برطانیہ کی وزیر داخلہ پریٹی پٹیل پہلی بار کورونا وائرس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے برطانیہ کے محکمہ صحت این ایچ ایس کو خراج تحسین پیش کیا ہے، جو بہادری سے اس وبا کے خلاف لڑ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ افسوسناک خبر ہے کہ اس وبا سے برطانیہ کی ہسپتالوں میں مزید 917 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق کل مرنے والوں کی تعداد 9،875 ہو چکی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران پریٹی پٹیل کے ساتھ نیشنل پولیس چیفس کونسل کے چیئرمین مارٹن ہیوٹ اور این ایچ ایس کے پروفیسر سٹیفن پووس بھی موجود تھے۔ وزیر داخلہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت بھی کیا۔
پریٹی پٹیل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کی طبیعت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
انھوں نے اس وائرس کے تباہ کن اثرات سے متعلق بات کی۔
وزیر داخلہ کے مطابق لوگوں کے گھروں میں رہنے کی وجہ سے جرائم میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم کچھ لوگ ابھی بھی خطرے کا شکار ہے۔
ان کے مطابق فراڈیے اس وائرس کی آڑ میں لوگوں سے پہلے ہی 1.8 ملین پاؤنڈز سے زیادہ رقم لوٹ چکے ہیں۔
ان کے مطابق پولیس کو ابھی گھریلو تشدد جیسے واقعات میں اضافے کی شکایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ تاہم ایسے واقعات کے متاثرین ہاٹ لائن پر شکایت درج کرا سکتے ہیں۔
اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے جرائم کے شکار افراد کے لیے گھر محفوظ ٹھکانہ نہیں ہوتا ہے۔
وزیر داخلہ نے لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کے کردار کی خصوصی تعریف کی ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے لوگوں سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کا کہا ہے تاکہ پولیس ہر طرح کے جرائم سے نمٹ سکے۔
پولیس چیفس کونسل کے چیئرمین کے مطابق اس ایسٹر کے اختتام ہفتہ کے احساسات ہم سب کے لیے مختلف تھے۔
ان کے مطابق قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نئے خطرات مول لے رہی ہے۔
ان کے مطابق پولیس اب بھی جرائم کا مقابلہ اسی طرح کر رہی ہے۔
ان کے مطابق سماجی دوری کے اصول پر عمل پیرا کرانے کے لیے پولیس مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انھوں نے عوام سے یہ اپیل کی ہے کہ جرائم سے متعلق تفصیلات پولیس کوضرور بتائیں۔
ان کے مطابق لاک ڈاون کے دوران 37 سکیورٹی فورسز کے جمع کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 1،087 جرمانے ایسے افراد پرعائد کیے گئے ہیں جنھوں نے ضابطہ کار کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