یروشلم اسرائیلی دارالحکومت: کب کیا ہوا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کیا جائے گا۔ امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’یروشلم مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر‘

    ترکی کے وزیرِ اعظم نے بھی تنبیہ کر رکھی ہے کہ ’یروشلم اسلامی دنیا کے لیے ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ غلط اقدام اٹھانے کے صورت میں ناقابلِ تلافی نتائج سامنے آئیں گے۔ ‘ ترک صدر رجب طیب اروغان نے باور کروایا کہ یہ معاملہ مسلمانوں کے لیے ’سرخ لکیر ہے۔‘

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  2. بریکنگ, ’چار دسمبر سے 20 دسمبر تک غیر ضروری سفر نہ کیا جائے‘

    یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارخانوں کو کیبل بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 20 دسمبر تک اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کا غیر ضروری طور پر سفر نہ کیا جائے۔

    روئٹرز کے مطابق کیبل میں کہا گیا ہے ’تل ابیب سفارتخانے اور یروشلم میں قونصل خانے سے استدعا ہے کہ اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کے چار دسمبر سے 20 دسمبر تک غیر ضروری سفر اختیار کرنے سے اجتنات کیا جائے۔‘

  3. بریکنگ, ’ہماری تاریخی شناخت کو پہچان مل رہی ہے‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کا ذکر تو نہیں کیا تاہم انھوں نے بدھ کو اپنی تقریر میں کہا کہ ’ہماری تاریخی اور قومی شناخت کو پہچان مل رہی ہے خاص طور پر آج۔‘

    israel

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  4. تشدد کا خطرہ

    مسلمان ممالک نے یروشلم کے اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے نتیجے میں تشدد بھڑک اٹھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    یروشلم
  5. رفع شہرمیں فلسطینیوں کا احتجاج

    یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    rafah

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  6. یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

    اسرائیلی اور فلسطینی دونوں اس 'مقدس' شہر پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں اور اس کا تنازع بہت پرانا ہے۔

    یروشلم اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بھی ہے۔ یہ شہر مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں تینوں کے نزدیک اہمیت کا حامل ہے۔

    پیغمبر حضرت ابراہیم سے اپنا سلسلہ جوڑنے والے تینوں مذاہب یروشلیم کو مقدس مقام کہتے ہیں۔.

    یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے اس شہر کا نام مسلمان، یہودیوں اور عیسائیوں کے دلوں میں آباد ہے۔ یہ شہر عبرانی زبان میں یروشلایم اور عربی میں القدوس کے نام سے معروف ہے جبکہ یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔

    اس شہر پر کئی بار قبضہ کیا گیا، مسمار کیا گیا اور پھر سے آباد کیا گیا۔ یہی سبب ہے کہ اس سرزمین کی تہوں میں ایک تاریخ موجود ہے۔

    یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  7. ترکی کی تنبیہہ

    ترکی کے صدر رجپ طیپ اردوان نے متنبہ کیا ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت مسلمانوں کے لیے خطرے کی حد کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس خطرے کی حد کے عبور ہونے کی صورت میں ترکی اسرائیل سے قطع تعلق بھی کر سکتا ہے۔

  8. بریکنگ, فلسطینیوں کا احتجاج

    امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے عندیے کے بعد فلسطینیوں نے احتجاج کیا۔ رفع شہر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی تصاویر نذر آتش کی گئیں۔

    فلسطین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  9. مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے: ایران

    یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے متوقع اعلان کو ’مسلم دنیا کے خلاف‘ ایک نیا منصوبہ قرار دیا ہے۔

    ایرانی صدر کی ویب سائٹ پر جاری کردہ پیغام کے مطابق 'آج، دشمنوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے اور انھوں نے قدس (یروشلم) کی آزادی کے عظیم مقصد کو نشانہ بنایا ہے‘۔

  10. ٹرمپ کے خلیجی ممالک کے رہنماؤں کو فون

    امریکی صدر نے منگل کو متعدد علاقائی رہنماؤں کو فون کر کے بتایا کہ وہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    سعودی عرب کے شاہ سلمان نے امریکی رہنما کو بتایا کہ ایسا کوئی بھی اقدام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا سکتا ہے۔

    سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے یا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے ’دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے۔‘

  11. ’موت کا بوسہ‘

    برطانیہ میں فلسطین کے نمائندے مینوئل حسسیان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ کی یروشلم کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی دو ریاستی حل کے لیے کی جانے والی امن کی کوششوں کے لیے ’موت کا بوسہ‘ ہے اور ’اعلان جنگ‘ جیسا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آخری تنکا ہے جو اونٹ کی کمر توڑ دے گا‘۔ انھوں نے کہا کہ 'میرا مطلب روایتی جنگ نہیں ہے بلکہ سفارت کاری کے حوالے سے جنگ ہے‘۔

  12. امریکہ پہلا ملک ہو گا

    اگر امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو وہ ریاست کے سنہ 1948 میں قیام سے لے کر اب تک ایسا کرنے والا پہلا ملک ہو گا۔

  13. بریکنگ, ’یروشلم پر فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بہت عرصے پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

    ’میرے خیال میں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہے۔ کئی صدور نے کہا کہ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن انھوں نے نہیں کیا۔‘