برطانوی وزیر اعظم کی پیر کو کام پر واپسی متوقع، سپین میں یومیہ اموات میں ریکارڈ کمی

کورونا وائرس سے دنیا میں 28 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے نائب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باعث تین ہفتوں تک کام پر نہ جانے کے بعد وزیرِ اعظم اب دفتر میں واپسی کے لیے بے تاب ہیں۔وزیرِ اعظم جانسن ایک ہفتہ ہسپتال میں بشمول تین راتیں انتہائی نگہداشت میں گزارنے کے بعد کل سے ڈاؤننگ سٹریٹ میں کُل وقتی فرائض دوبارہ سنبھالیں گے۔

لائیو کوریج

  1. جارج یوسٹیس: 'سرحدیں بند نہ کرنے کا سوچا سمجھا فیصلہ لیا گیا ہے'

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت برطانیہ آنے والے غیر ملکی مسافروں کے لیے قرنطینے کے احکامات جاری کرے گی، تو ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب برطانیہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، تو مستقبل میں کسی نہ کسی موقعے پر ‘غیر ملکی سفر سنبھالنے کی صلاحیت سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔’

    انھوں نے کہا کہ اب تک ہوائی اڈوں پر کچھ ہی اضافی اقدامات کیے گیے ہیں کیونکہ بین الاقوامی سفر سے ‘چند ہی مصدقہ متاثرین’ سامنے آئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے ‘سرحدیں بند نہ کرنے کا ایک سوچا سمجھا فیصلہ’ کیا ہے تاکہ ‘تجارت جاری رہے۔’

  2. برطانیہ: کورونا وائرس کے سبب ہسپتالوں میں مزید 413 افراد ہلاک

    برطانیہ، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ کے وزیرِ ماحولیات جارج یوسٹیس آج برطانوی حکومت کی کورونا وائرس پر یومیہ بریفنگ دے رہے ہیں۔

    اپنی بریفنگ کے آغاز میں انھوں نے بتایا کہ برطانیہ میں مزید 413 افراد ہسپتالوں میں ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد برطانیہ کے ہسپتالوں میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 20 ہزار 732 ہوگئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت یومیہ 50 ہزار ٹیسٹ تک بڑھ گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کیئر ہومز میں موجود لوگوں کی ‘بڑی تعداد’ کے اب ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

    وزیرِ ماحولیات نے اس حوالے سے بھی بات کی کہ قومی لاک ڈاؤن کے دوران خوراک کے فراہم کنندگان کیسے کام کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ خود ساختہ تنہائی اور بیماری کی وجہ سے عملے کی غیر حاضری خوراک کے شعبے میں کافی کم ہوئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران یہ شرح 20 فیصد تھی جبکہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر یہ 10 فیصد سے کم رہ گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ طبی مسائل کے شکار لوگوں کو کھانے کے پانچ لاکھ پارسل بھیجے گئے ہیں کیونکہ انھیں ‘بحفاظت’ 12 ہفتوں تک اندر رہنا ہے۔

    اس کے علاوہ سپرمارکیٹس نے ایسے افراد کو تین لاکھ ترجیحی ڈیلیوریاں کی ہیں۔

    جارج یوسٹیس نے مزید بتایا کہ سپرمارکیٹس نے ڈیلیوری کی صلاحیت کو 21 لاکھ سے بڑھا کر 26 لاکھ کر لیا ہے اور اگلے دو ہفتوں میں اس میں مزید تین لاکھ کا اضافہ ہوگا۔

    لیکن انھوں نے اعتراف کیا کہ یہ بھی ‘طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔’

  3. وزیرِ اعظم بورس جانسن 'واپسی کے لیے بے تاب ہیں'

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے نائب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باعث تین ہفتوں تک کام پر نہ جانے کے بعد وزیرِ اعظم اب دفتر میں واپسی کے لیے بے تاب ہیں۔

    وزیرِ اعظم جانسن ایک ہفتہ ہسپتال میں بشمول تین راتیں انتہائی نگہداشت میں گزارنے کے بعد کل سے ڈاؤننگ سٹریٹ میں کُل وقتی فرائض دوبارہ سنبھالیں گے۔

    ان کی غیر موجودگی میں ان کی نیابت کرنے والے سیکریٹری خارجہ ڈومینیک راب نے بی بی سی کے اینڈریو مار کو بتایا کہ ان کی واپسی سے ‘عوام کا حوصلہ بڑھے گا۔’

    طبی مشورے پر وزیرِ اعظم جانسن اپنی سرکاری رہائش گاہ چیکرز پر کوئی باضابطہ کام نہیں کر رہے۔

