روس میں کورونا وائرس سے متاثرہ 1667 نئے کیسز
روس میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 1667 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس طرح اس وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 13584 ہو گئی ہے۔
روس میں کورونا وائرس سے اب تک 106 ہلاکتیں جبکہ 1045 صحتیاب ہوئے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ نو ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ایسٹر کی تقریبات مختلف انداز میں جاری ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ملک میں کرفیو میں ’غیر معینہ مدت‘ تک توسیع کر دی گئی ہے۔
روس میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 1667 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس طرح اس وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 13584 ہو گئی ہے۔
روس میں کورونا وائرس سے اب تک 106 ہلاکتیں جبکہ 1045 صحتیاب ہوئے ہیں۔
انڈیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اچانک لگائے گئے 21 روزہ لاک ڈاؤن سے لاکھوں بچوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔
سب کام کاج رک جانے سے روزانہ دسیوں ہزاروں بچے ہیلپ لائنز پر کال کر رہے ہیں جبکہ کئی ہزار بھوکے سو رہے ہیں۔
انڈیا میں بچوں کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ (47 کروڑ 20 لاکھ) ہے۔ بچوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس لاک ڈاؤن نے غریب خاندانوں کے لگ بھگ چار کروڑ بچوں کو متاثر کیا ہے۔
ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو دیہی علاقوں کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بچے بھی جو شہروں میں کچرا چننے کا کام کرتے ہیں یا سڑکوں پر لگے اشاروں پر غبارے، قلم اور دیگر چیزیں فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔
جان ہاپکنز یونی ورسٹی دنیا بھر میں کووڈ 19 کے مصدقہ مریضوں اور ہلاکتوں کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کر رہی ہے اور اسے سب سے معتبر حیثیت حاصل ہے۔
انھوں نے اس پر مزید کام کرتے ہوئے دنیا بھر میں اموات کی شرح کا جائزہ لیا ہے۔
کووڈ-19 وائرس دنیا بھر میں کیا تباہی لا رہا ہے، اسے جاننے کا ایک طریقہ شرح اموات ہے۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کی شرح اموات کے تناسب میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
اس فرق کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:
1۔ جن افراد پر ٹیسٹ کیے گئے ان کی تعداد میں فرق: زیادہ ٹیسٹنگ کرنے سےان افراد کی شناخت بھی ہو جاتی ہے جن میں وائرس کی کم علامات ظاہر ہوں۔
2۔ آبادیات: مثال کے طور پر عمر رسیدہ آبادی میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔
3۔ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی خصوصیات: مثال کے طور پر اگر ہسپتال مریضوں سے بھر جائیں اور ان میں وسائل کم ہونے کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
4۔ دوسرے عوامل جو ابھی تک نامعلوم ہیں۔
نیچے دیئے گئے چارٹ میں دنیا بھر میں کووڈ-19 سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شرح اموات دکھائی گئی ہیں۔
سب سے اوپر وہ ممالک ہیں جہاں آبادی یا تصدیق شدہ کیسز کے تناسب سے شرح اموات زیادہ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں باقی ممالک سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
ہسپتالوں میں زیرِ علاج کورونا وائرس کا شکار مریض حفاظتی ماسکوں کے پیچھے چھپے اپنے مسیحاؤں کی شناخت سے بےخبر ہیں۔
نرسوں اور ڈاکٹروں کے لیے بھی اپنی مسکراہٹ سے پریشان حال مریضوں کی دل جوئی ممکن نہیں رہی۔
لیکن امریکی میں طبی عملے نے اس مشکل کا حل ڈھونڈ نکالا ہے اور اب وہ حفاظتی لباس پر اپنی مسکراتی ہوئی تصاویر لٹکائے نظر آتے ہیں۔
سین ڈیاگو کے ہسپتال میں سانس کے معالج روبرٹینو روڈریگو یہی تکنیک استعمال کررہے ہیں۔
ایک انسٹاگرام پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں چہرے کو ڈھانپ کر کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے اپنے مریضوں کے لیے برا محسوس ہوگا۔‘
ان کی تقلید کرتے ہوئے کئی دوسرے طبی کارکنوں نے بھی ڈاکٹر روبرٹینو کو اپنی تصاویر بھیجی ہیں۔
