آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

متاثرین 12 لاکھ سے زائد، اٹلی میں شرح اموات دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 12 لاکھ 37 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار سے زائد ہے۔ اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 525 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی اموات کی کم ترین سطح ہے۔

لائیو کوریج

  1. بورس جانسن کی حزبِ اختلاف کو مل کر کام کرنے کی دعوت

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ایک خط میں حزبِ اختلاف کے تمام رہنماؤں سے قومی ایمرجنسی کے دنوں میں مل کر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔

    انھوں نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ اب تک کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے آپ کو آگاہ کروں اور آپ سے اس حوالے سے رائے بھی جانوں۔‘

  2. بریکنگ, دنیا بھر میں اموات 59 ہزار سے تجاوز کر گئیں, اموات: 59140 متاثرین: 1123024

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے زیادہ ہے۔

    181 ممالک کو متاثر کرنے والی اس بیماری سے اب تک دو لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  3. بریکنگ, سپین میں مزید 809 اموات

    تین ہفتوں سے لاک ڈاؤن میں رہنے والے ملک سپین میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 809 ہلاکتیوں ہوئیں جس سے ملک میں اس وبا کے آغاز کے بعد سے کل اموات 11744 ہو گئی ہیں۔

    اب تک ملک میں متاثرین کی کل تعداد 124736 ہو چکی ہے جو کہ اٹلی سے بھی زیادہ ہے۔

    سپین اس عالمی وبا کے پھیلاؤ میں کمی کا خواہاں ہے اور گذشتہ تین دنوں میں میں پہلی مرتبہ اموات 900 سے نیچے آئی ہیں۔

    • کیا آپ بھی آئسولیشن میں بوریت کا شکار ہیں؟

      اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو گلوکارہ میڈونا سمیت دنیا بھر میں کئی لوگوں سے خوش اور مستعد رہنے کے طریقے سیکھیے۔

    • کورونا وائرس: جنوبی کوریا میں پابندیوں میں توسیع

      جنوبی کوریا کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر سماجی دوری کے حوالے سے بنائے گئے قواعد میں دو ہفتوں کی توسیع کی گئی ہے۔

      حاکم کے مطابق ملک میں کورونا وائرس فی الحال سست رفتار سے پھیل رہا ہے۔

      جنوبی کوریا کے وزیرِ صحت پارک نیونگ ہو کا کہنا تھا کہ ملک میں لگائی گئی پابندیاں اس وقت تک نرم نہیں کی جائیں گی جب تک نئے کیسز کی تعداد 50 یا اس سے کم نہ ہو جائے۔ سنیچر کے روز حکام کے مطابق 94 نئے کیس رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں کل کیسز 10156 جبکہ اموات 177 ہو گئی ہیں۔

      جنوبی کوریا میں لوگوں کو 19 اپریل تک ایک دوسرے سے چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے اور مجمعوں والی جگہوں سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔

      تاہم متعدد ممالک کے برعکس یہاں لاک ڈاؤن کے باوجود ریستوران اور دوکانیں کھلی ہیں۔

      صحت کے ماہرین نے جنوبی کوریا کے کورونا وائرس مخالف اقدامات کی تعریف کی ہے تاہم وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ ’ابھی سے معمول پر آنا قبل از وقت ہو گا۔‘

    • عالمی ادارہ صحت افریقہ کے ڈائریکٹر کی فرانسیسی ڈاکٹر کے بیان کی مذمت

      ہم نے کل ایک فرانسیسی ڈاکٹر جین پال میرا پر نسلی تعصب پھیلانے کے الزامات کے حوالے سے خبر دی تھی۔

      انھوں نے کہا تھا کہ ویکسین کے ٹیسٹ افریقہ میں ہونے چاہییں ’جہاں کوئی ماسک، کوئی علاج موجود نہیں ہے۔‘

      انھوں نے کہا تھا کہ ’جیسے کے ایڈز کے حوالے سے کی جانے تحقیق میں بھی ہوا تھا۔ ہم ان ویکسینز کو سیکس ورکرز میں آزماتے تھے کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ یہ حفاظتی تدابیر نہیں اٹھاتیں۔‘