    مگر گذشتہ ہفتے انھوں نے ملکہ برطانیہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کی اور اس کے علاوہ وبا پر برطانیہ کے ردِعمل کا اگلے مرحلہ متعین کرنے کے لیے سینیئر وزرا سے ملاقات بھی کی۔

  4. انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں مزید 368 افراد کورونا سے ہلاک

    ہسپتالوں سے حاصل ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں مزید 368 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

    برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے کہا ہے کہ 336 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جس سے ہلاکتوں کی کُل تعداد 18 ہزار 420 تک پہنچ گئی ہے۔

    ویلز میں مزید 14 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں جس کے بعد وہاں 788 جبکہ سکاٹ لینڈ میں 18 مزید ہلاکتوں کے بعد کُل ہلاکتیں 1249 ہوگئی ہیں۔

    ان اعداد و شمار میں کیئر ہومز یا دیگر جگہوں پر ہلاک ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔

    برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے تازہ ترین مجموعی اعداد و شمار بعد میں موصول ہونے کی توقع ہے۔

  5. اوشوتز حراستی کیمپ سے بچ جانے والے بیلجیئین شہری کورونا سے ہلاک

    ہینری کشکا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنجنوری 2005 میں لی گئی اس تصویر میں ہینری کشکا (درمیان میں) اوشوتز 2 برکیناؤ کیمپ میں امریکی سیاحوں کے ایک گروہ سے بات کر رہے ہیں۔

    ہولوکاسٹ میں بچ جانے والے بیلجیئم کے ہینری کِشکا کورونا وائرس کے سبب 94 سال کی عمر میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    انھیں ان کے خاندان سمیت بیلجیئم سے حراستی مراکز تک لے جایا گیا تھا جہاں کشکا نے ستمبر 1942 سے اپریل 1945 تک نازیوں کے حراستی مراکز میں ڈھائی سال گزارے۔

    جنگ کے بعد وہ بیلجیئم واپس لوٹ آئے۔ حالیہ سالوں میں انھوں نے ایک یادداشت لکھی اور سکولوں میں لیکچرز بھی دیے۔

    کشکا نے جنوری میں اوشوتز کے حراستی مرکز کے آزاد کروائے جانے کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر بی بی سی سے خصوصی گفتگو بھی کیتھی۔

  6. سعودی عرب میں پابندیوں میں نرمی کر دی گئی

    کورونا، سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سعودی عرب میں اتوار کو کچھ پابندیوں میں نرمی کر دی گئی ہے۔

    24 گھنٹے طویل کرفیو کو اٹھا لیا گیا ہے اور لوگ اب صبح نو سے شام پانچ بجے تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں گے۔

    بدھ سے تمام دکانوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور کچھ فیکٹریاں اپنے کام شروع کر دیں گی۔

    ان پابندیوں میں نرمی ماہِ رمضان کے ابتدائی دو ہفتوں کے لیے کی گئی ہے اور ان کا اطلاق ان مقامات پر نہیں ہوگا جہاں سماجی دوری برقرار نہیں رکھی جا سکتی، جن میں جم اور ریستوران شامل ہیں۔

    مکہ اور مدینہ کے شہر اور پہلے سے قرنطینے میں موجود علاقے اب بھی لاک ڈاؤن میں رہیں گے۔

    سعودی عرب میں اب تک 16 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 136 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

  7. بریکنگ, سپین: یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 20 مارچ سے اب تک کی کم ترین سطح پر

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپین میں 20 مارچ سے اب تک کم ترین یومیہ ہلاکتوں کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

    اتوار کو یہاں کورونا وائرس کے سبب 288 ہلاکتیں ہوئیں جو کہ سنیچر کو ریکارڈ کی گئی 378 اموات سے کہیں کم ہے۔

    وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی کُل تعداد اب 23 ہزار 190 ہے۔

    سپینش ہیلتھ الرٹ اینڈ ایمرجنسی کوآرڈینیشن سینٹر کے ڈائریکٹر فرنینڈو سائمن نے کہا کہ ‘ایک طویل عرصے میں پہلی مرتبہ اموات کی تعداد 300 سے نیچے ہے۔'

    انھوں نے کہا کہ ‘یہ اعداد و شمار بتانا بھی مشکل ہے، لیکن یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وبا ایک واضح اور مثبت راستے پر ہے۔’

    اتوار کو سپین نے 14 سال سے کم عمر بچوں کو چھ ہفتوں میں پہلی مرتبہ گھر سے نکلنے کی اجازت دی۔

