کنزرویٹو پارٹی کو اکثریت کی امید نہیں
بی بی سی کی پولیٹیکل ایڈیٹر لارا کونزبرگ کے مطابق حکمران جماعت کے وزرا کا کہنا ہے کہ انہیں اب یہ امید نہیں ہے کہ نتائج ایگزٹ پول میں کی گئی پیشن گوئی سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد 650 میں سے 640 سے زیادہ نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور کوئی بھی جماعت حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
بی بی سی کی پولیٹیکل ایڈیٹر لارا کونزبرگ کے مطابق حکمران جماعت کے وزرا کا کہنا ہے کہ انہیں اب یہ امید نہیں ہے کہ نتائج ایگزٹ پول میں کی گئی پیشن گوئی سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
نائجل فراج کا کہنا ہے کہ اگر جیریمی کوربن نئی حکومت کے سربراہ بنے تو انہیں سیاست میں فعال ہونا پڑے گا۔
یو کِپ پارٹی کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کے سربراہ اگر اقتدار میں آئے تو بریگزٹ ’مشکل‘ میں پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بطور کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ ٹریزا مے کی ساکھ کو ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے۔
یاد رہے کہ نائجل فراج نے بریگزٹ کے حق میں مہم چلائی تھی۔
�
لیبر پارٹی کے نائب سربراہ ٹام واٹسن نے ویسٹ برومِچ ایسٹ سے اپنی سیٹ جیت لی ہے۔ اس سے پہلے مہم کے دوران ان کی اس سیٹ پر ہارنے کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔
F4Fr7q6�
ایگزٹ پول کے سامنے آنے کے بعد نا صرف ماہرین میں بحث جاری ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ایگزٹ پول کی اس پیشن گوئی کے بعد کہ کنزویٹو پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی، ہیش ٹیگ ’ہنگ پارلیمنٹ‘ یعنی معلق پارلیمان سب سے زیادہ ٹرینڈ ہونے والا ہیش ٹیگ بن گیا ہے۔ ایک لیبر امیدوار نے اس صورتحال کا خلاصہ کچھ یوں پیش کیا:
بی بی کی پولیٹیکل ایڈیٹر لارا کونزبرگ کے مطابق لیبر پارٹی فکر مند تھی کہ شاید وہ ٹوٹنگ کی سیٹ ہار جائیں گے۔
لیکن لیبر پارٹی کی ڈاکٹر زوزینہ ایلن خان نے ٹوٹنگ کی سیٹ جیت لی ہے۔
اپنی جیت کے بعد تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ٹوٹنگ نے ٹریزا مے کو ایک پیغآم بھیجا ہے‘۔
وہ صادق خان کے میئر بننے کے بعد ان کی جگہ ممبر پارلیمان منتخب ہوئی تھیں۔
لندن میں ٹوٹنگ کے حلقے سے لیبر پارٹی کی امیدوار ڈاکٹر زوزینہ ایلن خان جیت گئی ہیں۔ وہ صادق خان کے میئر بننے کے بعد ان کی جگہ ممبر پارلیمان منتخب ہوئی تھیں۔ ان کے والد کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ ان کی والدہ پولش ہیں۔
عوام نتائج دیکھ رہے ہیں، بے چینی اور تھکاوٹ کا شکار اور نیند سے جنگ لڑ رہے ہیں۔
ٹوئٹر پر ایک صارف کیٹ سٹوو لکھتی ہیں کہ ’ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جاگتے رہنا مجبوری ہے۔ گذشتہ چند مرتبہ میں انتخاب کی رات سو گئی تھی اور صبح جاگی تو بریگزٹ ہو چکا اور ٹرمپ آچکے تھے۔‘
برطانوی انتخابات میں نتائج ابھی آنا شروع ہوئے ہیں اور اگر سوشل میڈیا پر جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ بے چینی میں سونا نہیں چاہتے۔ بی بی سی اردو کی عالیہ نازکی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’مجھے کل کام پر جانا ہے۔ لیکن سونے میں رسک ہے‘۔
عام انتخاب کے نتائج میں اب تک لیبر نے 5 جبکہ کنزرویٹو نے 1 سیٹ جیتی ہے
ایش فیلڈ سے گرین پارٹی کے امیدوار 18 سالہ اران رنگی ووٹوں کی گنتی پوری ہونے سے پہلے ہی گھر چلے گئے ہیں کیوں کہ صبح ان کا اے لیول کا امتحان ہے۔
سندرلینڈ سینٹرل سے لیبر پارٹی کی خاتون ممبر جولی ایلیئٹ کامیاب ہوئی ہیں
پاکستان میں بھی برطانوی انتخابات کے دوران ٹوئٹر پر VoteLabour# اور UKElection2017 # ٹرینڈ کرتے رہے۔
بی بی سی کی پولیٹیکل ایڈیٹر لارا کونزبرک کے مطابق ایگزٹ پول کو دیکھا جائے تو ٹریزا مے کے لیے یہ نتیجہ اچھا ثابت نہیں ہوگا۔
کنزرویٹو پارٹی کے ایک سینیئر رکن نے انہیں بتایا کہ ٹریزا مے نے مہم کے دوران غلطیاں کیں اور ’ان کو اگلے عام انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا‘۔ اگر کنزرویٹو پارٹی کو 30 یا اس سے کم سیٹوں کی برتری ملتی ہے تو اس سے ان کو بہت نقصان ہو گا۔
برطانوی انتخابات میں ووٹنگ کے بعد جاری کیے جانے والے ایگزٹ پول کے بعد پاؤنڈ کی ڈالر کے مقابلے میں قدر تیزی سے کم ہوئی ہے