      اب عالمی ادارہ صحت کے افریقہ کے ریجنل ڈائریکٹر نے اس بیان کی مذمت کی ہے۔

    • کورونا: امریکہ میں اموات، متاثرین میں ریکارڈ اضافہ

      امریکہ میں کورونا وائرس کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 1100 سے زائد جبکہ ایک دن میں ملک میں 30 ہزار سے زیادہ متاٰٰثرین سامنے آ چکے ہیں۔

      اب تک ملک میں ریاست نیویارک سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جہاں جمعہ کے روز 2935 ہلاکتیں ہوئیں۔ ریاست کے گورنر اینڈریو کوؤمو پہلے ہی ملک کے دوسرے حصوں سے امداد کی اپیل کر چکے ہیں۔

      جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک امریکہ میں 278458 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ یہاں اموات کی کل تعداد 7000 سے زیادہ ہے۔

    • انڈیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ 478 متاثرین, متاثرین: 2902 ہلاکتیں: 68

      انڈیا میں وزارتِ صحت کے مطابق اب تک انڈیا میں کووڈ19 سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2902 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں اب تک اس وائرس سے 68 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

      گذشتہ تین دنوں میں انڈیا میں کورونا وائرس کے متاثرین دگنے ہو گئے ہیں۔ انڈیا میں اس وقت کل متاثرین میں سے 25 فیصد کا تعلق دلی کی ایک تبلیغی جماعت سے ہے۔

      وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 478 کیسز سامنے آئے ہیں جو اب تک ملک میں ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔ جبکہ 183 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

    • ’گھر رہیں، محفوظ رہیں‘

      انڈیا کی ریاست اڑیسا کے ریاستی دارالحکومت بھوبانیشور میں ریت سے فن پارے بنانے والے سدارشن پتنیک نے معاشرے میں کورونا وائرس کے خلاف آگاہی پھیلانے کے لیے ریت کی مدد سے ایک تصویر بنائی ہے جس پر لکھا ہے کہ ’گھر رہیں، محفوظ رہیں۔‘

    • برطانیہ کی تازہ ترین صورتحال

      برطانیہ میں جمعے کے روز کورونا وائرس کے باعث اب تک کی سب سے زیادہ 684 ہلاکتیں دیکھنے میں آئیں جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 38168 ہو گئی ہے۔

      • جمعے کے روز دو نرسوں کی ہلاکت کے بعد انگلینڈ کی چیف نرسنگ افسر نے عوام سے التجا کی ہے ’خدارا اپنے گھروں میں رہیں۔‘
      • برطانیہ کے سیکرٹری صحت میٹ ہینکاک کی جانب سے رضاکاروں کو وائرس کے خلاف موجودہ دواؤں کے حوالے سے طبی آزمائش میں شرکت کرنے کی دعوت دی ہے۔
      • لیبر پارٹی نے آج اپنے نئے سربراہ کا اعلان کرنا ہے، تاہم کورونا وائرس کے باعث اس حوالے سے کوئی تقریب منعقد نہیں کی جائے گی۔
      • ملکہ برطانیہ اتوار کی شام قوم سے خطاب کریں گی۔
    • بریکنگ, کورونا متاثرین کی تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر گئی

      جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

      اب تک دنیا کے 181 ممالک میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی عالمی وبا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 58937 ہے جبکہ اب تک دو لاکھ 26 ہزار سے زائد افراد اس بیماری سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    • روسی مذہبی رہنما کا ’کورونا روکنے کے لیے‘ ماسکو کا دورہ

      روس کے آرتھوڈاکس چرچ کے سربراہ پیٹریارک کیرل نے روس کے دارالحکومت کا دورہ کیا اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مقدس تصویر کے ساتھ گلیوں میں متعدد گاڑیوں کی صورت میں لے جایا گیا۔

      یہ تصویر حضرت عیسیٰ کی والدہ مریم کی تھی جسے 109 کلومیٹر تک کالی چمک دار گاڑیوں کے جلوس میں لے جایا گیا اور یہ مناظر سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر بھی کیے گئے۔ بعد میں اسے ماسکو میں ایک گرجہ گھر میں بھی لایا گیا اور ایک مذہبی تقریب منعقد ہوئی۔

      انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق پیٹریارک کیرل نے کہا ہے کہ انھوں نے اس ڈرائیو کے ذریعے یہ دعا کی کہ کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ ہو اور روسیوں سے اپیل کی کہ وہ حکام کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کا احترام کریں۔

    • کورونا: جرمنی کا امریکہ پر ماسک ’چرانے‘ کا الزام

      یورپی ملک جرمنی کی جانب سے امریکہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ایسے دو لاکھ ماسک اپنے ملک میں استعمال کے لیے بھیج دیے ہیں جو دراصل جرمنی نے آرڈر کیے تھے۔

      جرمنی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’جدید دور کی قزاقی‘ کہا ہے۔

      برلن میں مقامی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ میں بنائے جانے والے ماسکس کی کھیپ بینکاک میں ’چھین‘ لی گئی۔

      ایف ایف پی 2 ماسک برلن پولیس فورس کے لیے آرڈر کیے گئے تھے لیکن وہ ابھی تک یہاں نہیں پہنچے۔

      برلن کے وزیر داخلہ ایندریاس گیسل نے دعویٰ کیا کہ ماسکس کو امریکہ لے جایا گیا ہے۔

      امریکی کمپنی 3M جو یہ ماسک بناتی ہے اسے اپنی طبی مصنوعات کو برآمد کرنے سے کوریائی جنگ کے دنوں میں بنائے گئے قانون کے نفاذ کے ذریعے منع کیا گیا ہے۔

    • چین میں کورونا وائرس متاثرین کے لیے تین منٹ کی خاموشی

      آج چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کے سوگ میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

      چین میں سنیچر کے روز ان 3300 لوگوں کا سوگ منایا گیا جو ملک میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

      مقامی وقت کے مطابق دس بجے ملک بھر میں لوگوں نے تین منٹ کی خاموشی اختیار کر کے ان افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

      ملک بھر میں گاڑیوں، ٹرینوں اور بحری جہازوں نے ہارن بجائے اور فضائی حملے کے پیش ہونے والے سائرن بھی بجائے گئے۔

    • کورونا: انڈونیشیا میں اموات کی شرح سب سے زیادہ کیوں ہے؟

      انڈونیشیا اس وقت جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اب تک کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 181 ہو گئی ہے جبکہ 1986 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

      اس حوالے سے پریشان کن بات یہ ہے کہ انڈونیشیا میں پوری دنیا کی نسبت اموات کی شرح سب سے زیادہ نو اعشاریہ ایک ہے۔ دنیا میں اس وقط اوسطآً یہ شرح پانچ اعشاریہ دو ہے۔

      خطے میں دیگر ممالک میں جیسے فلپائن میں اموات کی شرح چار اعشاریہ پانچ جبکہ ملائیشیا میں ایک اعشاریہ چھ ہے۔ حالانکہ دونوں ممالک میں کورونا متاثرین کی تعداد انڈونیشیا سے کہیں زیادہ ہے۔

      تاہم عالمی ادارہ صحت کی جانب سے گذشتہ روز کی جانے والی پریس بریفنگ میں مختلف ممالک میں اموات کی شرح کا موازنہ کرنے کے حوالے سے احتیاط برتنے کا کہا گیا تھا۔

      حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک میں کورونا وائرس سے 13 ہیلتھ ورکر ہلاک ہو چکے ہیں۔

      عالمی ادارہ صحت کے مطابق اموات کی شرح کا تعین ملک میں آبادی کے اوسط عمر اور اس کے صحت کے نظام سے لگایا جاتا ہے۔

      انڈونیشیا دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور ماہرین کے مطابق یہاں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم ٹیسٹنگ اور ڈاکٹروں کے پاس حفاظتی لباس کی کمی اموات میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔

    • ہدایات کے باوجود ٹرمپ ماسک نہیں پہنیں گے

      امریکہ میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے پیش نظر جاری طبی ہدایات کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چہرے پر ماسک نہیں پہنیں گے۔

      وہ کہتے ہیں کہ وہ خود کو کسی ’صدر، وزیر اعظم، آمر، بادشاہ، ملکہ‘ کو اوول آفس میں ماسک پہن کر خوش آمدید کہتا تصور ہی نہیں کر سکتے۔