    لاک ڈاؤن کے ضوابط نے ان کے گھر سے نکلنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اب وہ روزانہ صبح نو بجے سے رات نو بجے کے درمیان ایک گھنٹہ باہر جا سکیں گے۔

  8. سوئیڈن، ازابیلا لووین، کورونا وائرس، کورونا،

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوئیڈن میں اب تک سماجی پابندیوں کے معاملے میں کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نرمی ہے۔

    نائب وزیرِ اعظم ازابیلا لووین نے بی بی سی کے اینڈریو مار پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وبا ‘میراتھون ہے، مختصر فاصلے کی دوڑ نہیں۔‘

    اور انھوں نے کہا کہ یہ ‘بہت بڑی غلط فہمی’ ہے کہ سوئیڈن نے وبا کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

    سوئیڈن نے عوامی اجتماعات کو 50 لوگوں تک محدود کر دیا ہے جبکہ نرسنگ ہومز کا دورہ کرنے پر پابندی عائد ہے۔

    لیکن پڑوسی سکینڈی نیویئن ممالک کے برعکس سوئیڈن میں اموات کی شرح زیادہ ہے اور یہاں 2000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ناروے میں یہ تعداد 193 ہے۔

    انھوں نے کہا: ‘مجھے لگتا ہے کہ ہر ملک کو اپنے اقدامات لینے چاہییں لیکن یہ خوف حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر آپ بہت سخت اقدامات کریں گے تو انھیں ہر وقت برقرار نہیں رکھا جا سکتا، ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس کے ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑے اور لوگ ان تجاویز پر عمل نہیں کریں گے جن پر طویل عرصے تک عمل کرنا ہوگا جب تک کہ ویکسین نہیں بن جاتی اور وبا کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔

    انھوں نے کہا کہ ‘صورتحال کو مزید تناؤ میں نہیں ڈالنا چاہتے۔’

  9. کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس ہم میں سے ہر شخص کو مختلف انداز میں متاثر کرتا ہے۔ کچھ لوگ اس سے فوراً صحتیاب ہوجاتے ہیں اور کچھ پر یہ طویل مدتی اثرات مرتب کرتا ہے۔

    آپ کووِڈ-19 سے سنگین انداز میں متاثر ہوں گے یا نہیں، اس کا تعلق عمر، صنف اور دیگر طبی مسائل سے بھی ہے۔

    اب یہ بات اچھی طرح ہمارے علم میں ہے کہ اس کی بنیادی علامات کھانسی یا بخار ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو پٹھوں میں درد ہونے لگتا ہے۔ ان معتدل علامات کے حامل لوگ تیزی سے مکمل طور پر صحتیاب ہوسکتے ہیں۔

    مگر کچھ لوگوں میں مزید سنگین علامات پیدا ہوسکتی ہیں جن میں سانس لینے میں دشواری شامل ہے۔ انھیں ہسپتال میں مصنوعی تنفس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ڈاکٹر سارہ جارویس کا کہنا ہے کہ ان علامات سے صحتیاب ہونے میں دو سے آٹھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ہر 20 میں سے ایکشخص کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑے گی جس میں نیند کی دواؤں کے ساتھ وینٹیلیٹر پر رکھنا شامل ہے۔

    اور بیماری چاہے کوئی بھی ہو، انتہائی نگہداشت کے یونٹ سے مکمل طور پر بحال ہو کر نکلنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے۔

    ڈاکٹر ایلیسن پیٹارڈ کا کہنا ہے کہ انتہائی نگہداشت میں وقت گزارنے کے بعد زندگی کو معمول پر آنے میں 12 سے 18 ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

  10. جرمنی میں لاک ڈاؤن اٹھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

    کورونا، جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمن وزارتِ خارجہ کے اہلکار اینڈریاس میکائیلیس نے بی بی سی کے اینڈریو مار کو بتایا کہ جرمنی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے اولین اقدامات میں سے ایک یہ ہوگا کہ مخصوص عمر کے بچوں کو سکول واپس بھیجا جائے اور غیر اہم دکانوں کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔

    دیگر اقدامات میں کونٹیکٹ ٹریسنگ یعنی ان لوگوں کی نشاندہی کے لیے ایپ متعارف کروانا ہے جو کورونا سے متاثر کسی شخص سے رابطے میں آئے ہو۔ اس کے علاوہ ضلعی سطح پر عملے کی بھرتی بھی اس میں شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ یہ آگے بڑھنے کا ایک محتاط طریقہ ہے اور یہ دیکھنے کا کیا ہم اب بھی کووِڈ-19 کے انفیکشن کی شرح میں ایک کے عدد سے نیچے رہ سکتے ہیں۔‘