برطانوی حکومت نے کورونا وائرس کے مریضوں کی مدد کے لیے ہزاروں نئے وینٹیلیٹرز خریدنے کے آرڈر دیے ہیں۔
ایسے مریض جن میں کورونا وائرس کے شدید اثرات پائے گئے ہوں ان کے لیے وینٹیلیٹر زندگی بچانے کی ایک بہتر امید فراہم کرتا ہے۔
وینٹیلیٹر کیا ہوتا ہے اور یہ کیا کرتا ہے؟ مزید پڑھیے
ایپل اور گوگل مشترکہ طور پر ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں جو صارفین کو کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے کی صورت میں ایک الرٹ جاری کرے گی۔
دونوں کمپنیوں کا ماننا ہے کہ وہ ایسا طریقہ کار اپنا رہے ہیں جس میں رضاکارآنہ طور پر شرکت کرنے والے صارفین کے پرائیویسی خدشات کا خیال رکھا جائے گا۔
یہ منصوبہ سمارٹ فون میں موجود بلیوٹوتھ سگنلز کا استعمال کرتے ہوئے یہ پتہ لگائے گا کہ کیا اس فون کا مالک حال ہی میں کسی ایسے شخص کے ساتھ رابطے میں تھا جسے کورونا وائرس کا خدشہ ہو۔
اگر بعد میں ان دونوں افراد میں سے کسی ایک میں بھی کووڈ-19 وائرس کی تشخیص ہو جاتی ہے تو فون کے اصل مالک کو انتباہ بھیجا جائے گا۔
اس دوران جی پی ایس یا کوئی اور ذاتی معلومات ریکارڈ نہیں کی جا سکے گی۔
امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ برائے جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے طالبان کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔
اپنی ٹویٹ میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ برائے جنوبی اور وسط ایشیائی امور کا کہنا تھا ’ہم کووڈ-19 کے خلاف آگاہی کے لیے طالبان کی کوششوں اور ان کی جانب سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز اور بین الاقوامی تنظیموں کو محفوظ راستے فراہم کرنے کی پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘
جنوبی نصف کرہ پر واقع ممالک میں سے برازیل وہ پہلا ملک ہے جہاں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزارسے زیادہ ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق برازیل میں اب تک کم از کم 1068 اموات جبکہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 19789 ہے۔
اگرچہ بیشتر ریاستی گورنروں نے قرنطینہ کے سخت اقدامات نافذ کر رکھے ہیں لیکن دوسری جانب برازیل کے صدر جائر بولسنارو ان پابندیوں کو مسلسل چیلنج کرتے آ رہے ہیں۔
محکمہِ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ ہفتوں تک اس وبا کے پھیلنے کی توقع نہیں ہے۔
جنوبی امریکہ سے بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن کے مطابق ’خدشہ ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ قابو سے باہر ہو سکتا ہے، خاص طور پر فاویلاس جیسے غریب علاقوں میں جہاں اتنی آبادی رہائش پذیر ہے کہ وہاں معاشرتی دوری پر عمل درآمد مشکل ہے اور ساتھ ساتھ صفائی کا بھی فقدان ہے۔‘
امریکہ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جہاں کورونا وائرس کے نتیجے میں ایک ہی دن میں 2000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2108 افراد ہلاک ہوئے جبکہ وہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد نصف ملین سے زیادہ ہو گئی ہے۔
ان اعدادوشمار کے ساتھ امریکہ جلد ہی اٹلی کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ یاد رہے اب تک کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد اٹلی میں ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کووڈ ۔19 ٹاسک فورس میں شامل ڈاکٹر ڈیبورا برکس کے مطابق پورے ملک میں وبا کی صورتحال مستحکم ہونا ایک اچھی علامت ہے۔
لیکن ساتھ ہی متنبہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ابھی عروج پر نہیں پہنچے ہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں توقع ہے امریکہ میں 100000 اموات کی پیش گوئی کے مقابلے میں کم ہلاکتیں ہوں گی۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن جیسی پابندیاں جلدی ہٹا لی گئیں تو کورونا وائرس کی وبا ’تبا کن حد تک دوبارہ نمودار‘ ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ تمام ممالک کو پابندیوں میں نرمی لانے کے بارے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک اٹلی اور سپین کچھ اقدامات میں نرمی کر رہے ہیں جبکہ دونوں ملکوں میں لاک ڈاؤن ابھی جاری ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 16 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر ترکی نے اپنے 31 شہروں میں دو دن کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
