چین اور امریکہ دوسرے ممالک کو یہ ویکیسن دینے سے انکار کر دیں گے۔

    ان ممالک کے خیال میں اس وقت اس وبا سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر آبادی متاثر ہوئی ہے اور ان سب تک اس ویکسین کے نسخے پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس ویکسین پر تحقیق، تیاری اور تقسیم کے مراحل کے لیے ایک مرکزی اور مشترکا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سوچ پہلے امریکہ پر چل رہے ہیں۔۔ اب ان کے دوبارہ انتخابات کے قریب اس سوچ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

  16. ویلز: لاک ڈاؤن میں جلدی نرمی کرنا خطرناک ہو گا

    برطانیہ میں صحت کے لیے ویلز کے چیف سائنسی مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن جیسے اقدامات میں بہت جلدی نرمی کی گئی تو کورونا وائرس ’انتقام لینے دوبارہ واپس آئے گا۔‘

    ڈاکٹر روڈ آرفورڈ نے کہا کہ ’انتہائی محتاط ہونے اور محتاط انداز‘ اپنانے کی ضرورت ہے۔

    برطانیہ کے وزیر مارک ڈریک فورڈ کا کہنا ہے کہ ویلز میں کووڈ 19 کے ’عروج کا وقت گزر چکا ہے‘ اور وزرا جلد ہی گھروں میں رہنے والی پابندی کا جائزہ لینے والے ہیں۔

    ویلز میں کورونا وائرس کے باعث 1000 اموات ہوئیں جبکہ تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 10000 ہے اور ڈاکٹر آرفورڈ کے مطابق آگے کئی ایسے دن آئیں گے جب وائرس عروج پر ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’دوسری اور تیسری لہر کا خطرہ ہمیشہ موجود ہے۔‘

    کچھ سٹورز پہلے ہی جزوی طور پر دوبارہ کھل چکے ہیں جبکہ کچھ لوگ اور کاروباری افراد لاک ڈاؤن کے چھ ہفتوں کے بعد دوبارہ کام پر واپس جانا چاہتے ہیں - لیکن ڈاکٹر آرفورڈ اور این ایچ ایس کے فرنٹ لائن پر موجود معالجین لاک ڈاؤن میں نرمی کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔

  17. چین مخالف جذبات پر چین بے چین

    چین کی ریاستی سلامتی کی وزارت نے صدر شی جن پنگ سمیت بیجنگ کے اعلی رہنماؤں کے سامنے ایک داخلی رپورٹ پیش کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1989 میں تیان مین سکوائر کریک ڈاؤن کے بعد سے چین کے خلاف عالمی جذبات بلند ترین سطح پر ہیں اور اس کا نتیجہ امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔

    امریکہ نے چین پر وائرس سے متعلق ابتدائی معلومات کو دبانے اور درست معلومات نہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ وائرس سب سے پہلے چین کے وسطی شہر ووہان سے سامنے آیا تھا۔

    بیجنگ بار بار ان الزامات کی تردید کرتا آ رہا ہے کہ اس نے وائرس کے پھیلاؤ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔

    چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات دہائیوں بعد بد ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے چین پر غیر منصفانہ تجارت اور ٹیکنالوجی کے طریقہ کار سے متعلق الزامات کے علاوہ ہانگ کانگ اور تائیوان کی صورتحال کے باعث بھی اس کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

  18. امریکی خاندان نے ’ماسک پالیسی نافذ کرنے پر‘ دکان کے گارڈ کو قتل کر دیا

    امریکہ میں ایک خاتون، ان کے شوہر اور بیٹے کو ایک سکیورٹی گارڈ کو قتل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ گارڈ نے اس خاندان کی بیٹی کو چہرہ ڈھانپے بغیر دکان میں داخلے سے منع کردیا تھا۔

    امریکی کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں سے ایک میشی گن کے فلنٹ، فیملی ڈالر سٹور کے 43 سالہ گارڈ کیلون منرلن کو جمعہ کے روز سر کے پچھلے حصے میں گولی ماری گئی۔

    45 سالہ شرمیل ٹیگ کی بیٹی کو یہ بتانے کے بعد کہ وہ ماسک کے بغیر دکان میں نہیں آسکتی ہیں، کیلون پر حملہ کر دیا گیا۔

    شرمیل ٹیگ کے شوہر 44 سالہ لیری ٹیگ اور ان کے بیٹے رامونیہ بشپ پر الزام ہے کہ اس کے فورا بعد ہی انھوں نے سٹور میں جا کر منرلن پر جان لیوا حملہ کردیا۔

    شرمیل ٹیگ کو گرفتار کرلیا گیا ہے لیکن باقی دونوں افراد ابھی تک فرار ہیں۔ ان تینوں افراد کو فرسٹ ڈگری قتل اور اسلحہ رکھنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

    لیری ٹیگ پر گورنر کے اس حکم کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے سٹوروں کے اندر چہرے کو ڈھکے رکھیں۔

    ان کی بیٹی پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔

  19. برطانیہ: کیئر ہومز میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں مزید اضافہ

    برطانیہ میں اعدادوشمار کے قومی ادارے (او این ایس) کے مطابق 24 اپریل کو اختتام ہفتہ کے دوران برطانیہ کے کئیر ہومز میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد بڑھ کر 7811 ہوگئی۔

    اس مدت کے دوران ملک بھر میں کوورنا وائرس سے ہونے والی اموات کی یہ تقریباً ایک تہائی تعداد ہے۔ زیادہ اموات ہسپتالوں میں ہوئیں۔

  20. وبا کے باعث ’ایک چین‘ کا معاملہ دوبارہ توجہ کا مرکز

    تائیوان کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز عالمی ادارہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوورنا وائرس کی وبا کے دوران چین کے کنٹرول کو ’ختم کردیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے بجائے صرف تائیوان کی جمہوری طور پر منتخب حکومت ہی عالمی سطح پر اپنے عوام کی نمائندگی کر سکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین جزیرے کو اپنا ایک صوبہ سمجھتا ہے اس لیے تائیوان کو عالمی ادارہ صحت سے خارج کر دیا گیا تھا۔ لیکن چین کے اس اعتراض نے تائپے کے غصے میں اضافہ کیا ہے جس کا کہنا ہے کہ اس سے کورونا وائرس کے خلاف عالمی لڑائی میں ایک خطرناک خلا پیدا ہوا ہے۔

    تائیوان ایک مبصر کی حیثیت سے عالمی ادارہ صحت کے زیرِ اہتمام ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اس ماہ ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے لابنگ کر رہا ہے، حالانکہ حکومت اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اس اقدام میں رکاوٹیں کھڑی کرے گا۔

    پیر کوعالمی ادارہ صحت کے پرنسپل قانونی افسر سٹیون سلیمان کا کہنا تھا کہ 1971 سے اقوام متحدہ کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے عوامی جمہوریہ چین کو ’چین کے ایک جائز نمائندہ‘ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اور یہ کہ تائیوان کی حاضری سے متعلق عالمی ادارہ صحت کے 194 ممبر ممالک سے پوچھا جانا چاہیے۔

    تائیوان کی وزارت خارجہ کی ترجمان جوآن او کا کہنا تھا کہ 1971 کا فیصلہ جس کے تحت بیجنگ نے تائپے سے اقوام متحدہ کی چین کی نشست سنبھالی، نے صرف چین کی نمائندگی کے مسئلے کو حل کیا، نہ کہ تائیوان کے مسئلے کو۔ اور اس فیصلے میں چین کو بین الاقوامی سطح پر تائیوان کی نمائندگی کا اختیار نہیں دیا کیا گیا۔