    ‘ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں ہر 20 ہزار لوگوں کے لیے پانچ افراد کی ٹیم بنانی ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف بیویریا کی ریاست میں ہی ہمیں 650 ٹیمیں چاہیے ہوں گی جو کہ آسان نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ ایپ اس مرحلے میں داخل ہونے میں مدد کرے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات بھی لینے ہوں گے۔

  11. انفیکشن پھیلنے کی شرح کی کیا اہمیت ہے؟, ڈیوڈ شکمین، سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز

    برطانیہ، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر کی حکومتیں جس عدد کے بارے میں فکرمند ہیں، وہ انفیکشن کی شرح ہے جسے ‘آر نمبر’ بھی کہا جاتا ہے۔

    گذشتہ ماہ برطانیہ میں جن لوگوں کو وائرس تھا وہ اسے اوسطاً تین دیگر افراد میں پھیلا رہے تھے۔

    اب لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات کے سبب یہ شرح اندازاً 0.7 تک پہنچ گئی ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ یہ عدد ایک سے نیچے ہے۔ اس سے بلند ہونے کا مطلب ہوگا کہ انفیکشن کا شکار فرد یہ وائرس ایک سے زائد افراد میں پھیلا رہا ہے اس سے انفیکشن کی شرح ایک مرتبہ پھر خوفناک حد تک بلند ہوسکتی ہے۔

    فی الوقت امپیریئل کالج لندن کے اندازوں کے مطابق لوگوں کو عوامی اجتماعات کی اجازت دینے سے اس عدد میں 0.6 کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

    لیکن ان کا خیال ہے کہ سکول کھولتے ہوئے بھی اس سے نیچے رہنا ممکن ہوگا۔ اس سے اس تعداد میں 0.2 کا اضافہ ہوگا مگر اس کے متعلق کافی غیر یقینی کیفیت ہے۔

    کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ ایک گھر سے دوسرے گھر تک وائرس پھیلانے میں بچوں کا کیا کردار ہے۔ حکومت کے ایک مشیر نے اسے ‘سب سے بڑے تحقیق طلب سوالات میں سے ایک’ قرار دیا۔

  12. ’امیونیٹی پاسپورٹ‘ کورونا کی وبا کو پھیلا سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او

  13. 'برطانیہ کی 10 فیصد تک آبادی کے کورونا سے متاثر ہونے کا خدشہ'

    کورونا

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹوف فریزر نے بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت تک اندازہ یہ ہے کہ تین سے لے کر 10 فیصد تک کی آبادی کورونا وائرس سے متاثر ہوئی ہے جو کہ 60 لاکھ افراد تک بنتی ہے۔

    پروفیسر فریزر ایک ایسی ایپ کی تیاری میں مصروف ہیں جو کووِڈ-19 کے متاثرین سے رابطے میں آنے والے لوگوں کی نشاندہی کرنے میں مدد کرے گی۔

    پروفیسر فریزر نے کہا کہ یہ ایپ اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد دے گی جس میں مرض کی 50 فیصد منتقلی ان لوگوں سے ہو رہی ہے جو اب تک متاثر تو ہوئے ہیں، لیکن ان میں علامات ظاہر نہیں ہو رہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کورونا کی علامات کے حامل شخص سے رابطے میں آئے گا تو یہ سوفٹ ویئر انھیں خبردار کر دے گا جس صورت میں انھیں سخت تر سماجی دوری اختیار کرنی ہوگی۔ اور اگر وہ کسی مصدقہ مریض سے رابطے میں آئے تو انھیں خود ساختہ تنہائی میں جانا ہوگا۔

  14. کورونا وائرس: 16 دن میں ایک لاکھ اموات

    کورونا، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رواں سال 11 جنوری کو جب چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے سبب پہلی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی، تو اس کے بعد ایک لاکھ افراد کی ہلاکت میں 90 روز لگے۔

    لیکن صرف 16 دن کے بعد ہی یہ تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

    اس وقت امریکہ اس مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں 53 ہزار 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    کئی ہفتوں تک اٹلی یورپ میں اس وبا کا مرکز رہا اور وہاں اب تک 26 ہزار 384 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور اب یہ 'دوسرے مرحلے' کی بات کر رہا ہے جس میں معاشرے کو بتدریج دوبارہ کھولا جا سکے۔

