دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 لاکھ 95 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ عالمی سطح پر 64 ہزار
سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
برطانیہ میں ایک ہی دن میں اب تک کی سب سے زیادہ 708 اموات
ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پانچ سال کا بچہ بھی شامل تھا۔
برطانیہ کےعلاقے مڈ لینڈز سمیت دیگر علاقوں میں ہسپتالوں میں
مریضوں کی تعداد بڑھنے کے پیش نظر انگلینڈ کے صحت عامہ کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروسز
کے سربراہ نے کہا کہ کورونا کے خلاف لڑائی کا سفر طویل ہے اور انھوں نے عوام سے
جہاں تک مممکن ہو سکے گھر پر رہنے کی اپیل کی ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے کورونا کے متعلق دی جانے والی
روزانہ کی بریفنگ میں وزیر مائیکل گوو نے فائیو جی موبائل فون نیٹ ورک کے کورونا وائرس
سے منسلک سازشی نظریات کو ’خطرناک اور فضول‘ قرار دیا ہے۔
امریکہ کی ریاست نیو یارک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 630 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امداد کی توجہ زیادہ تر ان علاقوں پر
مرکوز رکھی جائے گی جو سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔
صرف نیو یارک میں اب تک 3500 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔
جبکہ اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 15000 سے بڑھ گئی ہے۔ جبکہ ملک کے شہری تحفظ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلی مرتبہ مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جو کہ ملک کے لیے ایک مثبت خبر ہے۔ جبکہ گذشتہ آٹھ دنوں سے اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
سپین میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 809 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔ اور گذشتہ تین دنوں میں یہ پہلی مرتبہ ہےکہ ہلاکتوں کی تعداد 900 سے کم رہی۔ سپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک ’انفیکشن کے عروج کو پار کرنے کے قریب ہے‘ لیکن لاک ڈاؤن کے اقدامات میں توسیع 26 اپریل تک کردی گئی ہے۔
فرانس میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی کل تعداد 7560 تک پہنچ گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں دبئی میں کورونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