      صدر ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ ان ہدایات پر عمل کرنا لازمی نہیں۔ ’ان پر عمل کرنا ضروری نہیں۔۔۔ مجھے نہیں لگتا میں ان پر عمل کروں گا۔‘

      امریکہ میں وبائی امراض کی روک تھام اور ان سے بچاؤ کے ادارے نے ہر شخص کو چہرے پر ماسک پہننے کی ہدایت جاری کی تھی۔ ملک میں کورونا وائرس کے دو لاکھ 473 مصدقہ متاثرین اور تقریباً 7000 اموات ہوچکی ہیں۔

    • برٹش ایئر ویز کے عملے کے اراکین کورونا وائرس سے متاثر

      برٹش ایئر ویز کے عملے کے اراکین میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اس وقت کورونا وائرس منتقل ہوا جب وہ طویل فلائٹس پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

      یونینز کی جانب سے ایئر لاینز کی انتظامیہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے سٹاف کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کریں۔

      تاہم برٹش ائیر لائین کے پائلٹس اور دیگر عملے کا کہنا ہے کہ ائیر لائن کی جانب سے انھیں وائرس سے بچانے کے لیے بہت سست اقدامات کیے گئے ہیں۔

      برٹش ایئر ویز کا کہنا ہے کہ فضائی عملے کی حفاظت کے لیے ماسک اور دستانے میسر تھے۔

      تاہم ایک پائلٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ حفاظتی اشیا انھیں ہمیشہ میسر نہیں ہوتیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فضائی عملہ اگر کندھے سے کندھے ملائے ہوئے ہوائی اڈوں پر بسوں میں سفر کر رہا ہوتا ہے۔

    • امریکہ میں انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے

      امریکی صدر نے اپنی بریفنگ پر اس امکان کو رد کر دیا ہے کہ وبا کی وجہ سے اس سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے شیڈیول میں کوئی تبدیلی آئے گی۔

      ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل الیکشن تین نومبر کو ہوں گے۔‘

      انھوں نے پولنگ سٹیشن پر جا کر حق رائے دہی یعنی ووٹ ڈالنے کے بجائے پوسٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے خیال کو رد کر دیا۔

      ان کا کہنا تھا کہ آپ ہوں گے جو فخر سے بوتھ پر جائیں گے اور اپنی شناخت بتائیں گے۔

      ’میل کے ذریعے وٹنگ نہیں ہونی چاہیے۔‘

      ان کا مزید کہنا تھا کہ پوسٹ کے ذریعے ہر قسم کی خرابی ہو سکتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ووٹر دھوکہ دے سکتا ہے۔

      آپ ووٹ پوسٹ کر سکتے ہیں یا پھر بذات خود ووٹ ڈالنا ہو گا اس حوالے سے مختلف ریاستوں میں پالیسی وضع کی گئی ہے۔

      اگرچہ کچھ ریاستیں غیر حاضری کی صورت میں ووٹننگ کی اجازت دیتی ہیں لیکن کچھ میں سخت ضوابط و ہدایات ہیں۔

      • اگر نیو یارک جیسی صورتحال کسی اور شہر میں ہو گئی

        ڈاکٹر برکس کا کہنا ہے کہ اگر کسی اور شہر میں نیویارک سٹی جیسی صورتحال پیدا ہوئی تو اس سے نہ صرف ڈرامائی انداز میں تبدیلی آئے گی بلکہ اس وائرس کا امریکیوں کی زندگی پر بھی گہرا اثر ہو گا۔

        دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے موجودہ ماڈل کی بنیاد پر لاکھوں لوگ مرنے جا رہے ہیں لیکن میں پرامید ہوں کہ یہ اندازےغلط ہوں گے۔

      • وبا پر کنٹرول کے لیے تیاری نہ ہونے کا الزام سابق صدر اوباما پر

        امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ امریکہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار کیوں نہیں تھا تو انھوں نے جواب میں اس کا الزام اوباما انتظامیہ پر عائد کیا۔

        ان کا کہنا تھا کہ شیلف خالی تھیں ہمارے پاس سامان نہیں تھا میڈیکل سپلائی نہیں تھی۔

        انھوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے یہ جانتے تھے کہ وبائی بیماری ایک بدترین چیز ہے جو ہو سکتی ہے۔