ملک کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ دارالحکومت انقرہ اور استنبول سمیت ان شہروں میں رہنے تمام افراد کو جمعے کی رات سے اپنے گھروں میں ہی رہنا ہوگا۔
ترکی میں کورونا وائرس سے اب تک 1006 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 47029 ہے۔
یمن میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کے بعد امدادی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ برسوں کی خانہ جنگی نے یہاں صحت کے نظام کو تباہ کردیا ہے۔
آکسفیم نے کہا ہے کہ یہ ایک ’تباہ کن دھچکا‘ ہے جبکہ بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے اسے ’ڈراؤنے خواب کا منظر‘ قرار دیا ہے۔
یمن دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے جہاں لاکھوں افراد خوراک کے لیے امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
یمن میں ہیضہ، ڈینگی اور ملیریا سمیت مختلف بیماریاں موجود ہیں اور ملک کے صرف آدھے ہسپتال ہی مکمل طور پر فعال ہیں۔
اٹلی کے وزیراعظم نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 3 مئی تک توسیع کر دی ہے۔
اٹلی میں کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن پہلی بار 9 مارچ کو 3 اپریل تک نافذ کیا گیا تھا جس میں بعد ازاں 13 اپریل تک توسیع کر دی گئی۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے انسانی زندگیاں بچانے کے لیے بہت زیادہ پیش رفت دیکھی ہے۔
بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ غم اور تکلیف کے دوران ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ ہماری جارحانہ سٹریٹیجی لاتعداد زندگیاں بچا رہی ہے۔
یہ کہتے ہوئے کہ ہلاکتوں کی تعداد خوفناک تھی ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے مقابلے میں بہت سی جانیں بچا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ کتنا ہو گا لیکن لگتا یہ ہے کہ یہ تعداد ایک لاکھ سے کم ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ابتدا میں جتنا بتایا اور خیال کیا گیا تھا اس سے بہت کم ہے۔
صدر نے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ یہ تعداد کم سے کم ایک لاکھ اور دو لاکھ 20 ہزار تک ہو گی اور اگر ہم کچھ نہ کرتے تو یہ تعداد 22 لاکھ تک ہو سکتی تھی۔
فرانس میں کورونا وائرس سے مزید 987 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ملک میں اموات کی کل تعداد 13197 ہو گئی ہے۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتوں میں فرانس کا تیسرا نمبر ہے جبکہ پہلے نمبر پر اٹلی اور دوسرے نمبر پر سپین ہے۔
امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک فرانس میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 118000 ہے۔
انگلینڈ میں نرسنگ آفس کی سربراہ روتھ مئے نے اپنے پیغام میں عوام سے کہا ہے کہ اگرچہ ایسٹر کے موقع پر گھروں میں رہنا مشکل ہے لیکن یہ کرنا بہت اہم ہے۔
انھوں نے کہا کہ لوگوں کو نیشنل ہیلتھ سروس کے سٹاف کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔
اٹلی میں جمعے کو ایک مرتبہ پھر امید کی ہلکی سی کرن نظر آئی جب دوبارہ سے ملک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی یومیہ تعداد کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 570 افراد ہلاک ہوئے جمعرات کو یہ تعداد 971 تھی جبکہ ملک میں اب تک کل ہلاکتوں کی تعداد 18849 ہو چکی ہے۔
ملک میں بدترین دن 28 مارچ کا تھا جب 971 افراد ہلاک ہوئے۔
شہری تحفظ کے ادارے کے مطابق ملک میں کل مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ لمباردے کا ہے جہاں 10238 افراد اس وائرش کا نشانہ بنے۔
لیکن اٹلی جہاں دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہاں امید یہ ظاہر کی جا رہی ہے کہ حالیہ اعداد و شمار اس بات کا اشارہ ہیں کہ ملک وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کے بدترین وقت کے گزر گیا ہے۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