    سپین، فرانس اور برطانیہ وہ دیگر ممالک ہیں جہاں اموات کی تعداد 20 ہزار سے اوپر ہے۔

    سپین میں 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو چھ ہفتوں میں پہلی مرتبہ آج باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    فرانس کے وزیرِ اعظم ایڈورڈ فلیپے نے کہا ہے کہ وہ منگل کو لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔

    بیلجیئم سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں یوں شامل ہے کہ وہاں ہر ایک لاکھ میں سے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ تعداد سپین میں 4.9 اور امریکہ میں 1.6 ہے۔

    مگر کئی ممالک کے برعکس بیلجیئم نے کیئر ہومز میں مبینہ طور پر کورونا وائرس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کو بھی ریکارڈ کیا ہے جبکہ کئی ممالک نے کافی بعد ان کی اطلاع دی۔

    ایشیائی ممالک میں اب تک سات ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور لاطینی امریکہ میں بھی تعداد اس کے لگ بھگ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں 8800 سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ افریقہ میں یہ تعداد ابھی 1350 کے قریب ہے۔

  15. سپین: چھ ہفتے بعد بچوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپین کی وزارت صحت کے مطابق اتوار کے روز ملک میں کورونا وائرس سے 288 افراد ہلاک ہوئے ہیں جواب تک ملک میں اس ماہ میں روزانہ کی بنیاد پر پونے والی ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے۔

    سپین میں اب تک کورونا سے 23190 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو امریکہ اور اٹلی کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں جبکہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 207634 ہے۔

    دوسری جانب ملک میں چھ ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن میں آج(اتوار) کے روز نرمی کرتے ہوئے پہلی بار بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔

  16. اٹلی: چار مئی سے ملک کی پیداواری صنعت کو کھول دیا جائے گا

    اٹلی چار مئی سے ملک کی پیداواری صنعت کو دوبارہ سے کھول رہا ہے جبکہ سکول ستمبر میں کھولے جائیں گے۔

    وزیراعظم گیوزیپے کونٹے نے اٹلی کے اخبار لا ریپبلیکا کو بتایا: ’ہم ن دنوں چار مئی سے پیداواری صنعت اور تعمیراتی کام کھولنے کی اجازت دینے پر کام کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں آئندہ ہفتے کے آغاز میں بتا دیا جائے گا۔

    کورونا وائرس سے اب تک اٹلی میں 26384 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں متاثرین کی تعداد 195,351 ہے۔

    گیوزیپے کونٹے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  17. سابق کرکٹرز موجودہ کھلاڑیوں کو ویڈیو لنک پر گر سیکھائیں گے

  18. کورونا وائرس آپ کے جسم کے ساتھ کرتا کیا ہے؟

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس گذشتہ برس دسمبر میں سامنے آیا لیکن اب کوویڈ-19 عالمی وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

    یہ وائرس جسم پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں لوگ ہلاک کیوں ہو رہے ہیں اور اس بیماری کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

  19. اسرائیل میں چھوٹی دکانیں کھول دی گئیں

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسرائیل نے اتوار کے روز کچھ کاروباروں کو اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے اور کہا ہے کہ سکول دوبارہ کھولنے پر بھی غور کیا جائے گا۔

    گلیوں تک رسائی رکھنے والی دکانیں کھولنے کی اجازت ہے لیکن شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند رہیں گی۔

    نئی ہدایات کے مطابق ریستورانوں کو کھانا ڈیلیور کرنے کے ساتھ اب ٹیک اوے کی بھی اجازت ہے۔

    اسرائیل میں کورونا وائرس سے اب تک 199 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 15398 ہے۔

  20. بریکنگ, ووہان: کورونا کے تمام مریض ہسپتال سے ڈسچارج

    ووہان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کا شہر ووہان جہاں سے کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا، کے ہسپتالوں میں اب اس وائرس کا کوئی بھی مریض موجود نہیں ہے۔

    نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان کے مطابق کورونا کے آخری مریض کا ’علاج‘ جمعے کے روز کر دیا گیا تھا۔

    انھوں نے یہ تصدیق بھی کہ شہر میں کورونا وائرس کے کوئی نئے کیس نہیں ہیں۔

    دسمبر میں اس وبا کے آغاز سے چین نے کورونا وائرس کے 82816 کیس رپورٹ کیے جبکہ اموات کی تعداد 4632 رہی۔ ووہان سے 46452 متاثرین رپورٹ ہوئے جو کہ چین میں کورونا کے کل مریضوں کی تعداد کا 56 فیصد بنتا ہے۔